ماہرین کے مطابق ایسا اس وقت ہو گا جب چاند اپنے بیضوی مدار میں عین سورج کے سامنے آ جائے گا۔
چونکہ چاند مکمل طور پر سورج کو ڈھانپ نہیں پاتا اس لیے سورج کی کرنیں سرخی مائل دکھائی دیں گی اور چاند کا سایہ سورج پر پھیلتا چلا جائے گا اور سورج بھی ایک روشن چاند کی مانند نظارہ پیش کرے گا۔
اس سے اگلے مرحلے میں ’رنگ آف فائر‘ کا منظر ابھرے گا اور یہ اس وقت ہو گا جب چاند سورج کے عین سامنے ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ گرہن انٹارکٹکا میں دور افتادہ حصے میں دکھائی دے گا۔ تصویر: اے ایف پی
ماہرین کے مطابق اس وقت آسمان قدرے تاریک ہو جائے گا اور سورج کا بیرونی کنارہ سنہری حلقے کی طرح نظر آئے گا اور یہ منظر انٹارکٹکا کے مختلف حصوں میں دکھائی دے گا اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے گا، اس کے بعد سنہری حلقہ دھیرے دھیرے ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔
آسمان قدرے تاریک ہو جائے گا اور سورج کا بیرونی کنارہ سنہری حلقے کی طرح نظر آئے گا۔ تصویر: اے ایف پی
اسی طرح تیسرے مرحلے میں چاند سورج کے سامنے سے ہٹنا شروع ہو جائے گا اور آخری مرحلے میں مکمل طور پر سامنے سے ہٹ جائے گا۔
’رنگ آف فائر‘ اس وقت نظر آئے گا جب چاند سورج کے سامنے ہو۔ تصویر: گیٹی امیجز
اگرچہ سورج گرہن کا یہ منظر انٹارکٹکا کے چند علاقوں میں دکھائی دے گا تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کو براہ راست دیکھنا بینائی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے اگر کوئی دیکھنا بھی چاہے تو اس کے لیے خصوصی چشمے یا سولر فلٹر استعمال کرے۔
اس کے تقریباً دو ہفتے بعد تین مارچ کو بھی آسمان پر چاند سرخ مائل دکھائی دے گا جس کو ’بلڈ مون‘ کہا جاتا ہے یہ بھی سال کا پہلا بلڈ مون ہو گا اور شمالی امریکہ، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا میں نظر آئے گا۔