Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سال 2020 میں کورونا کے باعث ’ڈپریشن اور بے چینی‘ میں ایک تہائی اضافہ

تحقیق کے مطابق ان بیماریوں سے متاثر ہونے والی افراد کی تعداد میں بالترتیب 28 فیصد اور 26 فیصد اضافہ ہوا (فائل فوٹو: فری پِک)
ایک نئی اور بڑی تحقیق کے مطابق کورونا کی وبا کے پہلے سال دنیا میں ڈپریشن اور انزائیٹی یا اضطراب کی بیماری کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔ متاثرین میں زیادہ تر خواتین اور نوجوان ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق لانسٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2020 میں کورونا کی وبا کے ذہنی صحت پر اثرات بہت زیادہ رہے اور ماہرین کے اندازوں سے پانچ کروڑ 20 لاکھ زائد افراد ڈپریشن سے متاثر ہوئے جبکہ اضافی 7 کروڑ 60 لاکھ افراد اضطرابی بیماری کی لپیٹ میں آئے۔
تحقیق کے مطابق اس طرح ان بیماریوں سے متاثر ہونے والی افراد کی تعداد میں بالترتیب 28 فیصد اور 26 فیصد اضافہ ہوا۔
کورونا کے باعث دنیا میں اب تک 50 لاکھ اموات ریکارڈ کی جاچکی ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اصل ہلاکتوں سے بہت کم ہے۔
جمعے کو سامنے آنے والی تحقیق کے مطابق ایسے ممالک جو کورونا سے زیادہ متاثر ہوئے اور جہاں نقل و حرکت پر پابندیاں سخت رہیں، وہاں شہریوں کی ذہنی صحت پر زیادہ دباؤ پڑا اور ڈپریشن اور انزائیٹی کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا۔
کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں پبلک ہیلتھ سکول کے تحقیق کار دامیان سانتومارو کے مطابق ’ہماری تحقیق میں یہ نتائج سامنے لائے گئے ہیں کہ دنیا میں ڈپریشن اور انزائیٹی ڈس آرڈر سے ذہنی صحت متاثر ہونے کے باعث مینٹل ہیلتھ کے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کورونا کی وبا کے دوران مینٹل ہیلتھ سروس کی فراہمی ایک چیلنج ہے مگر اس طرف بالکل توجہ نہ دینا بھی آپشن نہیں ہونا چاہیے۔‘
اس تحقیق کے لیے شمالی امریکہ، یورپ اور مشرقی ایشیا سے ماہرین نے ڈیٹا اکٹھا کر کے تجزیہ کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر عالمی وبا نہ آتی تو ان علاقوں میں ڈپریشن کے 19 کروڑ 30 لاکھ کیسز کا اندازہ لگایا گیا تھا جو وبا کے باعث سنہ 2020 میں 24 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گیا۔
اسی طرح انزائیٹی کے دنیا بھر میں وبا سے پہلے 29 کروڑ 80 لاکھ کیسز کا اندازہ لگایا گیا تھا جو گزشتہ برس 37 کروڑ 40 لاکھ تک بڑھ گیا۔ 
تحقیق کے مطابق متاثرین میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ دنیا کے بہت سے علاقوں میں صحت کی سہولیات میں صنفی امتیاز ہے۔
دنیا میں گھریلو کام زیادہ تر خواتین کی ذمہ داری قرار پاتے ہیں اور کورونا کی وبا کے دوران خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تحقیق کے مطابق وبا کے باعث سکولوں اور کالجز کی بندش سے نوجوانوں کو گھروں تک محدود ہونا پڑا جس کے ان کی ذہنی صحت پر برے اثرات مرتب ہوئے اور وہ متاثرین میں خواتین کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔

شیئر: