Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد کو دھمکی آمیز خط، ’سؤر کی تصاویر بھیجی گئیں‘

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے دھمکی آمیز خطوط کی سخت مذمت کی ہے (فوٹو: اے بی سی)
آسٹریلیا میں سب سے بڑی مسجد کو دھمکی آمیز خط بھیجا گیا ہے اور یہ تیسری دھمکی ہے جو کہ ماہ رمضان کے آغاز میں موصول ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹر نے مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خط سڈنی کے مضافاتی علاقے لیکمبا میں واقع مسجد کو بدھ کے روز موصول ہوا، جس میں سؤر کی تصویر بھی شامل تھی اور ’مسلمانوں کی نسل‘ کو مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خط کو فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے اور مسجدوں سمیت دوسرے مذہبی مقامات کے قریب پیٹرولنگ جاری رہے گی جبکہ مقامی طور پر منعقد ہونے والی دوسری تقاریب پر بھی نظر رکھی جائے گی۔
یہ خط اس میل کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں مسلمانوں کو مسجد کے اندر جلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
اسی طرح جنوری میں بھی اس مسجد کو ایک دھمکی آمیز خط بھجوایا گیا تھا جس کے بعد تحقیقات کے دوران ایک 70 سالہ شخص کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
اس مسجد کے انتظامات دیکھنے والی لبنان کی مسلم ایسوسی ایشن نے اے بی سی کو بتایا کہ اس نے حکام کو سکیورٹی انتظامات بڑھانے کے لیے خط لکھا ہے جس میں مزید سکیورٹی گارڈز اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے مطالبات شامل ہیں۔
رمضان کے دوران ہر رات مسجد میں پانچ ہزار کے قریب افراد کی آمد متوقع ہے۔
آسٹریلین بیور آف سٹیٹسکس کے مطابق لیکمبا کے مضافاتی علاقوں میں رہنے والے افراد میں 60 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے دھمکی آمیز خطوط کے سلسلے کی سخت مذمت کی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بونڈائی بیچ پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد مسلم مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے (فوٹوـ اے ایف پی)

اے بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت اشتعال انگیز اقدام ہے کہ اپنے عقیدے کے مطابق چلنے والے لوگوں کو رمضان کے مقدس مہینے میں اس قسم کی دھمکیاں دی جائیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ہمیں سیاسی بحث کے درجہ حرارت کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یقینی طور پر ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘
ایک حالیہ سرکاری رپورٹ کے مطابق 2023 کے اواخر میں شروع ہونے والی غزہ کی جنگ کے بعد سے آسٹریلیا میں مسلمانوں کے خلاف جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسی طرح دی اسلاموفوبیا رجسٹر نے 14 دسمبر کو بونڈائی بیچ پر ہونے والے فائرنگ کے بعد سے ایسے جذبات میں 740 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بونڈائی بیچ پر فائرنگ کرنے والے دونوں افراد داعش سے متاثر تھے اور انہوں نے یہودیوں کی ایک تقریب پر فائرنگ کر دی تھی۔ جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

شیئر: