Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی

اقوام متحدہ کی فورس کا کہنا ہے دونوں ملکوں کو کشیدگی کم کرنے ’فوری طور پر کارروائی کرنی ہوگی‘۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے جمعے کو اسرائیلی ٹھکانوں پر راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے جوابی گولہ باری کی ہے۔
حزب اللہ نے 2019 کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیلی علاقے پر راکٹ حملہ کیا ہے جبکہ اسرائیل نے سات برس بعد لبنانی سرزمین پر پہلی مرتبہ فضائی حملہ کیا ہے۔
لبنان میں حکام نے اسرائیلی ایئر فورس کی جانب سے سرحد کے قریب واقع لبنانی گاؤں کو ہدف بنانے کے لیے کیے جانے والے فضائی حملوں کی مذمت کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی لبنان میں عبوری فورس کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے ’فوری طور پر کارروائی کرنی ہوگی‘۔
یہ فورس لبنان میں 1978 سے تعینات ہے اور سرحد پر لبنان اور اس نے اسرائیل کے 2006 سے ہونے والے تنازع کے وقت سے گشت شروع کیا ہے۔
لبنان کی جانب سے دائر ایک شکایت کے بعد، اس  فورس نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل قرارداد  1701کی خلاف ورزی پر تحقیقات شروع کی تھیں۔
قرارداد 1701 کو 2006 کی جنگ ختم کرنے کی کوشش کے طور پر اپنایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی فورس کے میڈیا دفتر کی نائب ڈائریکٹر کینڈس آرڈیل کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح ’یو این ایف آئی ایل کے اہلکاروں نے لبنان میں ٹائر، مارجیوں اور محمودیہ کے قریب زوردار دھماکے سنے تھے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ فورس کے میجر جنرل سٹیفانو ڈیل کول نے لبنانی مسلح افواج اور اسرائیل کے دفاعی فورسز کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی سربراہی کی۔ یہ اجلاس اقوام متحدہ کے راس الناقورہ میں واقع مرکز میں ہوا۔
میجر جنرل سٹیفانو ڈیل کول نے دونوں فریقین کو ’اس سہ طرفہ فورم کو استعمال کرنے کو کہا تاکہ بلیو لائن پر سکیورٹی اور استحکام کے لیے طریقے ڈھونڈے جا سکیں۔

اقوام متحدہ کی لبنان میں عبوری فورس ملک میں 1978 سے تعینات ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

واضح رہے کہ بدھ کو نامعلوم فورسز کی جانب سے لبنانی علاقے کی طرف سے تین راکٹ داغے گئے تھے جس کے بعد اسرائیلی حملے ہوئے۔
دو راکٹ اسرائیلی شہر کریاٹ شمونا پر گرے۔ اسرائیلی کی جوابی کارروائی سے فصلوں میں آگ لگ گئی تھی۔
لبنان کے صدرمشیل عون نے اسرائیلی حملوں کو ’یو این سکیورٹی کونسل قرارداد 1701 کی خطرناک حلاف ورزی اور جنوب میں سکیورٹی اور استحکام کو براہ راست خطرہ‘ قرار دیا۔

شیئر: