Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گِرتے فائٹر جیٹ سے ’خون آلود سیلفی‘، پائلٹ کے لیے ’ہیرو آف یوکرین‘ کا خطاب

مطابق ویڈائم ووروشائلوف نے جہاز گرنے سے قبل نکل کر سیلفی شیئر کی تھی (فوٹو: انسٹاگرام)
گرتے ہوئے فائٹر جیٹ سے نکل کر اپنے ’خون آلود‘ چہرے کی سیلفی بنانے والے یوکرین کے پائلٹ کو صدر زیلنکسی نے ’ہیرو آف یوکرین‘ کا خطاب دیا ہے۔
پائلٹ ویڈائم ووروشائلوف کو خصوصی انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔
نیوز ویک کے مطابق ویڈائم ووروشائلوف نے اکتوبر میں یوکرینی شہر وینتسیا کے اوپر ایرانی ساختہ ڈرون کو نشانہ بنایا تھا، اس وقت وہ مگ 29 اڑا رہے تھے۔
ان کا نشانہ بننے والے ڈرون کا ملبہ شائلوف کے جہاز پر گرا جس سے وہ توازن کھو بیٹھا اور گرنے والا تھا تاہم اسی وقت ہی وہ جہاز سے نکل گئے اور ڈرون کا کچھ ملبہ ان کی گردن اور چہرے سے ٹکرایا جس سے وہ زخمی ہو گئے تھے۔
انہوں نے اسی وقت ایک سیلفی بنائی اور تھمب اپ کے اشارے کے ساتھ شیئر کی۔
انہوں نے کیپشن میں لکھا ’ہم کو کوئی بھی نہیں توڑ سکتا۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’یوکرین فوج نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری مہذب دنیا کا دفاع کر رہی ہے۔ یہی وہ ڈھال ہے جو مغربی دنیا کو محفوظ رکھ رہی ہے، مگر یہ دفاع یوکرین کے بیٹوں کو بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ اس لیے آپ کو سمجھنے اور یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
چار روز بعد انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر یہ بھی کہا کہ وہ اس علاقے کے لوگوں کے پاس گئے اور ان سے معذرت طلب کی جہاں ڈرون کا ملبہ گرا تھا۔

صدر زیلنسکی نے پائلٹ کو ’ہیرو آف یوکرین‘ کا خطاب دیا ہے  (فوٹو: اے ایف پی)

’میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو آہنی اعصاب کے مالک ہیں اور انہوں نے میری مدد کی۔‘
سیلفی سامنے آنے کے بعد صدر ولادیمیر زیلنسکی نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میجر ویڈائم ووروشائلوف کو ہیرو آف یوکرین اور گولڈ سٹار کا میڈل دیا جائے گا۔‘
صدر زیلنسکی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’یہ انعام ملک اور یہاں کے عوام کی بے لوث خدمت کرنے والے ہیروز کو دیا جاتا ہے۔‘

 


روس نے رواں برس 24 فروری کو پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا (فوٹو: اے پی)

یوکرین کی ایئرفورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مائیکولا اولیشکوف کی جانب سے شائلوف کو ’ہیرو آف یوکرین‘ قرار دینے کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شائلوف کا تعلق کریمنچوک کے علاقے سے ہے انہوں نے 2011 میں وہیں کے کالج سے گریجویشن کی اور بعدازاں خرکیف کی نیشنل یونیورسٹی میں بھی زیرتعلیم رہے۔
خیال رہے روس نے رواں برس 24 فروری کو پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے وہاں مسلسل لڑائی جاری ہے۔

شیئر: