Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ کی سروسز پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعطل کی شکار

نیٹ بلاکس نے واضح کیا کہ اس خرابی کا تعلق سینسر شپ سے نہیں ہے (فائل فوٹو: روئٹرز
سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹویٹر) کو دنیا کے کئی ممالک میں تکنیکی خرابی اور بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو ایکس کی سروسز میں خلل آنے کے باعث صارفین اپنی فیڈ پر نئی پوسٹس دیکھنے سے قاصر رہے۔
اس دوران پاکستان میں بھی ایکس کے صارفین کو ویب سائٹ تک رسائی اور نئی پوسٹس دیکھنے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تاہم کچھ دیر قبل ایکس نے کا کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
انٹرنیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ’نیٹ بلاکس‘ نے اس بندش کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک ’بین الاقوامی آؤٹیج‘ قرار دیا ہے۔
نیٹ بلاکس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ماسٹیوڈون‘ پر اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ اس خرابی کا تعلق کسی ملک کی سطح پر انٹرنیٹ کی بندش یا سینسر شپ سے نہیں ہے بلکہ یہ پلیٹ فارم کا اپنا تکنیکی مسئلہ ہے۔
نیٹ بلاکس دنیا بھر میں مقبول آن لائن سروسز، ویب سائٹس میں تکنیکی مسائل اور حکومتی سطح پر انٹرنیٹ کی مداخلت پر نظر رکھتا ہے۔
ویب سائٹس کی فعالیت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق پیر کو عالمی وقت (جی ایم ٹی) کے لحاظ سے صبح ایک بج کر 30 منٹ کے قریب صارفین کی جانب سے شکایات میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔
اے ایف پی کے مطابق فرانس اور تھائی لینڈ سمیت کئی ممالک میں ان کے نمائندے بھی ’ایکس‘ تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
ابھی تک ’ایکس‘ کے ترجمان کی جانب سے اس بندش پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ایلون مسک کی جانب سے سنہ 2022 میں ٹویٹر کی خریداری اور اس کا نام تبدیل کر کے ’ایکس‘ رکھنے کے بعد سے اس طرح کے تکنیکی تعطل کثرت سے دیکھے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل فروری کے مہینے میں ہی دو مرتبہ (یکم فروری اور 9 فروری کو امریکی سپر باؤل کے دن) بھی صارفین کو اسی طرح کی بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایلون مسک کی جانب سے کمپنی سنبھالنے کے بعد ہزاروں ملازمین کی برطرفی ان مسلسل تکنیکی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
ایلون مسک نے حال ہی میں ’ایکس‘ کو اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کے ساتھ ضم کر دیا ہے جو ’گروک‘ نامی چیٹ بوٹ تیار کرتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اب ’ایکس اے آئی‘ کو ایلون مسک کی راکٹ بنانے والی کمپنی ’سپیس ایکس میں ضم کیے جانے کا امکان ہے۔

شیئر: