Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ضمانت ختم ہونے پر عمران خان کی سکیورٹی ہی انہیں گرفتار کرے گی‘

سابق وزیراعظم عمران خان پشاور میں موجود ہیں (فائل فوٹو: پی آئی ڈی)
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں رہائش گاہ واپسی کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کو قانون کے مطابق سکیورٹی دی جائے گی جبکہ عمران خان بنی گالہ واپس پہنچ چکے ہیں۔ 
اتوار کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کو اسلام آباد واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں تاہم ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
’عدالتی ضمانت ختم ہونے پر قانون کے مطابق فراہم کی گئی ’یہی‘ سکیورٹی عمران خان کو بڑی خوش اسلوبی سے گرفتار بھی کر لے گی۔‘
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ ’عمران خان ملک میں ہنگامہ آرائی و فساد، افراتفری پھیلانے اور وفاق پر مسلح حملوں کے جرائم کے تحت درج دو درجن سے زیادہ مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ملک میں فساد فی الارض برپا کرنے والا شخص اپنے مخالفین کو غدار اور یزید کہہ کر پکارتا ہے۔
وہ کس طرح ایک جمہوری معاشرے میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ یہ پوری قوم کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمرانی انقلاب ضمانتیں کروا رہا ہے۔
’عمران انقلاب خیبر پختونخواہ کی عوام کے پیسے پر منرل  واٹر پی رہے ہیں اور ہیلی کاپٹر کی سیر کر رہا ہے۔‘
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’کوئی بھی مسلح جتھہ وفاق پہ حملہ کرنے کا سوچے گا، برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی پشاور سے اپنے گھرآمد کی وجہ سے بنی گالہ کے اطراف کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
سنیچر کی رات کو ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے بنی گالہ میں خصوصی سکیورٹی تعینات کر دی ہے۔

شیئر: