Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں 99 فیصد بھتے کی کالیں افغانستان سے آتی ہیں، اے آئی جی

افغانستان میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد خیبرپختونخوا کے قبائلی بالخصوص جنوبی اضلاع میں دہشت گردی پھر سر اٹھانے لگی ہے۔
پاکستان کی حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کے دوران بھی ٹارگٹ کلنگ اور بھتّہ خوری کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے سیز فائر ختم کرنے کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں ایڈیشنل آئی جی پولیس محمد علی بابا خیل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ہمسایہ ملک میں حالات کی وجہ سے سکیورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ’ہمسایہ ملک (افغانستان) 43 برسوں سے حالتِ جنگ میں ہے۔ امریکی فوج جاتے ہوئے سات ارب ڈالر کا عسکری سامان چھوڑ کر گئی جو وہاں موجود قوتیں استعمال میں لا سکتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ظاہر سی بات ہے صوبے کے بارڈر ملے ہوئے ہیں، اب وہ کسی نہ کسی جگہ پر استعمال تو ہوں گے۔ ہمارا صوبہ براہِ راست اس سے متاثر ہو رہا ہے۔‘
ایڈیشنل آئی جی پولیس بابا خیل نے بتایا کہ ’99 فیصد بھتّے کی کالیں بارڈر کے اس پار سے آتی ہیں اس لیے انہیں ٹریس کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم بہت سے کیسز میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔‘
ان کے بقول کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ اقدامات کیے جاتے ہیں۔
محمد علی بابا خیل نے کہا کہ ’ماضی میں قبائلی علاقوں کے لیے اپنی فورس تھی لیکن صوبے میں ضم ہونے کے بعد ان اضلاع کی پولیس کا بوجھ ہمیں برداشت کرنا پڑا۔‘

20 دسمبر کو ضلع بنوں کے سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں یرغمال اہلکاروں کی بازیابی کے لیے آپریشن کیا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کے 1200 اہلکاروں کی تربیت ابھی تک نہیں ہوئی تاہم 24 ہزار قبائلی پولیس کے اہلکاروں کی ٹریننگ کر چکے ہیں۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا صوبے میں اہلکاروں کی تعداد کم ہے، ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ صوبے میں پولیس کی کوئی کمی نہیں تاہم پولیس کی استعداد  کو بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال پولیس پر مختلف نوعیت کے مجموعی طور پر 220 حملے ہوئے جن میں 120پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 125زخمی ہوئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق خیبرپختونخوا میں رواں سال 768 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 90 دہشت گردوں کی سر کی قیمت بھی مقرر تھی۔
20 دسمبر کو ضلع بنوں کے سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں یرغمال اہلکاروں کی بازیابی کے لیے آپریشن کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں موجود 25 شدت پسند ہلاک جبکہ 10 گرفتار کیے گئے۔ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں تین سکیورٹی اہلکار بھی جان سے گئے جبکہ دو افسران سمیت 10 سپاہی زخمی ہوئے۔ 

شیئر: