Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرائے کے برابر قسط سے لوگ گھروں کے مالک بن رہے ہیں: عمران خان

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ایسا پروگرام بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا (فوٹو: نیا پاکستان ہاؤسنگ انفو)
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی کسی حکومت نے غریب کے گھر کے لیے نہیں سوچا، آج حکومتی پروگرام کے تحت لوگ گھروں کے مالک بن رہے ہیں۔
جمعے کو اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ایسا پروگرام بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا۔
وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ان کے ساتھ ان کا بہت رابطہ رہا ہے۔ ’باہر کام کرتے ہوئے تارکین وطن کا مشن یہی ہوتا تھا کہ ملک میں گھر بنائیں۔‘ 
’ہمارے ہاں غریب کے لیے نہیں سوچا گیا، سوچ ایلیٹ کلاس تک محدود رہی۔‘
انہوں نے بتایا کہ نیا پاکستان سکیم کے تحت اتنی ہی قسط میں اب لوگوں کو گھر مل رہے ہیں جتنے وہ کرائے میں ادا کرتے تھے۔
قبل ازیں تقریب میں چند ایسے افراد کو شریک کیا گیا جنہوں نے قرضوں کے لیے درخواستیں دیں، جن کو قرضہ ملا اور انہوں نے گھر بنائے۔ وزیراعظم نے چابیاں ان کے حوالے کیں۔

’ منصوبے کے لیے ایک سو نو ارب کی مںظوری‘


نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے چیئرمین انور علی حیدر نے کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے ایک سو نو ارب کی مںظوری دی جا چکی ہے (فوٹو: نیا پاکستان ویب سائٹ)

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے چیئرمین انور علی حیدر کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے ایک سو نو ارب کی مںظوری دی جا چکی ہے جب کہ 32 ارب روپے جاری بھی کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے سبسڈی کی بدولت کم آمدن والے لوگوں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔
انور علی حیدر کا مزید کہنا تھا کہ یہ ابھی شروعات ہے، آگے چل کر پروگرام کا سٹرکچر مزید بہتر ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک بینکوں کے پاس 70 ہزار درخواستیں پہنچ چکی ہیں جو تقریباً دو سو تریسٹھ ارب روپے کی ہیں۔
’کم آمدن والے طبقے کے لیے پہلے گھر بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔‘

’ 32 ارب کے قرضے دیے جا چکے ہیں‘

گورنرسٹیٹ بینک رضا باقر نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کو سراہا اور کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کو بینکوں نے پہلے کبھی قرضے نہیں دیے۔

سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کا کہنا تھا کہ اب تک 32 ارب کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں (فوٹو: سٹیٹ بینک)

انہوں نے بتایا کہ اب تک 32 ارب روپے کے قرضے دیے جا چکے ہیں اور 17 ارب ہر ہفتے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے قرضے اور قسط کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی مارک اپ سبسڈی کی بدولت قسط کی رقم کافی کم ہو جاتی ہے۔
اگر کوئی شخص 30 لاکھ کا قرضہ لے تو اس کی قسط 19 ہزار روپے بنتی ہے جبکہ اگر سبسڈی نہ ہوتی تو قسط دو گنا ہوتی۔
اسی طرح 20 لاکھ کا قرضہ لیے جانے پر بارہ ہزار قسط بنتی ہے۔

شیئر: