Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روس سے جنگ، یوکرین کے پاس زیادہ ہتھیار ہونے چاہییں: نیٹو

یوکرین مغرب سے بارہا بھاری ہتھیاروں کی کھیپ کا مطالبہ کر چکا ہے (فوٹو: روئٹرز)
نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کو یوکرین کو مزید بھاری ہتھیار بھیجنے چاہییں کیونکہ وہ ملک کے مشرقی حصے میں روس کا مقابلہ کر رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل سٹولٹن برگ نے منگل کو ایک اہم سربراہی اجلاس سے قبل نیٹو کے سات یورپی اتحادی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔
انہوں نے ملاقات کے بعد دی ہیگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاں، یوکرین کے پاس زیادہ ہتھیار ہونے چاہییں۔ نیٹو پہلے سے ہی ترسیل بڑھا رہا ہے۔‘
سٹولٹن برگ نے بتایا کہ حکام بدھ کو برسلز میں میٹنگ کریں گے تاکہ بھاری ہتھیاروں سمیت مزید تعاون کو مربوط کیا جا سکے کیونکہ وہ (یوکرینی فوج) جارحانہ روسی حملے کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔‘
یوکرین مغرب سے بارہا بھاری ہتھیاروں کی کھیپ کا مطالبہ کر چکا ہے اور اسلحے کی فراہمی میں ناکامی پر کچھ یورپی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹے اور ڈنمارک کے وزیراعظم میٹے فریڈرکسن جون کے آخر میں میڈرڈ میں ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس سے قبل سٹولٹن برگ اور پولینڈ، رومانیہ، لٹویا، پترگال اور بیلجیئم کے رہنماؤں کی میزبانی کر رہے تھے۔
پولینڈ کے وزیراعظم میٹیوز موراویکی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مغرب ان کے پڑوسی یوکرین کی حمایت کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا۔‘
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم نے یوکرین کے دفاع کے لیے، یوکرین کے عوام کی حمایت کے لیے، ان کی آزادی اور خودمختاری کی حمایت کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا۔‘
پولینڈ کے وزیراعظم نے کہا کہ ’ اسی لیے میں آپ سے گزارش کرتا ہوں، میں آپ سے کہتا ہوں کہ یوکرین کو ہتھیار، توپ خانہ پہنچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات  کریں۔ انہیں اپنے ملک کے دفاع کے لیے اس کی ضرورت ہے۔‘

یوکرین کا کہنا ہے کہ کیمیکل فیکٹری ازوٹ کے اندر فوجیوں کے ساتھ 500 شہری پھنسے ہوئے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر یوکرین روس کے خلاف (جنگ) ہار گیا تو مغربی ممالک پر اعتماد نہیں رہے گا۔ یہ یورپی یونین، ہماری اقدار اور نیٹو کی مکمل ناکامی اور تباہی ہوگی۔‘
ادھر روس نے بدھ کی صبح تک جنگ زدہ شہر سیویروڈونٹسک کے ایک کیمیکل پلانٹ میں چھپے یوکرین کے فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کو کہا ہے۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ کیمیکل فیکٹری ازوٹ کے اندر فوجیوں کے ساتھ 500 شہری پھنسے ہوئے ہیں۔
روس کے نیشنل ڈیفنس مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ میخائل میزینٹسیف نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جنگجوؤں کو ماسکو کے وقت کے مطابق صبح 8 بجے سے اپنی احمقانہ مزاحمت بند کر کے ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔‘
لوہانسک کے علاقائی گورنر سرہی گیدائی نے بتایا کہ ’ازوٹ پر گولہ باری اس قدر شدید ہے کہ لوگ اسے پناہ گاہوں میں مزید برداشت نہیں کر سکتے، ان کی نفسیاتی حالت خطرے میں ہے۔‘

شیئر: