سعودی مداخلت کے بعد یمن کے جزیرے سقطری میں بجلی کا بحران ختم
جمعرات 19 فروری 2026 8:46
بجلی بندش سے رہائشی پریشان تھے اور طبی و تعلیمی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا تھا (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کی مداخلت کے بعد یمن کے جزیرے سقطری میں بجلی بحال ہو گئی ہے۔
اس سے قبل کئی روز تک بجلی بند رہنے سے روزمرہ زندگی کے معاملات بری طرح متاثر ہوئے اور جنرل ہسپتال، یونیورسٹی اور ٹیکنیکل انسٹییوٹ سمیت کئی اہم ادارے بند ہو گئے تھے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ پیش رفت آپریٹینگ کمپنی کے نکلنے، سسٹم کے غیرفعال اور پاور پلانٹس کے بند ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔
علاقے میں بجلی بند ہونے سے بڑے پیمانے پر بلیک آؤٹ ہو گیا تھا اور رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
سعودی عرب کے پروگرام برائے ترقی و تعمیر نو یمن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مقامی حکومت کی درخواست موصول ہونے کے بعد اس کی انجینیئرنگ ٹیمیں فوراً حرکت میں آئیں اور ماہرین کو آپریٹنگ سسٹمز کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے بھیجا گیا جن کو کمپنی نے نکلنے سے پہلے انکرپٹ کر دیا تھا۔
جنریٹرز کو مرحلہ وار آن کیا گیا جس سے گورنریٹ کے بیشتر حصوں میں بجلی تھوڑی ہی دیر میں بحال ہو گئی۔
ری سٹارٹنگ سے گرڈ سٹیشن پر دباؤ میں کمی آئی جس پر پیداوار بند ہونے کے باعث حالیہ ہفتوں کے دوران بہت زیادہ دباؤ تھا۔
بجلی بندش سے صحت اور تعلیم سے متعلق سہولتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں اور کچھ طبی محکموں کی سروسز بھی کم کر دی گئی تھیں۔
سقطری کی الیکٹریسی اتھارٹی نے کہا ہے کہ بحران اس وقت شروع ہوا جب سابق آپریٹنگ کمپنی نے شٹ ڈاؤن ٹائمرز اور سسٹمز پر پاس ورڈز لگائے، جس کی وجہ سے مقامی ٹیمیں سٹیشنز کو ری سٹارٹ نہیں کر پا رہی تھیں۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ سقطری کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا 2018 میں بھی ہوا تھا، جس کو سرکاری مداخلت کے بعد حل کیا گیا تھا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی واپسی سے زندگی کی بنیادی سروسز میں تیزی سے استحکام آیا ہے۔ پانی فراہم کرنے والے سسٹمز سے باقاعدگی سے کام شروع کر دیا ہے، ٹیلی کمیونیکیشن میں بہتری آئی اور بجلی کی بندش سے معاشی سرگرمیوں میں کو خلل آیا تھا وہ ختم ہونا اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی کافی بہتری آئی ہے اور جزیزہ نما کا سب سے بڑے جنرل ہسپتال میں بھی طبی سہولتیں بحال ہو گئی ہیں۔
فنڈنگ کی بدولت ایندھن اور طبی سامان کی فراہمی بھی بہتر ہوئی ہے اور مریضوں کے علاج کے حوالے سے ہسپتال کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب رہائشیوں کو دوسرے علاقوں کی طرف جانا نہیں پڑ رہا۔
طبی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ انتہائی نگہداشت کے یونٹس سمیت دوسرے اہم ڈیپارٹمنٹس بھی معمول کی کارروائیوں کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
اسی طرح سکوترا یونیورسٹی، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور دوسرے تعلیمی اداروں میں بھی کلاسیں شروع ہو گئی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پائیدار تکنیکی اور آپریشنل سپورٹ سے ہی بجلی کی سپلائی جاری رہے گی اور ریجن میں بحران کے پھر سے لوٹنے کے امکانات بھی کم ہوں گے جو اپنے اہم شعبوں کو چلانے کے لیے مکمل طور پر بجلی پر انحصار کرتا ہے۔
