Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہباز شریف کی شی جن پنگ سے ملاقات: امن کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں قابل تعریف ہیں، چینی صدر

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ 
وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں یہ ملاقات نہایت گرم جوشی اور خوش گوار ماحول میں ہوئی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت کابینہ ارکان اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر حال ہی میں تہران کا دورہ کر کے آئے ہیں جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ امن مذاکرات اور جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پرتپاک استقبال پر اُن کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’چین کے ساتھ دیرینہ تزویراتی شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی تناظر میں دونوں ممالک کی آہنی دوستی کی سٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔‘
وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفادات، خصوصاً ’ون چائنہ پالیسی‘ پر پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے چین کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
وزیراعظم نے ایک روز قبل ہانگژو کے کامیاب دورے کا ذکر کرتے ہوئے ژجیانگ صوبے کی ترقی میں صدر شی جن پنگ کے کلیدی کردار کو سراہا، جہاں وہ 2002ء سے 2007ء تک گورنر کے عہدے پر فائز رہے۔
انہوں نے صدر شی جن پنگ کی جرات مندانہ اور دُوراندیش قیادت کی بھی تعریف کی جس نے چین کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کیا۔
علاقائی امن کے لیے چین کی حمایت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی علاقائی امن کے لیے پیش کردہ چار نکاتی تجویز کو وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

صدر شی نے کہا کہ ’ہم مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں‘ (فوٹو: ویڈیو گریب)

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’موجودہ غیر یقینی اور کشیدہ عالمی حالات میں پاکستان اور چین کی دوستی اور تعاون خطے اور دنیا میں استحکام کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے۔‘
انہوں نے صدر شی جن پنگ کے وژن پر مبنی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو، گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشیٹیو، گلوبل سکیورٹی انیشیٹیو، گلوبل سولرائزیشن انیشیٹیو اور گلوبل گورننس انیشیٹیو جیسے عالمی اقدامات کو سراہا۔
وزیراعظم نے ’انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری‘ کے وژن کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سٹریٹجک رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جائے، سی پیک کی ترقی کو آگے بڑھایا جائے اور چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کو ’اُڑان پاکستان‘ پروگرام سے ہم آہنگ کیا جائے۔‘
وزیراعظم کے مطابق ’اس سے صنعت کاری، باہمی روابط، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، قابل تجدید و صاف توانائی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں وسیع تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے گا۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان اور چین کی دوستی اور تعاون خطے اور دنیا میں استحکام کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے‘ (فوٹو: ویڈیو گریب)

انہوں نے کہا کہ ’چین کے خلائی سٹیشن پروگرام کے لیے پاکستانی خلابازوں کا انتخاب پاکستان چین تعاون کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کا مظہر ہے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر شی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ آپ ابھی ایران کا دورہ کر کے آئے ہیں اور امن ڈیل کے لیے آپ نے مثبت کوششیں کی ہیں۔‘
شی جن پنگ نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’ہم مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین اور پاکستان نے باہمی اعتماد، تفہیم اور تعاون پر مبنی ’ناقابلِ شکست روایتی دوستی‘ قائم کی ہے۔ 
شی جن پنگ نے زور دیا کہ عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود چین ہمسایوں کے ساتھ اپنی پالیسی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔‘
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان چین دوستی کی تاریخی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے 75ویں سالگرہ کو سٹریٹجک، عملی اور مستقبل پر مبنی تعاون کے ایک نئے دور میں تبدیل کیا جائے گا۔

شیئر: