Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرکٹ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسابقت کی کوئی مثال نہیں: میتھیو ہیڈن

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں اتوار کو مدمقابل ہوں گی۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے بیٹنگ کوچ اور سابق آسٹریلوی اوپنر میتھیو ہیڈن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے درمیان حریفانہ مسابقت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میتھیو ہیڈن نے آن لائن میڈیا کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ وہ کرکٹ کے ساتھ مختلف حیثت سے وابسطہ رہے لیکن پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے درمیان جیسی حریفانہ مسابقت ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 میں انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں اتوار کو مدمقابل ہوں گی۔
میتھیو ہیڈن نے کہا کہ اگر انگلینڈ نے آسٹریلیا پر حکمرانی نہ کی ہوتی تو شاید کرکٹ ان کے ساحلوں تک نہ پہنچتا۔
49 سالہ میتھیو ہیڈن نے تسلیم کیا کہ انڈیا اور پاکستان کے میچ کے دوران بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے، ہارنے والی ٹیم کو سخت عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
’انڈیا پاکستان میچ کے دوران واضح دباؤ ہوتا ہے، جیسا کہ آپ آسٹریلوی ہوتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف کھیل رہے ہوں۔ لیکن دباؤ اتنا ہی ہوتا ہے جتنا آپ خود کو لینے کی اجازت دیں۔‘
ورلڈ کپ ٹی20 کے  سپر 12 مقابلے سنیچر سے شروع ہوں گے۔
گزشتہ ہفتے میتھیو ہیڈن کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔
میتھیو ہیڈن نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوالے سے کہا کہ ’موڈ بہت اچھا ہے، ٹیم میں سب کے آپس میں تعلقات مضبوط ہیں اور کھلاڑی بہت خوش اور پرسکون نظر آتے ہیں باوجود واضح دباؤ کے جو پہلے میچ سے ہی شروع ہو جائے گا۔‘
گزشتہ ہفتے عرب امارات میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ کے میچز کے دوران میتھیو ہیڈن  کمنٹری ٹیم کا حصہ بھی تھے۔

میتھیو ہیڈن کے خیال میں بابر اعظم پر بطور کیپٹن اضافی دباؤ ہوگا۔ فوٹو اے ایف پی

میتھیو ہیڈن کا کہنا ہے کہ انڈین کھلاڑی ’کے ایل راہول پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔‘ میتھیو ہیڈن کے خیال میں پاکستانی کپتان بابر اعظم پر بطور کیپٹن اور بیٹسمین اضافی دباؤ ہوگا۔
’بابر اعظم ہمارے خاص کھلاڑی ہیں اور انہیں نشانہ بھی بنایا جائے گا جیسا کہ کرس گیل کہتے ہیں کہ ہر کوئی انہیں اپنی جیب میں ڈالنا چاہتا ہے۔‘
انہوں نے کہ ’پاکستان اور انڈیا کا میچ یقیناً سخت مقابلہ ہوگا اور غلطی کا مارجن بھی بہت کم ہوتا ہے، اس لیے اچھی لیڈر شپ انتہائی اہم ہے اور بابر اس کردار پر پورا اترتے ہیں اور انہیں یہ کردار ادا کرنے کی ضرورت بھی ہے۔‘

شیئر: