Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’گمراہ کن اشتہارات چلائے‘ سام سنگ کو 98 لاکھ ڈالر کا جرمانہ

سام سنگ نے چند مخصوص فونز سے متعلق غلط دعوے کیے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی
آسٹریلیا کی عدالت نے موبائل فون بنانے والی بڑی کمپنی سام سنگ کو گمراہ کن اشتہارات چلانے پر 98 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا کہا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آسٹریلیا کی وفاقی عدالت کے جج جسٹس برینڈن مرفی نے جمعرات کو حکم جاری کیا کہ سام سنگ تیس دنوں کے اندر جرمانہ ادا کرے۔
عدالت نے کہا ہے کہ کوریہ سے تعلق رکھنے والی کمپنی سام سنگ آسٹریلوی مسابقاتی اور کنزیومر کمیشن کو بھی ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر ادا کرے جنہوں نے چار سال قبل موبائل کمپنی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
سام سانگ نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے سال 2016 سے 2018 کے درمیان نو ایسے اشتہارات چلائے جن میں گلیکسی سمارٹ فون کے سات ماڈلز کے بارے میں غلط اور گمراہ کن دعوے کیے گئے۔ 
سام سنگ نے غلط دعویٰ کیا تھا کہ سمارٹ فون کے یہ ماڈلز ’واٹر رزسٹنٹ‘ ہیں جن میں ایس سیون، ایس سیون ایج، اے فائیو (2017)، اے سیون (2017)، ایس ایٹ، ایس ایٹ پلس اور نوٹ ایٹ شامل ہیں۔
سام سنگ کی جانب سے چلائے گئے اشتہارات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ مخصوص فون ماڈلز سوئمنگ پولز اور سمندر میں بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن چارجنگ پورٹس گیلے ہونے کی صورت میں اگر فون ریچارج کیا جاتا تو چارجنگ پورٹ خراب ہو سکتی تھی۔
تاہم سام سنگ کا کہنا ہے کہ چارجنگ پورٹ کا مسئلہ صرف ان سات ماڈلز میں موجود ہے جن کی شناخت عدالت نے کی تھی۔ سام سنگ کے یہ ماڈلز سال 2016 سے 2017 کے درمیان لانچ ہوئے تھے۔

سام سنگ نے موبائل فونز کے ’واٹر ریزسسٹنٹ‘ ہونے کا غلط دعویٰ کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

سام سنگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چارجنگ پورٹس کا یہ مسئلہ موجودہ فونز میں موجود نہیں ہے۔
سام سنگ مذکورہ ماڈلز کے اکتیس لاکھ فونز آسٹریلیا میں بیچ چکا ہے تاہم عدالت یہ تعین نہیں کر سکی کہ کتنے صارفین کو چارجنگ پورٹ کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔
سام سنگ کے آتھورائزڈ ڈیلرز سے بہت زیادہ صارفین چارجنگ پورٹس ٹھیک کروا چکے ہیں تاہم ان کی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
آسٹریلوی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اکثر صارفین نے سام سنگ کے یہ ’توہین آمیز‘ اشتہارات دیکھ کر گیلیکسی فون خرید لیا ہوگا۔
تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ ماڈلز استعمال کرنے والے سینکڑوں صارفین کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں جن کے فونز پانی پڑنے سے خراب ہو گئے تھے۔

شیئر: