Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیصل واوڈا کو تاحیات نااہل نہیں کیا جا سکتا: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ

سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کیس میں مختصر فیصلہ 25 نومبر کو سنایا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے سابق رہنما فیصل واوڈا کی نااہلی سے متعلق کیس میں قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس امیدوار کو الیکشن سے قبل نااہل کرنے کا اختیار نہیں۔ اس لیے فیصل واوڈا کو غلط بیانی پر تاحیات نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اتوار کے روز سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا جو چار صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے۔
چیف جسٹس نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ فیصل واوڈا نے تسلیم کیا کہ ان سے غلط بیانی ہوئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ 2018 میں رکن اسمبلی بننے کے اہل نہیں تھے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ فیصل واوڈا نے عدالت کو بتایا کہ 25 جون 2018 کو شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ ملا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ ان سے غلط بیانی ہوئی۔ فیصل واوڈا کی جانب سے غلطی تسلیم کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کا اطلاق ہوتا ہے۔ فیصل واوڈا اب موجودہ اسمبلی کی مدت تک نااہل تصور ہوں گے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ’فیصل واوڈا آئندہ انتخابات لڑنے کے لیے اہل ہوں گے۔ عدالت نے فیصل واوڈا کو حکم دیا کہ وہ سینیٹ کی نشست سے اپنا استعفیٰ فوری چیئرمین سینیٹ کو ارسال کر دیں۔‘
’الیکشن کمیشن کے پاس امیدوار کو الیکشن سے قبل نااہل کرنے کا اختیار نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کا تاحیات نااہلی فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔‘
سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کیس میں مختصر فیصلہ 25 نومبر کو سنایا تھا۔
گذشتہ برس فیصل واوڈا قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر مارچ 2021 میں سینیٹر بن گئے تھے۔ فیصل واوڈا نے ایک ایسے وقت پر یہ استعفیٰ دیا تھا جب ان کی دہری شہریت سے متعلق مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے زیر التوا تھا۔
الیکشن کمیشن نے چند روز قبل فیصل واوڈا کو سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے امریکی شہریت چھوڑنے سے متعلق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے دیا تھا۔

فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف فروری 2022 میں اپیل دائر کی تھی (فائل فوٹو: فیصل واوڈا ٹوئٹر)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا کی طرف سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی تھی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ’جھوٹا بیان حلفی دینے کے سنگین نتائج ہوتے ہیں اور اس بارے میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے، جس میں متعدد اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا گیا۔‘
فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف فروری 2022 میں اپیل دائر کی تھی جس کا فیصلہ 25 نومبر کو آیا تھا۔

شیئر: