Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طارق رحمان کا پاکستانی پس منظر پاکستان کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہوگا؟

اسلام آباد اور دہلی دونوں ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی کی سمت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کی  پارلیمنٹ (جاتیو سنگسد)  اور نئے وزیراعظم نے منگل کو حلف اُٹھایا۔

نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان اس حوالے سے ایک منفرد مثال ہیں کہ ان کی والدہ اور والد دونوں اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیراعظم اور صدر رہ چکے ہیں۔

1971 میں پاکستان سے علیحدہ ہونے والے اس ملک کی سیاست، سماج اور اجتماعی سوچ میں ماضی کے برصغیر کے دو بڑے ملکوں پاکستان اور انڈیا سے تعلقات کی نوعیت ایک حوالے کے طور پر موجود رہی ہے۔
سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے دور میں تعلقات کا پلڑا انڈیا کے حق میں واضح جھکاؤ رکھتا تھا۔ اب جب کہ بنگلہ دیش اپنی سیاسی شروعات کا ایک نیا صفحہ پلٹ چکا ہے تو پاکستان اور انڈیا کے ساتھ تعلقات کی ترجیحات اس کی خارجہ پالیسی کا اہم عنصر ہوں گی۔
اسلام آباد اور دہلی دونوں ڈھاکہ کی علاقائی سوچ اور خارجہ پالیسی کی سمت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
اس کا ایک اشارہ تو ڈاکٹر خلیل الرحمان کو بنگلہ دیش کا وزیر خارجہ کا قلمدان سونپنے میں ملتا ہے۔ وہ منتخب ممبر اسمبلی نہیں بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ 18 ماہ تک ڈاکٹر یونس کی عبوری حکومت میں سکیورٹی ایڈوائزر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔
12 فروری کے الیکشن کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی پلاننگ اور ڈیویلپمنٹ کے وفاقی  وزیر احسن اقبال نے کی۔ نو منتخب بنگلہ دیشی وزیراعظم سے ملاقات میں انہیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
بنگلہ دیش کے لیے تاریخ، تجارت اور تعاون کے کچھ حوالے انڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات کے متقاضی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے ساتھ تقسیم کی تلخیوں کے باوجود مشترک ماضی ،مذہبی، تہذیبی اور سیاسی رشتوں کا احساس ایسے عناصر ہیں جو دونوں ملکوں میں طویل تعطل کے بعد نئے رشتوں اور رابطوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
20 برس بعد بنگلہ دیش میں برسرِ اقتدار آنے والی بی این پی کے سربراہ اور بہت سارے ممبران اسمبلی کے لیے پاکستانی سرزمین، اس کی سیاسی تاریخ اور افراد اور اداروں سے تعلق کے حوالے سفارتی نزاکتوں اور تعلقات کی پیچیدگیوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم طارق رحمان کے خاندان کے پاکستانی پس منظر سے تو اکثر لوگ واقف ہیں مگر ان کی پارٹی کے نو منتخب اراکین کے پاکستان کے ساتھ رشتوں کی ایک تاریخ اور تسلسل موجود ہے۔

طارق رحمان کی پارٹی کے نو منتخب اراکین کے پاکستان کے ساتھ رشتوں کی ایک تاریخ موجود ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی شہری کے طور پر جنم
بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم کی ذاتی زندگی کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں ان کی جائے پیدائش نومبر 1965 میں لاہور کے ملٹری ہسپتال کو قرار دیا گیا ہے۔ یوں پیدائش کے وقت وہ پاکستانی شہری تھے۔

البتہ ان کی زندگی کے بارے میں آن لائن دستیاب معلومات کے مطابق ان کی پیدائش بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ کی ہے۔

اُردو نیوز نے طارق رحمان کے والد جنرل ضیاء الرحمان کے ساتھی اور پاکستانی فوج میں خدمات سر انجام دینے والے بنگالی آفیسر میجر حفیظ الدین سے اس بارے میں استفسار کیا۔
انہوں نے طارق رحمان کے لاہور میں جنم لینے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 1965 میں  ان کے والد کی پوسٹنگ لاہور میں تھی اسی وجہ سے وہ یہاں پیدا ہوئے۔
اس وقت میجر کے عہدے پر فائز  ضیاء الرحمن نے پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے دوران فرسٹ ایسٹ بنگال ریجمنٹ کے کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے لاہور کے علاقے بی آر بی سیکٹر میں آپنی جان پر کھیل کر لاہور کا دفاع کیا جس پر انہیں ستارہ جرات ملا تھا۔
فرسٹ ایسٹ بنگال ریجمنٹ نے اس جنگ میں لاہور کی حفاظت کے لیے بہترین جنگی صلاحیتوں اور بہادری کے سبب سب سے زیادہ فوجی اعزازات حاصل کیے تھے۔
بنگلہ دیش کی فوج کے سربراہ اور 1977 سے 1981 تک بنگلہ دیش کے صدر رہنے والے ضیاء الرحمن بنگلہ دیش کے ضلع بوگرا میں پیدا ہوئے تھے۔
پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم کا تعلق بھی بوگرا سے تھا اسی نسبت سے وہ  محمد علی بوگرا کہلاتے تھے۔ طارق رحمان نے ڈھاکہ کے ساتھ ساتھ اپنے والد کے آبائی علاقے سے بھی  انتخابات میں حصہ لیا۔
بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم کے والد کا کراچی سے گہرا تعلق رہا ہے۔ ان کا خاندان پاکستان بننے کے بعد کلکتہ سے کراچی منتقل ہو گیا تھا۔ ضیاء الرحمان نے 11 برس کی عمر میں کراچی اکیڈمی اسکول میں چھٹی جماعت میں داخلہ لیا تھا۔
1953 میں ڈی جے سائنس کالج میں زیر تعلیم رہنے کے بعد وہ 12 ویں لانگ کورس میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کر کے ملٹری اکیڈمی کا کول چلے گئے تھے۔
کیا طارق رحمان کا یہ خاندانی پس منظر ان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمارے سامنے انڈیا کے دو سابق وزرائے اعظم کی مثالیں موجود ہیں۔ من موہن سنگھ کا تعلق پنجاب کے علاقے چکوال جبکہ اندر کمار گجرال کی پیدائش جہلم میں ہوئی تھی۔


بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی خواتین ونگ کی جوائنٹ سیکریٹری نایاب یوسف کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان بہت پسند ہے (فوٹو: فیس بک)

ان دونوں کا یہ پس منظر کسی نہ کسی انداز میں پاکستان کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوتا رہا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات اور جنگوں کے باوجود ان دونوں رہنماؤں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور دونوں ملکوں کے عوام کے مابین دوریوں کو ختم کرنے کے لیے دیگر وزرائے اعظم کی نسبت زیادہ سرگرمی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔
بنگلہ دیش میں پاکستان کے سابق سفیر مہدی افراسیاب نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’بی این پی عوامی لیگ کی نسبت پاکستان کے لیے دوستانہ رویہ رکھتی ہے۔ انڈیا کے ساتھ جغرافیائی قربت کے باعث اچھے تعلقات ان کی مجبوری ہیں مگر پاکستان کے ساتھ مذہبی ،تہذیبی اور ثقافتی رشتے انہیں ہمارے قریب لانے کا باعث ہیں۔‘
طارق رحمان کی والدہ سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے مہدی افراسیاب کا کہنا تھا کہ ’مرحومہ خالدہ ضیا نے اپنے خاندان کے پاکستان میں گزرے دنوں کو بہت اچھے انداز میں یاد کیا تھا۔ اگرچہ بنگلہ دیش کا قیام بہت تلخ تجربات  کا باعث تھا مگر پھر بھی طارق رحمان کی سوچ میں کہیں نہ کہیں اپنے خاندان کی وہاں رہائش اور رشتوں کا حوالہ موجود ہو سکتا ہے۔‘
پاکستانی فٹبال ٹیم کے کپتان رہنے والے بنگلہ دیشی وزیر
’پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے، جس طرح اس نے کرکٹ کے معاملے میں ہمارا ساتھ دیا ہے ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ میں پیچھے سال آپنے کورس میٹس اور پی ایم اے کا کول  میں اپنے انسٹرکٹر سے ملنے  پاکستان گیا تھا۔ انہوں نے بہت محبت سے میرا استقبال کیا۔ پاکستان میں اپنے پرانے دوستوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی تھی۔‘

ہمارے ساتھ ڈھاکہ سے ٹیلی فون پر ان الفاظ میں اپنے جذبات ظاہر کرنے والے بنگلہ دیش کے وزیر حکومت حفظ الدین کا شمار بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے درینہ سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

12 فروری کے الیکشن میں کامیابی کے بعد نئی بننے والی حکومت میں انہیں لبریشن وار افیئرز کا وزیر بنایا گیا ہے۔
ان کے والد 1971 میں بننے والی اسمبلی کہ بنگال سے ممبر منتخب ہوئے تھے۔ میجر حفیظ الدین 1986 سے 2006 تک چھ بار بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے ممبر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے خالدہ کی حکومت میں واٹر ریسورسز کے وزیر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دی ہیں۔
ان کے تعارف کا ایک حوالہ پاکستانی فوج کے سابق میجر کا بھی ہے۔ 1968 میں انہوں نے فرسٹ ایسٹ بنگال ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ جنوری 2025 میں وہ اپنے کورس میٹس سے ملنے پاکستان آئے تھے۔
اُردو نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی فوج کے چار ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل ان کے فوج کے کورس کے ساتھی ہیں۔ لاہور  اور اسلام آباد میں ان کے دوستوں نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقاریب منعقد کیں۔ سابق وفاقی سیکریٹری اطلاعات  سید انور محمود ان کے کالج دور کے ساتھیوں میں شامل ہیں۔‘
ایک سیاست دان اور سابق فوجی افسر سے ہٹ کر حفیظ الدین کے پاکستان کے ساتھ تعلق اور ان مٹ یادوں میں باقی رہ جانے والا ایک اور حوالہ بھی ہے جو انہیں اپنے سابق ملک کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔
آج کے بنگلہ دیش کے وزیر ماضی میں پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کے کپتان ہوا کرتے تھے۔

بنگلہ دیش کی نو منتخب پارلیمنٹ کے 12 نوجوان ممبران میں سے ایک ہمام قادر چودری بھی ہیں (فوٹو: فیس بک)

حفیظ الدین سکول دور سے ہی فٹبال کے شاندار کھلاڑی تھے۔1967 میں قومی ٹیم کا حصہ بنے اور 1970 سے 71 تک پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کی قیادت ان کے ہاتھ میں رہی۔
اُردو نیوز سے بات چیت میں آپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہوں نے 1970 میں تہران میں ہونے والے آر سی ڈی فٹبال کپ  کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ایران اور ترکیہ کے ساتھ یادگار میچ کھیلے تھے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر کا پوتا بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں
بنگلہ دیش کی نو منتخب پارلیمنٹ کے 12 نوجوان ممبران میں سے ایک ہمام قادر چودری بھی ہیں۔ وہ چٹا گانگ کے علاقے رنگونیا سے بی این پی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔

ان کے خاندان نے الیکشن میں جیت کی خبر اور خوشی پاکستان میں سابق وزیرِ مملکت اور تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی کے ساتھ سب سے پہلے شیئر کی۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمام قادر چودری کے والد صلاح الدین قادر چودری تھے۔
سات بار بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے ممبر اور سابق صدر حسین ارشاد اور خالدہ ضیا کی حکومت میں وزارت پر فائز رہنے والے صلاح الدین قادر چودری کو نومبر 2015 میں پھانسی دی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے دور میں قائم ہونے والے، انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل آف بنگلہ دیش نے  جن سیاسی رہنماؤں کو جنگی جرائم کے الزامات میں متنازع فیصلوں میں سزائے موت سنائی تھی ان میں جماعت اسلامی کے چار لیڈروں کے ساتھ ساتھ بی این پی کے صلاح الدین قادر چودری بھی شامل تھے۔

انہوں نے اسکول کی تعلیم بہاولپور کے صادق  پبلک سکول سے حاصل کی جہاں اسحاق خاکوانی سے ان کی دوستی پروان چڑھی۔1971 میں صلاح الدین پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ انہیں ہندو کے اغوا اور قتل کا مجرم قرار دے کر سزائے موت دی گئی۔

ان کی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل کے ساتھ پاکستان کے سیاست دانوں میر ظفراللہ جمالی ،میاں محمد سومرو اور اسحاق خاکوانی  نے بیان حلفی جمع کروائے جس میں کہا گیا ان  پر جس دور میں جرم کا الزام ہے وہ اس وقت ان کے ساتھ لاہور اور کراچی میں میں مقیم تھے۔
ہمام قادر چوہدری کے چچا اور صلاح الدین قادر چودری کے بھائی غیاث الدین بھی بی این پی کی ٹکٹ پر ممبر اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کی اسمبلی کے دو ممبران غیاث الدین چوہدری کے والد اور ہمام قادر چوہدری کے دادا فضل القادر چودری پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر رہے تھے۔
1962 میں معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کے ممبر کے طور پر وہ 1963 سے 1965 تک اس اسمبلی کے سپیکر رہے۔ انہوں نے اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کی عدم موجودگی میں کچھ دنوں تک ملک کے قائم قام صدر کا عہدہ بھی سنبھالے رکھا۔
فضل القادر چودری کو بنگلہ دیش بننے کے بعد 1971 میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا جہاں جولائی 1973 میں دوران اسیری ہی ان کا انتقال ہوا۔

ہمام قادر چوہدری کے نانا بھی پاکستان کے وفاقی  وزیر صحت کے طور پر پاکستانی حکومت  سے منسلک رہے ہیں۔ ظہیر الدین لال میاں معروف بنگالی سیاستدان اور فنکشنل لیگ  کے ممتاز رہنما اور ایوب دور میں قومی اسمبلی کے چیف وھب تھے۔

متحدہ پاکستان کے حامی سیاستدان کی تیسری نسل کی جیت
ظہیر الدین لال میاں کے ایک بھائی چوہدری یوسف علی موہن میاں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے۔
وہ متحدہ پاکستان کے حامی ہونے کی وجہ سے 1971 کے ہنگاموں میں پاکستان کی سالمیت کے لیے سرگرم اور پریشان رہے۔ اسی وجہ سے نومبر 1971 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔
بنگال کی سیاست کے اہم کردار چوہدری یوسف علی کی تیسری نسل اب بنگلہ دیش اسمبلی کا حصہ بن چکی ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی خواتین ونگ کی جوائنٹ سیکریٹری نایاب یوسف چوہدری بنگلہ دیش کی نئی اسمبلی کی سات منتخب خواتین ممبران اسمبلی میں سے ایک ہیں۔
منگل کو ممبر پارلیمنٹ کا حلف اُٹھانے کے بعد اُردو نیوز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے اپنے خاندان کی سیاسی تاریخ کے بارے میں بتایا۔ ان کے دادا چوہدری یوسف  علی 1937 میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر بنگال قانون ساز اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔
نایاب یوسف کے والد کمال الدین یوسف پانچ بار بنگلہ دیش اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ سابق صدر ضیاء الرحمان کی کابینہ میں ایک بار اور ان کی بیگم خالدہ ضیا کی حکومت میں دو بار فیڈرل منسٹر بھی بنے۔
پاکستان کے ساتھ ان سیاسی اور تاریخی رشتوں کے دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر کے بارے میں سوال کے جواب میں نایاب یوسف کا کہنا تھا کہ انہیں ذاتی طور پر پاکستان بہت پسند ہے۔
’پاکستان نے ہمیشہ ہماری حمایت کی ہے۔ ہمارے درمیان تعلقات کی بنیاد ماضی کا ورثہ اور ثقافتی اور تہذیبی اشتراک ہے۔‘
پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں کے لوگوں سے ملاقات کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر کرنا چاہیں گی۔
اپنی حکومت کی ترجیحات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے ساتھ بھائی چارہ اور تعاون ان کی جماعت ماضی میں بھی کرتی رہی ہے اور مستقبل میں یہ رشتے اور مضبوط ہوں گے ۔‘
مرزا فخر الاسلام عالمگیر بی این پی کے سیکریٹری جنرل اور ملک کے سینیئر سیاست دان ہیں۔ طارق رحمان کی حکومت میں انہیں لوکل گورنمنٹ اور ڈیویلپمنٹ کا وزیر بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل وہ سول ایوی ایشن کے سٹیٹ منسٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
پاکستانی صحافی اعزاز سید کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ 60 کی دہائی کے آخری برسوں میں کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے۔ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ وہ کھاریاں کینٹ اور جہلم میں بھی قیام کر چکے ہیں۔
’پاکستان اینڈ بنگلہ دیش: فرام کنفلکٹ ٹو کواپریشن‘ نامی کتاب کے مصنف اور ماہرِ بین الاقوامی امور ڈاکٹر مونس احمر نے بی این پی کی حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ جماعت ماضی میں پاکستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کی تاریخ رکھتی ہے۔
’تجارت اور جغرافیائی قربت کی وجہ سے وہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے انڈیا کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو نارمل کرنے کی کوشش کرے گی۔
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت کا حجم شاید بہت زیادہ نہ بڑھ سکے مگر پاکستان کے لیے بنگلہ دیش میں پائی جاننے والی گرم جوشی اور دوستانہ جذبات پاکستان کی خارجہ پالیسی اور نئی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بہت اہم ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی موسیقی اور ڈراموں کی مانگ وہاں بڑھ رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگوں کا آنا جانا اور ماضی کی تلخیوں کو بھول کر آگے بڑھنے کا رویہ دوستی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر مونس احمر نے سارک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس علاقائی فورم کا آئیڈیا بنگلہ دیش کے سابق صدر جنرل ضیاء الرحمان نے پیش کیا تھا۔ 2016 میں انڈیا اور بنگلہ دیش نے سالانہ اجلاس کی مخالفت کر کے اس فورم کو عملا غیر موثر کر دیا تھا۔‘
بی این پی کی بننے والی حکومت حسینہ واجد کی سارک مخالف پالیسی کے برعکس اس نمائندہ فورم کے کردار کو مضبوط بنانے پر توجہ دے سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی کمی کا امکان بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر مونس احمر نے نئے منتخب وزیراعظم کے پاکستان کے ساتھ ماضی میں خاندانی روابط کے دو طرفہ تعلقات پر اثر کے بارے میں بتایا کہ دنیا بھر میں ڈپلومیسی اور حکمران شخصیات کی ذات سے جڑے واقعات اور جگہوں کی اہمیت ہے۔
’بارہا ایسا ہوا کہ ان علامتی مگر موثر ٹولز کو استعمال کر کے سفارت کاری کی راہ ہموار کی گئی۔ پاکستان کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ غیر روایتی سفارت کاری کے ان طریقوں کو استعمال کر کے نتائج حاصل کر سکتا ہے۔‘ 

 

شیئر: