Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بی جے پی کی صدارتی امیدوار قبائلی خاتون دروپدی مرمو کون ہیں؟

دروپدی مرمو بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہوتی رہی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے ایک قبائلی خاتون سیاستدان دروپدی مرمو کو صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 64 سالہ دروپدی مرمو کا تعلق ریاست اوڈیشہ کے سنتھال قبیلے سے ہے اور وہ حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں دروپدی مرمو کے صدر منتخب ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ اس کی ایک وجہ حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پارلیمان میں اکثریت ہے جبکہ دیگر ریاستی اسمبلیوں سے بھی حمایت کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ آئندہ ماہ جولائی میں ہو گی۔
دروپدی مرمو نے بطور سکول ٹیچر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور قبائلیوں کے حقوق کے لیے بھی سرگرم رہی ہیں۔ بعد میں انہوں نے قومی دھارے کی سیاست میں قدم رکھا اور بی جے پی کے ٹکٹ پر ریاست اوڈیشہ کی اسمبلی میں دو مرتبہ منتخب ہوئیں۔
سال 2015 میں وہ ریاست جھاڑکھنڈ کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئی تھیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو ٹویٹ میں کہا تھا کہ دروپدی مرمو نے اپنی زندگی معاشرے اور غریبوں و پسماندہ افراد کی خدمت میں وقف کر دی۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری قوم کی بہترین صدر ثابت ہوں گی۔‘
اپنی ذاتی زندگی میں بھی دروپدی مرمو انتہائی دردناک لمحات سے گزر چکی ہیں۔ مختلف واقعات میں ان کے شوہر او دو بیٹوں کی موت واقع ہوئی تھی۔
صدارتی انتخابات جیتنے پر دروپدی مرمو انڈیا کی پہلی قبائلی اور دوسری خاتون صدر ہوں گی۔
دوسری جانب انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی کے سابق رکن یشونت سنہا کی حمایت کریں گے۔
انڈیا کے آئین میں صدر کا بنیادی طور پر رسمی کردار ہوتا ہے جبکہ وزیراعظم اور کابینہ کو ایگزیکٹو کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔
تاہم کسی بھی سیاسی بحران کے دوران صدر کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے بالخصوص بے نتیجہ قومی انتخابات کے موقع پر صدر ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی جماعت کو حکومت بنانے کا حق ہے۔

شیئر: