Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میر مرتضیٰ کی برسی، ’جو قتل ہوا وہ بھٹو ہے‘

میر مرتضیٰ کی اہلیہ بے نظیر بھٹو کو شوہر کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا تو حیران رہ گئے اور ان کی حیرانی بجا بھی تھی کیونکہ پاکستان کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو ننگے پاؤں روتے ہوئے ہسپتال جا رہی تھیں۔ خبر تھی ہی ایسی کہ بے نظیر کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ پہلے باپ پھر چھوٹا بھائی اور اب ذوالفقار علی بھٹو کی آخری اولاد نرینہ مرتضٰی علی بھٹو مارے گئے تھے۔
لیکن بے نظیر کے تمام تر دکھ کے باوجود اس ہلاکت نے کئی سوالیہ نشان چھوڑ دیے کیونکہ وفاق اور سندھ میں حکومت پیپلز پارٹی کی تھی اور مرتضٰی بھٹو کی ہلاکت کراچی میں اپنے گھر کے باہر پولیس مقابلے میں ہوئی تھی۔
یہاں تک کہ مرتضٰی علی بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو اور بیٹی فاطمہ بھٹو جو اس وقت 14 سال کی تھیں۔ آج بھی بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو اپنے والد کے قتل کا ذمہ دار مانتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں ان الزامات نے اس وقت دوبارہ سے سر اٹھایا جب ملک کے معروف سائنس دان اور استاد ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ایک پوڈ کاسٹ میں مرتضیٰ بھٹو سے متعلق بات کرتے ہوئے جہاں قابلیت کے حوالے سے ان کے ایک اچھے طالب علم ہونے پر سوال اٹھایا، وہیں ان کی موت کا الزام بھی آصف علی زرداری پر عائد کیا۔
بقول ڈاکٹر پرویز ہود بھائی ’ان کی آپس میں اتنی لگتی تھی اور بے نظیر کو بھی سب پتہ تھا لیکن اس نے کچھ نہیں کیا۔ وہ بہت جاہ طلب تھی، اس نے کہا زرداری سے میری لڑائی ہو گئی تو میری سیاست ختم ہو جائے گی۔‘
لیکن بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری پر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرنے کے الزامات کیوں لگے، اس کے لیے ان تینوں کے تعلقات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کے بیٹوں مرتضیٰ اور شاہنواز نے مسلح جدوجہد کے لیے ’الذوالفقار‘ کے نام سے تنظیم بنائی۔ تشدد کا رستہ کبھی برگ وبار نہیں لاتا اور یہ تباہی پر منتج ہوتا ہے، بھائیوں کے برعکس بے نظیر بھٹو نے سیاسی جدوجہد کی راہ چنی جو نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔

مرتضیٰ بھٹو کا قتل بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ہوا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

بھٹو کے بیٹوں کےعمل نے پیپلز پارٹی کے خیر خواہوں کو بھی پریشان کیا اور انہوں نے ان کو صحیح راہ سجھانے کی کوشش کی، ایسوں میں فیض احمد فیض بھی شامل تھے جن کا خیال تھا کہ بھٹو کے بیٹے بڑی حماقت کر رہے ہیں اور سوویت یونین اور افغانستان نے اپنی سرزمین پر انہیں اپنی تنظیم قائم کرنے کی اجازت دے کر دانش مندی کا ثبوت نہیں دیا۔
خالد حسن نے اپنے ایک واقف کار کے ذریعے فیض کا مسلح جدوجہد ترک کرنے کا مشورہ مرتضیٰ بھٹو تک پہنچایا بھی جس پر انہوں نے کان نہ دھرے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ فیض کا مشورہ کس قدر صائب تھا۔
بے نظیر بھٹو کو اپنے دوسرے دور حکومت میں جہاں اسلام پسندوں، مقتدر حلقوں اور مسلم لیگ ن کی مخالفت کا سامنا تھا وہی ان کو خاندان کے اندر بھی چیلنج درپیش تھا۔
صدیوں سے بھٹوز میں عورتوں کو زمین کے تحفظ اور اولاد پیدا کرنے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن سر شاہنواز بھٹو نے اس روایت میں دراڑ ڈالی اور جہاں بیٹوں کو پسند کی شادی کرنے کی اجازت دی وہیں بیٹیوں کی شادیاں بھی خاندان سے باہر کیں۔
اپنے باپ کی ان لبرل اقدار کو ذوالفقار علی بھٹو نے نئی بلندیوں تک پہنچایا اور اپنی بیٹی کو نہ صرف اکیلے بیرون ملک یونیورسٹی بھیجا بلکہ سیاست میں لانے کا بھی فیصلہ کیا۔
برطانوی صحافی اون بینٹ جونز کی کتاب ’The Bhutto Dynasty‘ کے مطابق ڈیتھ سیل میں موجود بھٹو نے بے نظیر کا تقابل اندرا گاندھی سے کرتے ہوئے کہا ’مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ میری بیٹی جواہر لال نہرو کی بیٹی سے بڑھ کر ہے۔‘
لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے جہاں بیٹی کو سیاسی میدان کے لیے تیار کیا تھا وہیں مرتضیٰ کو بھی پیچھے نہیں رکھا تھا۔ بیٹے کو بھی آکسفورڈ اور ہاورڈ جیسی یونیورسٹیوں سے تعلیم دلائی تھی اور جیسے شملہ معاہدے کے وقت بے نظیر کو ساتھ لے کر گئے تھے، ویسے ہی مرتضیٰ کو اپنے سفارتی دوروں میں ساتھ رکھا تھا۔

 بے نظیر اور بیگم نصرف بھٹو کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

Smith Louis J کی ایڈٹ کردہ ’امریکہ کے سفارتی تعلقات‘ نامی کتاب کے آٹھویں والیم میں شامل ایک میمو کے مطابق سنہ 1973 میں وائٹ ہاؤس میں منعقد ایک ڈنر میں جہاں مرتضیٰ بھٹو بھی موجود تھے، امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد کے خیال میں یہ 19 سالہ لڑکا مستقبل میں پاکستان کا وزیراعظم ہو گا۔
’میرے خیال میں اس سے قبل واحد نوجوان سیاست دان جسے لانچ کیا گیا تھا، ونسٹن چرچل تھا۔‘
نصرت بھٹو کا بھی اصرار تھا کہ ان کے شوہر نے کبھی بے نظیر کو مرتضیٰ پر ترجیح نہیں دی تھی۔ سنہ 1993 میں انہوں نے امریکی میگزین ’The Newyorker‘ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’بے نظیر کا انتخاب انہوں نے (ذوالفقار علی بھٹو) نہیں، میں نے کیا تھا۔‘
’اپنے شوہر کی سیاسی وارث میں تھی لیکن اپنی خرابی صحت کی وجہ سے میں نے پارٹی کو کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ میری جگہ بے نظیر ہو۔ میں کیونکہ پہلے سے ہی چیئرپرسن تھی تو وہ (پارٹی) اسے چیئرپرسن نہیں بنا سکتے تھے۔ اس لیے شریک چیئرپرسن کا عہدہ تخلیق کیا گیا، جو ہم دونوں ہیں۔‘
سنہ 1987 میں اس وقت دمشق میں موجود مرتضیٰ بھٹو کا بھی دعویٰ تھا کہ 1977 میں ان کے والد کی جانب سے انہیں لاڑکانہ میں پولیٹکل ایجنٹ بنانا اس بات کی غمازی تھا کہ ’مجھے وزیراعظم ہونا چاہیے نہ کہ اسے (بینظیر بھٹو کو)۔‘
کراچی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی مجاہد بریلوی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنے بیٹے کی سیاسی تربیت کر رہے تھے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مرتضیٰ کی سیاسی تربیت ایسے نہیں ہوئی تھی جیسے بے نظیر کی ہوئی تھی اور وہ اپنی شخصیت کے اعتبار سے سیاسی آدمی نہیں تھے جبکہ بے نظیر تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کے نام ’My Dearest Daughter‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی تھی جو ان کی سیاسی تربیت کے لیے تھی جبکہ مرتضیٰ اپنے والد کی پھانسی کے بعد ’ایک ناراض نوجوان‘ کی حیثیت سے میدان میں آئے تھے۔

مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

بے نظیر  بھٹو کے پہلے دور حکومت میں دونوں بہن بھائی کے تعلقات میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ مرتضیٰ نے ایک انٹرویو میں اپنی بہن پر حکومت کی تشکیل کے لیے جنرل اسلم بیگ اور غلام اسحاق خان کے ساتھ سمجھوتے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں ہوتا تو پیپلز پارٹی کی اکثریت کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھتا اور دیکھتا کہ وہ دوسری حکومت کیسے بناتے ہیں۔‘
تاہم سنہ 1988 میں اپنی بہن کے اقتدار میں آنے کی صورت میں مرتضیٰ کو ایک موقع بھی نظر آیا تھا اور وہ تھا پاکستان واپسی۔ لیکن بے نظیر نے انکار کرتے ہوئے اپنے بھائی کو کہا کہ وہ شام سے سیدھا پاکستان نہیں آ سکتے بلکہ انہیں لندن میں قیام کر کے اپنی ساکھ کو بہتر کرنا چاہیے جس سے انہیں قتل، دہشت گردی اور طیارہ اغوا کے مقدمات کے خلاف قانونی جنگ میں مدد ملے گی۔
مرتضیٰ کی ملک واپسی کے فیصلے میں تھوڑا تعطل تو آیا لیکن سنہ 1993 میں انہوں نے دمشق سے ایک دھماکہ خیز بیان میں نہ صرف پاکستان آنے کا اعلان کیا بلکہ پیپلز پارٹی کے خلاف اپنی علیحدہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو بنا کر الیکشن لڑنے کا بھی اعلان کیا۔
نصرت بھٹو اپنے بیٹے کی وطن واپسی کے حوالے سے اتنی حساس تھیں کہ انہوں نے بیٹی کو لاعلم رکھتے ہوئے فوج اور صدر کے پاس اپنے پیغام رساں بھیجے تاکہ مرتضیٰ کی واپسی کے حوالے سے مذاکرات کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مرتضیٰ کو لازمی طور معافی ملنی چاہیے اور اس کی واپسی کا اعلان بھی دو ہفتے قبل ہونا چاہیے۔‘
’میں نہیں چاہتی کہ وہ خفیہ طور پر واپس آئے۔ پاکستان کے عوام کی جانب سے اس کا اچھی طرح سے استقبال ہونا چاہیے کیونکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا بیٹا ہے۔‘
ماں کی بیٹے کے لیے محبت یہاں تک تھی کہ انہوں نے اس کی انتخابی مہم بھی چلانے کا فیصلہ کیا جو بے نظیر کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔
نومبر 1993 میں حکام نے مرتضیٰ کو کراچی نہ اترنے دیا اور ان کا طیارہ خیلجی ملک کی جانب موڑ دیا گیا۔ لیکن ان کی اگلی کوشش کامیاب رہی اور 17 سال بعد براستہ دبئی پاکستان پہنچے، پر انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

قتل کی تحقیقات میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے ریٹائرڈ افسران سے مدد لی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی

اس موقعے پر بھی نصرت بھٹو پیچھے نہیں رہی تھیں اور ایئرپورٹ اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے پہنچی تھیں اور اپنی آنکھوں کے سامنے اسے گرفتار ہوتے دیکھا تھا۔
غنویٰ بھٹو کے مطابق ’وہ (نصرت بھٹو) ایئرپورٹ پر ان سے ملنے پہنچی تھیں اور انہوں نے ایک افسر کو تھپڑ بھی مار دیا تھا۔‘
بے نظیر بھٹو نے ان کی مخالفت اور مرتضیٰ کی حمایت کا انتقام اپنی ماں سے ایسے لیا کہ اپنی جماعت کی سینٹرل ایگزیگٹو کمیٹی کا اجلاس بلا کر انہیں شریک چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹا دیا، جسے نصرت بھٹو نے ’بیٹی کی جانب سے پیٹھ میں چھرا گھونپنا‘ قرار دیا۔
یہ وہ وقت تھا جب بھٹو خاندان کی اندرونی لڑائی قابو سے باہر ہو چکی تھی۔
جنوری 1994 میں ذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش کے موقع پر نصرت بھٹو نے بے نظیر حکومت کے ارکان کو اپنے شوہر کی قبر پر آنے سے منع کر دیا جبکہ بے نظیر آنے کے لیے بضد تھیں، جس کا نتیجہ بھٹو خاندان کی ان دو طاقتور خواتین کے ورکرز کے درمیان ذوالفقار علی بھٹو کی قبر پر تصادم کی شکل میں نکلا، جس میں تین افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔‘
اس موقع پر نصرت بھٹو کا غصہ آسمان کو چھونے لگا تھا، انہوں نے کہا کہ ’میں اس سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ اتنی بے رحم کیسے ہو سکتی ہے۔‘ ماں نے اپنی بیٹی کی حکومت کو ضیا سے بدتر قرار دیا۔
دوسری جانب مرتضیٰ اب سیاسی طور پر کام کرنے کے لیے تو آزاد تھے لیکن انہیں پاکستان کے نئے زمینی حقائق سے مطابقت پیدا کرنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ جب وہ اپنے والد کی زبان استعمال کرتے ہوئے سوشلزم اور انقلاب کی بات کرتے تو بہت سے پاکستانیوں کو یہ پرانی اور بے ربط باتیں لگتی تھیں۔ اپنی تمام تر محنت کے باوجود ان کی جماعت سندھ اسمبلی میں صرف ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی جو خود مرتضیٰ کی تھی۔
اپنے بہنوئی آصف علی زرداری کے حوالے سے ان کی ناپسندیدگی بھی واضح تھی۔ ہیرلڈ میگزین کو ایک انٹرویو میں انہوں نے ’آصف بابا اور چالیس چور‘ جیسے القاب استعمال کیے۔
اون بینٹ جونز کے مطابق ’مرتضیٰ بھٹو کی آصف علی زرداری کے حوالے سے حقارت اس حد تک تھی کہ انہوں نے 70 کلفٹن (گھر) کے باتھ روم میں ان کی تصویر لگا رکھی تھی تاکہ جو بھی وہاں جائے اسے دیکھے۔‘

بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ کو شریک چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

سالے اور بہنوئی کے خراب تعلقات کے حوالے سے مجاہد بریلوی کا کہنا تھا کہ ’بڑے لوگ بھی عام انسانوں کے جیسے ہوتے ہیں۔ ان کے رشتوں میں بھی دراڑیں آتی ہیں۔ مرتضیٰ سمجھتے تھے کہ آصف علی زرداری نے پارٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سیاسی لوگوں کے اختلافات نیچے ان کے ورکرز تک پہنچ جاتے ہیں۔‘
ان تمام تر خراب تعلقات کے باوجود بھٹو خاندان کے خیر خواہوں جن میں بشیر ریاض بھی شامل تھے، کی کوششوں سے جولائی 1996 میں مرتضیٰ بھٹو نے وزیراعظم ہاؤس میں اپنی بہن سے والدہ کی موجودگی میں ملاقات کی، جہاں مرتضیٰ کے ایک دوست کے مطابق تینوں آنسو بہاتے رہے۔
بے نظیر بھٹو نے اس ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ہمیشہ کہا کہ ان کے اپنے بھائی کے ساتھ اختلافات ختم ہو گئے تھے۔ لیکن ’The Bhutto Dynasty‘ میں مرتضیٰ بھٹو کے ایک قریبی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بے نظیر کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اس ملاقات میں مرتضیٰ بھٹو کی آصف علی زرداری کے ساتھ تلخ کلامی کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے: ’جیسے ہی ملاقات کا آغاز ہوا تو زرداری اندر آئے جس کی مرتضیٰ کو توقع نہیں تھی۔ آصف علی زرداری نے مرتضیٰ بھٹو سے پوچھا کہ تمہارے اپنی بہن سے اختلافات ہیں لیکن میں نے کیا کِیا ہے؟ جس پر مرتضیٰ نے چیختے ہوئے کہا کہ تم نے کیا نہیں کیا۔ تمہاری کرپشن نے میرے باپ کی سیاسی جماعت کو برباد کر دیا ہے۔‘
دونوں بہن بھائی کی آخری ملاقات کے حوالے سے برطانیہ کی ممتاز صحافی وکٹوریا سکوفیلڈ کو بشیر ریاض نے بتایا کہ ’یہ ایک اچھی ملاقات تھی اور انہوں نے دوبارہ ملنے پر اتفاق کیا تھا۔‘ یہاں تک کہ 18 ستمبر کو مرتضیٰ بھٹو کی 42ویں سالگرہ کے موقع پر بے نظیر نے انہیں کیک اور پھول بھی بھیجے تھے۔
مجاہد بریلوی کے مطابق بھی یہ آخری ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی ’جو شاید مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کا بھی باعث بنی۔‘

20 ستمبر کو کیا ہوا؟

17 ستمبر کو کراچی پولیس نے مرتضیٰ بھٹو کے قریبی ساتھی علی سونارا کو گرفتار کر لیا تھا۔ سونارا پیپلز پارٹی کے پرانے ورکر تھے لیکن بے نظیر کے پہلے دور حکومت میں ان سے اختلافات کے بعد وہ ان کے بھائی سے جا ملے تھے۔

1994 میں نصرت بھٹو نے بے نظیر کو والد کی قبر پر آنے سے روکا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

اپنے قریبی ساتھی کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی مرتضیٰ کراچی کے کئی تھانوں میں پہنچے جہاں ان کے خیال میں علی سونارا حوالات میں بند ہو سکتے ہیں۔
راجہ انور کی کتاب ’دہشت گرد شہزادہ‘ کے مطابق ’مرتضیٰ اور عاشق جتوئی کچھ مسلح ساتھیوں کے ساتھ اس پولیس سٹیشن پہنچے جہاں ان کے خیال میں علی سنارا کو لایا گیا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے پولیس آفیسروں اور نوجوانوں کو ہاتھ اوپر اٹھانے کا حکم دیا اور ایک ایک کر کے کراچی کے اس خوفناک پولیس سٹیشن کے کمرے چھان مارے۔ پاکستان کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقعہ تھا کہ کوئی سیاستدان اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ اپنے کسی ساتھی کو چھڑانے کے لیے جا رہا تھا۔ بہرحال سونارا نہ مل سکا۔ واپس جاتے ہوئے مرتضیٰ نے پولیس والوں کو اپنے مخصوص انداز میں انتباہ کیا کہ اگر سونارا کو کچھ ہوا تو ان میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔‘
اس وقت کراچی میں تعینات سینیئر پولیس افسران نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی جبکہ فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب ’Songs of Blood and Sword‘ میں اپنے والد کے گرم دماغ ہونے کا ذکر کیا ہے۔
اس سے اگلے روز مرتضیٰ بھٹو کی 42 ویں سالگرہ کے دن کراچی میں متعدد دھماکے ہوئے جو حکام کے مطابق ’مرتضیٰ بھٹو کے آدمیوں کا کام تھا‘ جس کا مقصد علی سونارا کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔
حالات نہایت کشیدہ ہوتے جا رہے تھے۔ فاطمہ بھٹو کے مطابق 20 ستمبر کو ان کے گھر کے قریب چار بکتر بند گاڑیاں پارک تھیں۔ مرتضیٰ نے اپنے دوستوں کو بھی بتا دیا تھا کہ شاید وہ گرفتار ہو جائیں۔
اسی شام ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ بھٹو نے علی سونارا کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا ’ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ پولیس میں موجود جرائم پیشہ عناصر نے میرے خلاف ایک سازش رچی ہے۔‘
برطانوی صحافی اون بینٹ جونز کی کتاب ’The Bhutto Dynasty‘ کے مطابق اس کے بعد مرتضیٰ بھٹو کراچی کے ایک مضافاتی علاقے میں اپنے حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کے لیے نکلے۔ ریلی سے واپسی پر ان کا چار گاڑیوں پر مشتمل قافلہ ان کے گھر 70 کلفٹن کے قریب پولیس ناکے پر رکا۔ ’مرتضیٰ کے گاڑی سے باہر نکلتے ہی گولیاں چلنے لگیں جو انہیں لگیں اور وہ خون میں لت پت 20 منٹ تک سڑک پر پڑے رہے۔ انہیں دیر سے غیر معیاری طبی امداد دی گئی اور وہ دم توڑ گئے۔‘
’لیکن حقیقت میں انہیں اتنی دیر تک بے یارو مددگار چھوڑا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی موت حادثہ نہیں تھی۔‘

نصرت بھٹو نے بیٹے کی انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

مرتضیٰ کے ساتھ آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے جبکہ چھ کو گرفتار کر لیا گیا۔
مرتضیٰ بھٹو کوئی عام آدمی نہیں تھے وہ وزیراعظم پاکستان کے بھائی تھے اور انہیں وقت پر طبی امداد نہ ملنا نہایت غیرمعمولی بات تھی۔
بے نظیر بھٹو نے اپنے بھائی کے قتل کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ریٹائر پولیس افسران اور برطانوی وزارت داخلہ سے منظور شدہ ایک پیتھالوجسٹ کی خدمات حاصل کیں۔ یہ لوگ ان کی حکومت کے خاتمے سے چار روز قبل اکتوبر 1996 میں کراچی پہنچے۔ ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ اصل حقیقت کو عیاں کیا جائے۔
برطانوی تفتیش کاروں نے شکایت کی کہ جائے وقوع کی صفائی کر دی گئی ہے، ایک سو سے زائد گولیاں چلیں اور تمام کی تمام غائب کر دی گئیں۔
اپنے بیٹے کے قتل کے کچھ ہی دیر بعد نصرت بھٹو نے بیان دیا کہ ’اگر مجھے انصاف کی یقین دہانی کرائی جائے تو میں آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف اپنے بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج کراؤں گی۔‘ تاہم بعد میں انہوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔
فاطمہ بھٹو نے اپنی سنہ 2010 میں آنے والی کتاب ’Songs of Blood and Sword‘ میں لکھا کہ ’آصف علی زرداری کسی حد تک ان کے والد کی موت کے ذمہ دار ہیں۔‘
غنویٰ بھٹو کے خیال میں صرف بے نظیر ہی اس آپریشن کی اجازت دے سکتی تھیں۔ ’وہ اس سب سے بہت حد تک واقف تھیں، کوئی اور اس کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ آصف انہیں میر کو گرفتار کرنے کا نہیں کہہ سکتا تھا۔۔۔۔ صرف وہی تھیں جو یہ سب کروا سکتی تھیں۔‘
سینیئر صحافی مجاہد بریلوی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے حوالے سے بتایا کہ ’اس وقت صوبائی حکومت کے ایک عہدیدار نے انہیں بتایا تھا کہ مرتضیٰ بھٹو کے علی سونارا کی رہائی کے لیے پولیس سٹیشن میں گھسنے کے واقعے کی اطلاع اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کو ملی، جس پر انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر سے بات کی، تو انہوں نے کہا کہ اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ باقی آپ کو پتہ ہے کہ پولیس کا کام کرنے کا اپنا ایک انداز ہے۔‘
یہ واقعہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا بعد میں نصیر اللہ بابر نے ایسی کسی بات کی تردید کی تھی۔

نصرت بھٹو نے اپنی بیٹی کی حکومت کو ضیا سے بدتر قرار دیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بننے والا جوڈیشل کمیشن بھی مرتضیٰ بھٹو کے قاتل کی شناخت میں ناکام رہا۔ مجاہد بریلوی کے مطابق ان کے ساتھ ایک انٹرویو میں کمیشن کے سربراہ جسٹس ناصر اسلم زاہد نے بھی ’اپنی ناکامی تسلیم‘ کی۔
اس وقت کراچی پولیس میں ڈی آئی جی کے عہدے پر تعینات شعیب سڈل نے اون بینٹ جونز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’واجد درانی (70 کلفٹن کے باہر آپریشن کے انچارج) نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں نہ صرف آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی بلکہ 70 کلفٹن کے باہر پولیس افسران کی کمک کے لیے اپنے ذاتی گارڈز بھی بلا لیے تھے۔‘
واجد درانی اپنے خلاف ان تمام الزامات سے انکاری ہیں۔ آصف علی زرداری نے بھی ہمیشہ کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ان کے دور صدارت میں سندھ ہائی کورٹ نے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا تھا اور اس سے اگلے سال واجد درانی سمیت اس پولیس مقابلے میں شامل تمام پولیس والے بھی بری ہو گئے تھے۔
اپنی خود نوشت ’دختر مشرق‘ میں بے نظیر بھٹو نے اپنے بھائی کے قتل کا الزام ’اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر‘ پر لگایا ہے، جو ان کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بے نظیر کے مطابق ’ان کے بھائی کی موت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ان دونوں کا تصفیہ ہو گیا تھا۔‘
مرتضیٰ بھٹو کو کس نے قتل کیا اس سوال  کا جواب شاید ہی کبھی مل سکے لیکن اس کے کارکن آج بھی نعرہ لگاتے ہیں: ’جو قتل ہوا وہ بھٹو ہے۔‘

شیئر: