Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رچرڈ برانسن خلا کا چکر لگا آئے ’نئے خلائی دور میں خوش آمدید‘

برطانوی ارب پتی رچرڈ برانسن اتوار کو نیو میکسیکو کے صحرا سے ورجن گلیکٹک راکٹ کے ذریعے خلا میں پہنچ کر کامیابی سے واپس آ گئے ہیں۔ یہ اس خلائی گاڑی کا پہلا سفر تھا جو برانسن  کی 17 برس قبل شروع کیے گئے سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق رچرڈ برانسن زمین سے 50 میل(80 کلومیٹر) باہر خلا سے ہو کر واپس آئے ہیں۔
امریکی سپیس ایجنسی ناسا اور اور امریکی ایئر فورس کے نزدیک جو شخص زمین سے پچاس میل اوپر کا سفر کرے گا وہ خلا نورد شمار ہوگا ۔ اس تعریف کے مطابق برانسن کو اب خلا نورد کہا جا سکتا ہے۔
رچرڈ برانسن ورجن گلیکٹک ہولڈنگ نامی کمپنی کے ان چھ ملازمین میں شامل ہیں جو اس خلائی سفر کا حصہ تھے، انہوں نے اس پرواز کو ایک نئے دور کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے سنہ 2004 میں یہ کمپنی قائم کی تھی اور آئندہ برس وہ اس کے ذریعے کمرشل آپریشنز شروع کرنے والے ہیں۔
70 سالہ رچرڈ برانسن نے اپنی پہلی پرواز سے واپسی کے بعد اپنے پوتوں کو گلے لگاتے ہوئے کہا کہ’ہم خلا کو زیادہ سے زیادہ قابل رسائی بنانے پر کاربند ہیں، نئے خلائی دور کے آغاز میں خوش آمدید۔‘
رچرڈ برانسن نے خلا میں ریکارڈ کی گئی اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’میں جب بچہ تھا تو ستاروں پر کمند ڈالنے کے خواب دیکھا کرتا تھا اور اب میں بڑے آدمی کے روپ میں ایک خلائی جہاز سے نیچے اپنی خوبصورت زمین کو دیکھ رہا ہوں۔‘
دو جولائی کو رچرڈ برانسن نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’میں ہمیشہ سے ایک خواب دیکھنے والا تھا۔ میری ماں نے مجھے کہا تھا کہ کبھی بھی ہمت نہ ہارنا اور ستاروں تک پہنچنا،11 جولائی کو یہ خواب ورجن گلیکٹک سپیس فلائٹ کے ذریعے حقیقت میں بدلنے جا رہا ہے۔‘
ورجن گلیکٹک کے سی ای او مائیکل کولگلیزیئر نے کہا ہے کہ وہ 2022 میں اپنے باقاعدہ خلائی آپریشن سے قبل کم از کم دو آزمائشی پروازوں کو خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک پرواز میں اٹلی کے چار زیر تربیت خلا نورد جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 600 امیر لوگوں نے خلائی سفر کے لیے بکنگ کرائی ہے اور اس وقت ایک ٹکٹ کی قیمت تقریباً  دو لاکھ 50 ہزار ڈالرز ہے۔ 
رچرڈ برانسن کا کہنا ہے کہ ’ان کا ارادہ ہے کہ خلائی سفر کے ٹکٹ کی قیمت کم کر کے 40 ہزار ڈالرز تک لائی جائے۔

رچرڈ برانسن ان چھ ملازمین میں شامل ہیں جو اس خلائی سفر کا حصہ تھے۔ (روئٹرز)

دوسری جانب سی ای اومائیکل کولگلیزیئر نے کہا ہے کہ انہوں نے اس منصوبے کی صورت میں بہت بڑا بیڑا اٹھایا ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ سالانہ 400 ایسی خلائی پروازوں کا بندوبست کریں گے۔
سوئیزلینڈ کے انوسٹمنٹ بینک یو بی ایس نے اندازہ لگایا ہے کہ 2030 تک خلائی سیاحت کی مارکیٹ کی مالیت تین بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
کیا رچرڈ برانسن اور جیف بیزوس ایک دوسرے کے حریف ہیں؟
رچرڈ برانسن کی اس کامیاب خلائی پرواز کے بعد اس میدان میں ان کے زبردست حریف سمجھے جانے والے جیف بیزوس نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’اس پرواز کے لیے مبارک باد، میں بھی اس مہم کا حصہ بننے کے لیے بے تاب ہوں۔‘

70 سالہ رچرڈ برانسن نے کہا کہ’ہم خلا کو زیادہ سے زیادہ قابل رسائی بنانے پر کاربند ہیں۔‘ (فوٹو: روئٹرز)

کچھ عرصے سے یہ تاثرعام ہے کہ خلائی مہمات پر جانے کے معاملے میں ایمزون کے سابق سی ای او جیف بیزوس اور رچرڈ برانسن کے درمیان مسابقت کی فضا قائم ہے اور اس کے لیے ایک مقبول اصطلاح ’ارب پتیوں کی خلائی دوڑ‘ بھی چلتی رہتی ہے۔
تاہم رچرڈ برانسن جیف بیزوس کو اپنا ’دوستانہ قسم کا مقابل‘ قرار دیتے ہیں۔ برانسن کے مطابق ’ہم جیف کے بہترین سفر کے لیے پر امید ہیں، وہ یقیناً خلا میں جائیں گے اور اس سفر کا لطف لیں گے۔‘
دوسری جانب خلائی سیاحت میں کردار ادا کرنے والی ایلون مسک کی کمپنی ’سپیس ایکس‘ بھی ستمبر میں سویلین ارکان پر مشتمل ایک جہاز خلا میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ سپیس ایکس اس سے قبل بھی کارگو اور خلانوردوں پر مشتمل جہاز ناسا کے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن تک بھیج چکا ہے۔

شیئر: