Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا تحریک انصاف ن لیگ کے پراجیکٹس پر تختیاں لگا رہی ہے؟

حسان خاور کا کہنا ہے کہ یہ پراپیگنڈے کا نیا طریقہ ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ یہ لوگ ہندستان کی تقسیم کا کریڈٹ بھی ن لیگ کے ذمے ڈال دیں۔ (فوٹؐو: ٹوئٹر)
پاکستان میں آجکل حکمراں جماعت تحریک انصاف اور اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ ن میں ایک نئی نوک جھوک جاری ہے۔
اس تازہ چپقلش کا آغاز کراچی میں گرین لائن میٹرو کے افتتاح سے ہوا جب مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال اس کے علامتی افتتاح کے لیے اپنے ورکرز سمیت پہنچ گئے اور دعویٰ کیا کہ اس پراجیکیٹ کا آغاز سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کیا تھا۔
احسن اقبال نے کہا تھا کہ ’اس پراجیکٹ کا 80 فیصد کام پچھلی حکومت میں ہی مکمل ہو چکا تھا۔ اس حکومت نے 20 فیصد کام پر ساڑھے تین سال لگا دیے‘۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پارٹی رہنما اپنے بیانات میں اس منصوبے کو تبدیلی سرکار کا کارنامہ بتاتے رہے۔ 
معاملہ یہیں تک نہیں رکا جمعرات کو لاہورمیں  نالج پارک کے افتتاح پر بھی ن لیگی ایک دفعہ فرنٹ پر آگئے۔ احسن اقبال نے ایک ٹویٹ جس میں اگست 2016 کی ایک شائع شدہ خبر کا عکس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس نالج پارک کا افتتاح شہباز شریف پہلے ہی کر چکے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’نقل مارتے ہوئے پرانی تختی ہٹا کر دوبارہ منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔
تاہم وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے آفس سے جاری ایک بیان میں یہ کہا گیا کہ ’پچھلی حکومت نے اس منصوبہ اناؤنس کیا کام سارا ہم نے کیا۔‘
یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اپنی جگہ لیکن اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک حکمراں جماعت نے ان منصوبوں پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے جن پر برسراقتدار آنے کے بعد انہوں نے خود روک لگائی تھی۔ 
اس کی ایک مثال لاہور شہر میں شروع کیے جانے والے آٹھ سپورٹس کمپلیکس ہیں۔ 
ان سپورٹس کمپلیکسز کی کہانی یہ ہے کہ سابق دور حکومت میں شہر کے آٹھ کے آٹھ ٹاونز میں ایک ایک سپورٹس کمپلیکس بنانے کے اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ صوبے کی 40 تحصیلوں میں بھی سپورٹس کمپلیکس بنائے جانے تھے۔ 

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے یہ منصوبہ اناؤنس کیا کام سارا ہم نے کیا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

تاہم تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ان منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی روک دی۔ اردو نیوز کا حاصل دستاویزات کے مطابق محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے 171 ملین یعنی ایک ارب 71 کروڑ روپے لاہور کے آٹھ سپورٹس کمپلیکسز کا کام شروع کرنے کے لیے جاری کیے ہیں۔ 
خیال رہے کہ ان کمپلیکسز کی تعمیر پر پچاس فیصد کام پچھلے دور حکومت میں ہی ہو چکا تھا۔ 
مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے اردو نیوزسے بات کرتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا ’اب ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف پرانی تختیاں اکھاڑ کر اپنے نام لگانا چاہتے ہیں تاکہ یہ عوام کے سامنے جاسکیں۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت تو سپورٹس کمپلیکسز کے ویسے ہی خلاف ہے ’آپ کو یاد نہیں انہوں نے ناروال سپورٹس کمپلیکس بنانے پر میرے اوپر مقدمہ درج کیا۔ اب یہ ایسے ایسے منصوبے ہماری حکومت کے وقت کے ڈھونڈیں گے جو نسبتا کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہوں تاکہ یہ اپنے نامہ عمال میں کچھ نہ کچھ لکھ لیں لیکن عوام اب بے وقوف نہیں بنیں گے۔ ان کی نااہلی اب عیاں ہے۔‘
ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور البتہ ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔ اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ پراپیگنڈے کا نیا طریقہ ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ یہ لوگ ہندستان کی تقسیم کا کریڈٹ بھی ن لیگ کے ذمے ڈال دیں۔ جب ہماری حکومت آئی تو اس وقت قرضوں اور مسائل کا جو انبار تھا اور پھر دوسال کورونا نے لے لیے۔ تو جیسے جیسے معاملات دوبارہ سیدھے ہورہے ہیں ویسے ہی ن لیگ کے دور میں مہنگے منصوبوں کو دوبارہ ریوائز کر کے ان کو معاشی طور پر قابل عمل بنایا گیا ہے۔ یہ بچگانہ حرکتیں ہیں کہ جی یہ ہم نے سوچا تھا۔ اگر سوچا تھا تو بنا کر کیوں نہیں گئے؟ تحریک انصاف عوامی مفادات کے کام کرتی رہے گی چاہیں اپوزیشن جتنی بھی تنقید کرے۔‘

شیئر: