Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا نیا دور، آر ایف آئی ڈی چِپ والی سمارٹ پلیٹس متعارف

صوبے بھر میں جدید سکیورٹی خصوصیات سے لیس اور ڈیٹا بیسڈ نمبر پلیٹس متعارف کرائی جا رہی ہیں (فائل فوٹو: ٹونیجیس)
پنجاب حکومت نے صوبے میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سکیورٹی کے نظام کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بار پھر سرکاری سطح پر گاڑیوں کی نمبر پلیٹس جاری کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔
اس نئے نظام کے تحت اب صوبے بھر میں نئی رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں میں جدید سکیورٹی خصوصیات سے لیس اور ڈیٹا بیسڈ نمبر پلیٹس متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
اس منصوبے کی سب سے اہم اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان نئی نمبر پلیٹس کے اندر ایک مخصوص برقی چپ نصب کی جائے گی جسے تکنیکی زبان میں آر ایف آئی ڈی چپ کہا جاتا ہے۔
حکام محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا بنیادی مقصد گاڑیوں کی نگرانی، ان کی برقی تصدیق اور مجموعی سکیورٹی نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ موثر اور فول پروف بنانا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں گاڑیوں سے جُڑے جرائم اور جعلی نمبر پلیٹس کے استعمال میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اور اس ٹیکنالوجی کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گاڑیوں کی لائیو ٹریکنگ اور تصدیق میں غیر معمولی مدد ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

حکومتی پالیسی میں تبدیلی کا پس منظر

اس فیصلے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس سے محض چند ماہ قبل، یعنی فروری 2026 میں، پنجاب حکومت نے ایک بڑا انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے شہریوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ سرکاری نمبر پلیٹس کا انتظار کرنے کے بجائے اوپن مارکیٹ یا نجی دکانوں سے حکومت کے منظورشدہ ڈیزائن کے مطابق اپنی نمبر پلیٹس تیار کروا سکتے ہیں۔
اس وقت اس فیصلے کا مقصد شہریوں کو نمبر پلیٹس کی فراہمی میں ہونے والی طویل تاخیر اور بھاری بیک لاگ سے نجات دلانا تھا۔ تاہم اس نرمی کے بعد مارکیٹ میں غیر معیاری، جعلی اور ایسی نمبر پلیٹس کا سیلاب آگیا جن کو ٹریفک کیمرے پڑھنے سے قاصر تھے، جس نے صوبے کے امن و امان اور سکیورٹی کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا۔
سکیورٹی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے انہی شدید تحفظات کے بعد، مئی میں حکومت پنجاب نے اپنے پُرانے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے دوبارہ سرکاری سطح پر ہی نمبر پلیٹس کی تیاری کا بیڑا اٹھایا ہے، لیکن اس بار روایتی پلیٹس کے بجائے ٹیکنالوجی سے لیس سمارٹ پلیٹس متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محکمہ ایکسائز پنجاب اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے درمیان اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جن میں اس جدید ترین نظام کے خدوخال کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

آر ایف آئی ڈی چِپ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آر ایف آئی ڈی چپ اصل میں ہوتی کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتی ہے۔
ایکسائز حکام کے مطابق آر ایف آئی ڈی سے مراد ’ریڈیو فریکوئنسی آئیڈنٹٹی فکیشن‘ ہے، جو کہ ایک ایسی وائرلیس یا بغیر تار کے کام کرنے والی ٹیکنالوجی ہے جو ریڈیو لہروں کے ذریعے ڈیٹا کی منتقلی کا کام انجام دیتی ہے۔ یہ چپ ایک انتہائی چھوٹے سائز کی برقی ڈیوائس ہوتی ہے، جسے نمبر پلیٹ کے اندر اس طرح چُھپا کر نصب کیا جاتا ہے کہ یہ باہر سے نظر نہیں آتی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’جدید نظام کے سکیورٹی فیچرز گاڑیوں کی جعلی نمبر پلیٹس کے استعمال کا خاتمہ کر دیں گے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس چپ کے اندر ایک مائیکروچِپ اور ایک چھوٹا سا اینٹینا موجود ہوتا ہے۔ مائیکروچِپ کے اندر اس مخصوص گاڑی کا تمام اہم ڈیٹا، جیسے کہ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، چیسس نمبر، انجن نمبر، مالک کا نام، شناختی کارڈ نمبر اور ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کا ریکارڈ الیکٹرانک شکل میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔
جب بھی یہ گاڑی کسی ایسے راستے سے گزرتی ہے جہاں اس ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والا سکینر یا ریڈر نصب ہو، تو وہ سکینر ریڈیو لہریں خارج کرتا ہے۔ یہ لہریں جیسے ہی نمبر پلیٹ میں موجود چپ سے ٹکراتی ہیں، تو چپ متحرک ہو جاتی ہے اور اپنے اندر محفوظ تمام ریکارڈ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس سکینر کو منتقل کر دیتی ہے۔
اس پورے عمل کے لیے گاڑی کو روکنے، اس کی تلاشی لینے یا کسی انسان کی جسمانی مداخلت کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ تیز رفتاری سے گزرتی ہوئی گاڑی کا ڈیٹا بھی خودکار طریقے سے سسٹم میں منتقل ہو جاتا ہے۔

کیا سیف سٹی کے کیمرے اس چِپ کو پڑھ سکتے ہیں؟

اس نئے منصوبے کے حوالے سے عوام اور ماہرین کے ذہنوں میں سب سے بڑا سوال یہ ابھر رہا ہے کہ کیا لاہور اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں پہلے سے موجود سیف سٹی کے جدید ترین کیمرے اس چپ کو پڑھنے یا ریڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس حوالے سے سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین واضح کرتے ہیں کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا موجودہ نظام بنیادی طور پر آپٹیکل یعنی بصری کیمروں پر کام کرتا ہے۔
یہ کیمرے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی تصاویر لیتے ہیں اور ان میں نصب ’اے این پی آر‘ یعنی آٹومیٹڈ نمبر پلیٹ ریکگنیشن سافٹ ویئر کی مدد سے نمبر پلیٹ پر لکھے ہوئے حروف اور ہندسوں کو پڑھ کر ای چالان یا دیگر کارروائیاں کرتے ہیں۔

چپ کے اندر ایک مائیکروچِپ اور ایک چھوٹا سا انٹینا موجود ہوتا ہے (فائل فوٹو: اے آئی)

چونکہ یہ کیمرے صرف وہی چیز دیکھ سکتے ہیں جو ظاہری طور پر نظر آرہی ہو، اس لیے یہ براہِ راست نمبر پلیٹ کے اندر چھپی ہوئی آر ایف آئی ڈی چپ کو ریڈ نہیں کر سکتے، کیونکہ چپ کو پڑھنے کے لیے روشنی کے بجائے ریڈیو لہروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب اور سیف سٹی اتھارٹی اب ایک نیا اور مربوط نیٹ ورک قائم کرنے جا رہے ہیں، جس کے تحت شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں، بڑے چوکوں، اور ٹول پلازوں پر کیمروں کے ساتھ ساتھ مخصوص آر ایف آئی ڈی ریڈرز اور سکینرز بھی نصب کیے جائیں گے۔
جب یہ دونوں ٹیکنالوجیز ایک ساتھ مل کر کام کریں گی تو سکیورٹی کا نظام ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا، کیونکہ بصری کیمرہ پلیٹ کی تصویر لے گا اور اسی وقت سکینر چپ کا ڈیٹا نکالے گا، اور اگر دونوں میں ذرا سا بھی فرق ہوا تو سسٹم فوراً الرٹ جاری کر دے گا۔

نئی نمبر پلیٹس کے جدید سیکیورٹی فیچرز

ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ ’اس جدید نظام کے سکیورٹی فیچرز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ گاڑیوں کی ’کلوننگ‘ یا جعلی نمبر پلیٹس کے استعمال کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے گا۔ ماضی میں دہشت گرد یا جرائم پیشہ عناصر کسی بھی عام شہری کی گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے اسی نمبر کی ہو بہو جعلی پلیٹ تیار کرواتے اور اسے اپنی مشکوک گاڑی پر لگا کر سنگین جرائم میں استعمال کرتے تھے، جس سے بے گناہ شہری قانون کے شکنجے میں پھنس جاتے تھے۔‘

حکومت پنجاب اور سیف سٹی اتھارٹی اب ایک نیا اور مربوط نیٹ ورک قائم کرنے جا رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم نئی نمبر پلیٹ کی صورت میں اگر کوئی شخص ظاہری حروف کی نقل تیار کر بھی لے، تو وہ اس کے اندر لگی مخصوص اور انکرپٹڈ یعنی خفیہ کوڈ والی چپ کی نقل کبھی تیار نہیں کر سکے گا۔
جب ایسی کلون شدہ گاڑی کسی بھی سمارٹ چیک پوسٹ سے گزرے گی، تو کیمرہ تو وہی نمبر پڑھے گا لیکن چپ کا ڈیٹا غائب ہو گا یا چیسس نمبر سے میچ نہیں کرے گا، جس سے گاڑی فوری طور پر پکڑ میں آجائے گی۔ اس کے علاوہ، ان نمبر پلیٹس میں ’اینٹی ٹیمپرنگ‘ فیچر بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس چپ کو پلیٹ سے نکالنے، اسے تبدیل کرنے یا کسی دوسری گاڑی پر لگانے کی کوشش کرے گا، تو یہ چپ خودکار طریقے سے بلاک یا ناکارہ ہو جائے گی اور اس کا سگنل ختم ہو جائے گا، جو خود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح اشارہ ہو گا کہ گاڑی مشکوک ہے۔

پرانی نمبر پلیٹس کے سکیورٹی فیچرز اور ان کی خامیاں

عرصہ دراز سے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بنانے کے ماہری کاریگر محمد عثمان کہتے ہیں کہ ’اگر ہم اس نئی ٹیکنالوجی کا موازنہ ماضی کی روایتی نمبر پلیٹس سے کریں تو دونوں میں زمین اور آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ اس سے پہلے جو سرکاری نمبر پلیٹس محکمہ ایکسائز کی جانب سے جاری کی جاتی رہی ہیں، وہ خالصتاً بصری یا ظاہری سکیورٹی فیچرز تک ہی محدود تھیں۔ ان پرانی نمبر پلیٹس کی تیاری میں ایک خاص قسم کی چمکدار ایلومینیم شیٹ استعمال ہوتی تھی جسے ’ریٹرو ریفلیکٹو شیٹ‘ کہا جاتا ہے۔‘
’اس شیٹ کا مقصد یہ تھا کہ رات کے وقت جب گاڑی کی ہیڈ لائٹ یا سڑک پر لگے کیمرے کی فلش اس پلیٹ پر پڑے، تو نمبر واضح طور پر چمکیں اور انہیں پڑھنا آسان ہو۔ اس کے علاوہ، پرانی پلیٹس میں جعل سازی کو روکنے کے لیے محکمہ ایکسائز کا ایک سرکاری مونوگرام یا واٹرمارک شیٹ کے اندر ہی تیار کیا جاتا تھا، جو صرف ایک مخصوص زاویے سے ہی نظر آتا تھا، اور اس کے ساتھ ایک منفرد لیزر سیریل نمبر بھی پلیٹ کے نیچے کندہ ہوتا تھا۔‘

نئی ٹیکنالوجی کا موازنہ ماضی کی روایتی نمبر پلیٹس سے کریں تو دونوں میں زمین اور آسمان کا فرق نظر آتا ہے (فائل فوٹو: اے آئی)

 اگرچہ اپنے وقت میں یہ فیچرز بھی کافی مفید تھے، لیکن سکیورٹی کے بدلتے ہوئے حالات اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ یہ ناکافی ثابت ہوئے۔ جرائم پیشہ افراد نے ان پرانی پلیٹس کی چمک اور مونوگرام کی بھی کسی حد تک نقل تیار کرنا شروع کر دی تھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کوئی مجرم پرانی نمبر پلیٹ پر مٹی مل دیتا، کپڑا باندھ دیتا یا اس کے حروف کو تبدیل کر دیتا، تو سیف سٹی کے کیمرے اور پولیس اہلکار دور سے اسے پہچاننے میں مکمل طور پر ناکام ہو جاتے تھے۔
نئی آر ایف آئی ڈی پلیٹ اس خامی کو دور کرتی ہے کیونکہ ریڈیو لہریں مٹی، دھند، یا اندھیرے سے متاثر نہیں ہوتیں اور چپ کا ڈیٹا ہمیشہ سکینر تک پہنچتا رہتا ہے۔

ماضی کے فیصلے اور عمل درآمد میں رکاوٹیں: ایک تاریخی پس منظر

پنجاب میں سمارٹ اور چپ بیسڈ نمبر پلیٹس لگانے کا یہ فیصلہ کوئی بالکل نیا نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی گذشتہ ایک دہائی کے دوران کئی مرتبہ اس قسم کے منصوبے شروع کرنے کے بڑے بڑے دعوے اور فیصلے کیے گئے، لیکن بدقسمتی سے وہ کبھی بھی مکمل طور پر عمل درآمد کی شکل اختیار نہ کر سکے۔
ماضی میں جب بھی سمارٹ کارڈز اور ونڈ سکرین پر لگنے والے تھرڈ نمبر پلیٹ سٹیکرز کا اعلان کیا گیا، تو ہر بار محکمہ ایکسائز کو شدید انتظامی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی سطح پر خام مال کی قلت اور پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والا بے پناہ اضافہ تھا، جس کی وجہ سے نمبر پلیٹس تیار کرنے والے نجی ٹھیکیداروں کے اخراجات بڑھ گئے اور انہوں نے سپلائی روک دی یا معاہدے منسوخ کر دیے۔‘

پنجاب میں سمارٹ اور چپ بیسڈ نمبر پلیٹس لگانے کا یہ فیصلہ کوئی بالکل نیا نہیں ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’اس کے نتیجے میں شہریوں کی جانب سے کروڑوں روپے کی فیسیں پیشگی ادا کرنے کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں نمبر پلیٹس کا بیک لاگ اکٹھا ہو گیا اور لوگ سالہا سال تک اپنی گاڑیوں کی اصل پلیٹس کے لیے دفاتر کے چکر کاٹتے رہے۔ اس بحران کا عارضی حل نکالنے کے لیے ہی فروری 2026 میں نجی مارکیٹ سے پلیٹس بنوانے کی اجازت دی گئی تھی، جو کہ اب سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر واپس لی جا رہی ہے۔‘

نفاذ کا طریقہ کار اور مستقبل کا لائحہ عمل

عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس نئے اور جدید ترین نظام کا نفاذ کب سے ہو گا اور شہریوں کو یہ نئی نمبر پلیٹس کب تک ملنا شروع ہو جائیں گی۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے اعلیٰ حکام کے مطابق ’اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز انتہائی منظم اور مرحلہ وار طریقے سے کیا جارہا ہے۔ نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے ساتھ ہونے والے حالیہ اجلاسوں میں طے پایا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں یہ آر ایف آئی ڈی چپ والی نمبر پلیٹس صرف ان نئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو جاری کی جائیں گی جو رجسٹریشن کے لیے آئیں گی۔‘
’اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ ہے کہ پہلے سے موجود لاکھوں پرانی گاڑیوں کا بوجھ یکمشت سسٹم پر نہ پڑے اور نئے آنے والے تمام ڈیٹا کو شروع سے ہی ڈیجیٹلائزڈ کیا جا سکے۔‘

ماضی میں جب بھی سمارٹ کارڈز اور ونڈ سکرین پر لگنے والے تھرڈ نمبر پلیٹ سٹیکرز کا اعلان کیا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حکام کا کہنا ہے کہ ’اس منصوبے کے تکنیکی اور انتظامی امور کو تیزی سے حتمی شکل دی جا رہی ہے اور امید ہے کہ اگلے چند ماہ کے اندر، یعنی سال 2026 کے آخر تک، نئی گاڑیوں کے لیے ان سمارٹ پلیٹس کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔‘
’اس کے بعد دوسرے مرحلے میں ان لاکھوں شہریوں کے بیک لاگ کو کلیئر کیا جائے گا جو پہلے ہی اپنی فیسیں جمع کروا چکے ہیں، لیکن انہیں تاحال نمبر پلیٹس نہیں مل سکیں، اور آخر میں بتدریج ایک جامع پالیسی کے تحت صوبے بھر میں چلنے والی تمام پرانی گاڑیوں کو بھی اس نئے اور محفوظ ترین دائرہ کار میں لانے کے لیے ایک مخصوص ڈیڈلائن دی جائے گی۔‘

شیئر: