Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عید کی رسمیں جو اب ماضی کی کہانی بن گئیں

عید کی رسوم کو مرد اور خواتین سبھی برابر اہمیت دیتے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
وقت کے ساتھ ساتھ پرانے زمانے کے رسم و رواج میں بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور ہر نئے زمانے میں پرانے ایام کی کچھ رسومات بالکل ختم بھی ہو جاتی ہیں اور کچھ کی شکل بدل جاتی ہے۔ یہی کچھ عید سے منسوب رسوم و روایات کے ساتھ بھی ہوتا آیا ہے۔
عید کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس کا تعلق اپنے شہر سے بہت گہرا ہوتا ہے، کیونکہ عید وہ خاص تہوار ہے جسے ہر شخص اپنے آبائی علاقے میں ہی منانا چاہتا ہے۔
عید سے پہلے وہ جہاں کہیں بھی ہو، اپنے علاقے کی طرف لوٹتا ہے۔ سفر میں ہو تو پہلے ہی اپنے کام پورے کر دیتا ہے اور عید کے دن سے قبل اپنے گھر واپس پہنچ جاتا ہے۔ انتہائی مجبوری کی حالت میں ہی کوئی اپنے شہر سے دور عید مناتا ہے۔

عیدی اور بچپن کی یادیں

ساٹھ سالہ ملک جہان عالم یوسفزئی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر لوئر سے تعلق رکھتے ہیں۔
اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کے زمانے میں عید کی تیاریاں ہفتہ پہلے شروع ہو جاتی تھیں۔ گلیوں میں بچے بچیوں کی بھاگ دوڑ ہوتی تھی۔ زیادہ خوشی ان کو نئے کپڑے اور جوتے ملنے کی ہوتی تھی جو کہ درحقیقت ان کا سکول یونیفارم بھی تھا۔ لہٰذا دوہری خوشی ہوتی تھی کہ سکول کے لیے بھی نیا جوڑا مل جائے گا۔
’جب نئے کپڑے اور جوتے گھر پہنچتے تو خوشی کی انتہا نہیں ہوتی تھی۔ دن میں دو تین بار اپنے کپڑے پہنتے تھے جبکہ اکثر جوتوں کے ڈبے کو گلے لگا کر سوجایا کرتے تھے۔

پاکستان میں اکثر لوگ عید الفطر اپنے آبائی علاقوں میں مناتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

عید کی رات انہی سوچوں میں گزر جاتی کہ صبح اٹھ کر فلاں کے ہاں سب سے  پہلے جائیں گے اور عیدی کے پیسوں سے کون سے کھلونے لینے ہوں گے۔ 
اس دور میں صبح نماز کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہوتا تھا کہ گاؤں کے تمام مرد و خواتین قبرستانوں میں دعا کرنے جاتے اور اکثر سورج کی پہلی کرن ان پر قبرستان میں یا اس کے راستے میں پڑتی تھی۔

صبح کا ناشتہ سویاں اور سوجی کے حلوے کے ساتھ

جہان عالم نے بتایا کہ اس زمانے میں آج کے دور جیسی مختلف اقسام کی مٹھایاں نہیں ہوتی تھیں۔ عام طور پر گھروں میں سویاں اور سوجی کا حلوہ بنتا تھا، جبکہ باقی روزمرہ کے سالن روٹی ہی ہوتے تھے۔
سویاں دو قسم کی ہوتی تھیں۔ بازار کی باریک سویاں اور گھر میں تیار کردہ میدے کی موٹی سویاں۔
باریک سویاں چینی ڈال کر میٹھی پکائی جاتی تھیں جبکہ موٹی سویاں پھیکی ہی ابالی جاتی تھیں اور ان پر شکر اور مکھن ڈال کر چائے کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔
ناشتہ کرنے کے بعد رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا اور بچوں کو عیدی ملنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔

بلنہ کا رواج

رفتہ رفتہ متروک ہو جانے والی رسموں میں سے ایک خیبرپختونخوا کی بلنہ کی رسم بھی ہے جس میں عام طور پر لوگ اپنے گاؤں کے تمام رشتہ داروں کے گھر جا کر کھانا کھاتے تھے۔ اب یہ رواج کافی حد تک ختم ہوچکا ہے اور یہ رواج اب چند ایک گھروں تک محدود ہو چکا ہے۔
جہان عالم نے اردو نیوز کو بتایا کہ وہ ایسا زمانہ تھا جب پیار، محبت زیادہ تھی۔ دور دور کے رشتہ دار عید پر ایک دوسرے کے پاس جا کر گلے شکوے ختم کر کے ایک دوسرے کے گھر جو بھی کھانا تیار ہوتا، وہ مل کر کھاتے تھے۔ یہ سلسلہ اپنے خاندان کے سب سے بڑے فرد کے گھر سے شروع ہوتا تھا اور اخری گھر پر جا کر ختم ہو جاتا تھا۔
بعض علاقوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاؤں کے تمام لوگ اپنے قبیلے کے بڑے فرد کے حجرے میں اکھٹے ہو کر کھانا کھاتے تھے جو یکجہتی اور پیار و محبت کی سب سے بڑی علامت ہوتی تھی۔
عید پر زیادہ تر باسمتی چاول پکائے جاتے جس کے ساتھ دیسی گھی، دہی اور سالن ہوا کرتا تھا۔
بلنہ رواج کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اس سے خاندان والوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر ہونے والی ناراضیاں ختم ہو جاتیں اور مل کر کھانا کھا کر عید کی خوشیوں کی خاطر ایک دوسرے کو معاف کر دیا جاتا۔
اس کا دوسرا فائدہ یہ تھا کہ علاقے میں موجود غریبوں کو بھی اچھا کھانا نصیب ہوتا تھا۔
جان عالم کے مطابق جس حجرے میں لوگ جمع ہوتے تھے، اسی گھر پر باقی گھروں کی خواتین بھی جمع ہوتی تھی جو اس گھر کی خواتین کے ساتھ کام میں ان کا ہاتھ بھی بٹاتی تھیں۔ آج کل یہ رواج صرف چند علاقوں میں باقی رہ گیا ہے۔
بچپن کی حسین یادوں میں گم اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے شاہ مقصود نے اردو نیوز کو بتایا کہ عید پر کپڑے وغیرہ تو ملتے تھے لیکن ان خوشیوں میں ایک بڑی خوشی عیدی ملنا بھی تھی۔
’عید پر ہمیں زیادہ سے زیادہ ایک یا دو روپیہ عیدی ملا کرتی تھی جو کہ خاصی معقول رقم ہوا کرتی تھی۔ عیدی لینے ہم صبح صبح تیار ہو کر مختلف رشتہ داروں کے ہاں جاتے جہاں پر گھر کے بڑے ہمیں ایک یا دو روپے عیدی دیتے تھے۔

 بلنہ کی رسم میں عام طور پر لوگ اپنے گاؤں کے تمام رشتہ داروں کے گھر جا کر کھانا کھاتے تھے (فوٹو: ٹوئٹر)

 ’میں سب سے پہلے اپنے نانا کے گھر جاتا تھا کیونکہ نانا سے مجھے تین روپے عیدی ملتی تھی، عید کی نماز سے پہلے پہلے ہم اپنے گاؤں کے علاوہ دورافتادہ علاقوں میں رہائش پذیر رشتہ داروں کے ہاں بھی پیدل جایا کرتے تھے۔‘
’دس، 15 روپے عیدی جمع ہونے کے بعد سینہ تان کر عید میلوں اور دکانوں میں عیدی کے پیسے اڑاتے تھے۔‘

قبرستانوں میں لگے میلے

عید کے موقع پر قبرستانوں کے نزدیک میلے بھی منعقد کیے جاتے تھے کیونکہ وہاں پر زیتون اور شہتوت کے بڑے بڑے درخت ہوا کرتے تھے۔ درختوں کی ٹہنیوں سے رسی باندھ کر جھولا تیار کیا جاتا اور اس جھولے پر سب سے زیادہ رش ہوتا تھا جو اونچی ٹہنی سے باندھا گیا ہوتا اور وہ نسبتاً لمبا چکر لگاتا تھا۔

پرانے زمانے کے عید کھلونے

شاہ مقصود نے بتایا کہ اس دور میں ایک روپے میں کئی کھلونے آ جایا کرتے تھے۔ اس وقت کے کھلونے بھی انوکھے ہوتے تھے۔
’مٹی کی کونڈی اور کاغذ سے بنی ڈھولکی پر مشتمل ایک دوپہیوں والی گاڑی، جس کے آگے بندھی ڈور سے پکڑ کر جب بچے اسے فرش پر کھینچتے تو ربر بینڈ سے بندھی ایک چھڑی تواتر سے ڈھولکی پر ٹکرانے لگتی جس سے ٹک ٹک کی زوردار آواز نکلتی تھی۔‘
پھر ایک پلاسٹک کا رنگ برنگا باجا بھی ہوتا تھا جسے منہ میں لے کر جتنی زور سے پھونک ماری جاتی اتنی ہی اونچی آواز برآمد ہوتی۔
’وہ لٹو چلانے کا بھی دور تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ عید پر ہم لٹو خریدتے تھے۔‘
’لٹو دو طرح کے ہوتے تھے۔ ایک وہ جنہیں ڈور کو اوپر سے نیچے کی طرف جھٹکا دے کر چلایا جاتا تھا جبکہ دوسرے چوڑے پیالے نما لٹو ہوتے تھے کہ جن کی ڈوری کو الٹا جھٹکا دیا جاتا تھا۔ پھر ان لٹوؤں کی ’سانس‘ کا مقابلہ بھی ہوتا تھا۔ بچے اپنا اپنا لٹو ایک ساتھ زمین پر مارتے اور پھر دیکھا جاتا کہ کس کا لٹو زیادہ دیر چلتا ہے۔ جو لٹو زیادہ دیر تک چلتا رہتا، وہ سانس کا مقابلہ جیت جاتا اور ہارنے والے بچے کا لٹو جیتنے والے کو مل جاتا۔‘
اس زمانے میں ہاتھ پر گھڑی باندھنے کا فیشن بھی عام ہوتا تھا۔ گھڑی اصلی ہو یا نقلی، دونوں کی اپنی اہمیت تھی۔
عید کے موقعے پر بچوں کے لیے طرح طرح کی نقلی گھڑیاں مارکیٹ میں آ جاتیں اور بچے ساکت سوئیوں والی یہ گھڑیاں پہن کر ناز سے گومتے پھرتے۔
اس زمانے کے عید میلوں میں لڑکیوں کے لئے بھی کافی چیزیں موجود تھیں اور اکثر بچیوں کے ساتھ بزرگ خواتین بھی جاکر مختلف سٹالز سے چوڑیاں وغیرہ لیتی تھیں۔
اس دور میں لڑکیوں میں مٹی اور پلاسٹک یا ٹین کے برتنوں پر مشتمل کھلونے اور کپڑے کی بنی گڑیا بھی کافی مقبول ہوتی تھیں اور یہ چیزیں بیچنے والے بھی جگہ جگہ ڈیرے جمائے دکھائی دیتے تھے۔ 
شاہ مقصود نے بتایا کہ ان عید میلوں میں کھلونوں کے علاوہ ایک انوکھی لاٹری کا کھیل بھی ہوتا تھا جس میں مختلف کھلونے اور پیسے بطور انعام دیے جاتے تھے۔

ماضی کی عیدوں پر بچوں میں لٹو گھمانے کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ (فائل فوٹو: اے پی پی)

شاہ مقصود نے بتایا کہ ’عید کبھی کبھی غمناک بھی ہو جاتی تھی۔ اگر عید سے کچھ پہلے کسی عزیز رشتہ دار کا یا گھر کے کسی فرد کا انتقال ہوجاتا تو عید کے دن کی ابتدا آنسوؤں اور آہوں سے ہوتی تھی۔ ایسی صورت میں بچوں کو عید کے کپڑے عید سے ایک یا دو دن پہلے ہی پہنا دیے جاتے تھے تاکہ عید کے دن وہ نئے نہ لگیں۔‘
’اسی طرح خواتین ہاتھ پاؤں پر مہندی نہیں لگاتی تھیں اور جو ایسا کرتی اس سے ناراضگی اور کبھی کبھار اسے بزرگوں سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی کہ فلاں کی فوتگی ہوئی ہیں اور آپ کو مہندی لگانے کی جلدی تھی۔‘
مہندی نہ لگانے اور نئے کپڑے نہ پہننے کا مقصد فوتگی والے گھر کے ساتھ غم میں شریک ہونا تھا۔ 
اس دور میں غربت زیادہ تھی، سہولیات کا فقدان تھا لیکن پیار، محبت اور بھائی چارہ زیادہ تھا۔
لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی بڑے ناز سے مناتے تھے لیکن آج کل کے دور میں نہ تو اس جیسا سکون ہیں اور نہ وہ پرانی عیدیں کیونکہ اب ہر کوئی اپنے آپ تک محدود ہوچکا ہے۔

شیئر: