Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کم وقت میں مریخ کا سفر، جوہری ٹیکنالوجی والے خلائی راکٹ کی تیاری

ناسا کے مطابق2027 تک جوہری تھرمل ٹیکنالوجی تیار کر لی جائے گی۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ خلابازوں کو مریخ پر لے جانے کے لیے محکمہ دفاع پینٹاگون کے ساتھ مل کر جوہری توانائی سے چلنے والا راکٹ انجن تیار کر رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کا کہنا ہے کہ خلائی ایجنسی پینٹاگون کی تحقیاتی ایجنسی کی ٹیم کے ہمراہ سال 2027 تک جدید جوہری تھرمل ٹیکنالوجی تیار کر لیں گے۔
بل نیلسن نے جاری بیان میں کہا کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے خلا تک اور زمین پر واپسی تک کا سفر تیزی سے ممکن ہو سکے گا۔
پینٹاگون کی ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی (ڈی اے آر پی اے) انٹرنیٹ سمیت 20 ویں صدی کی اہم ایجادات میں کردار ادا کر چکی ہے۔
ناسا کے مطابق جوہری تھرمل توانائی سے چلنے والے راکٹ تین گنا زیادہ موثر ہیں اور سفر کے دورانیے کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے جو خلا کے مشن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ڈی اے آر پی اے کی ڈائریکٹر سٹیفنی ٹامپکنز کا کہنا ہے کہ ناسا کے ساتھ کامیاب شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے۔
’چاند پر کم دورانیے میں مختلف مواد پہنچانے کے لیے نیوکلیئر تھرمل راکٹ ضروری ہے اور مریخ تک لوگوں کو پہنچانے کے لیے بھی۔‘
ناسا نے 50 سال پہلے جوہری تھرمل ٹیکنالوجی سے چلنے والے راکٹ تیار کرنے کے لیے تجربات کا آغاز کیا تھا تاہم سرد جنگ کے دوران کشیدگی اور بجٹ میں کٹوتیوں کے باعث پروگرام ترک کرنا پڑا تھا۔

شیئر: