Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جیل بھرو تحریک میں گرفتار پی ٹی آئی کے رہنما و کارکنان رہا

سیکرٹری جنرل اسد عمر کو راجن پور جیل سے رہا کیا گیا۔ فوٹو: ٹوئٹر پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے تحت رضاکارانہ طور پر گرفتاری دینے والے تمام رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے۔
جمعے کی رات گئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید نے ٹویٹ کیا کہ جیل بھرو تحریک کے تمام گرفتار قائدین اور کارکنان رہا ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز جمعے کو لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کی درخواست پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور دیگر گرفتار رہنماؤں کی نظربندی کے احکامات معطل کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔
جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اٹک جیل سے جبکہ سیکریٹری جنرل اسد عمر کو راجن پور جیل سے رہا کیا گیا۔
22 فروری کو جیل بھرو تحریک میں سب سے پہلے رضاکارانہ گرفتاریاں لاہور سے دی گئی تھیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کو شاہ پور جیل جبکہ سینیٹر ولید اقبال اور اعظم خان نیازی کو لیہ جیل سے رہا کیا گیا ہے۔
بدھ کو تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جیل بھرو تحریک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’ہم جیل بھرو تحریک معطل کر رہے ہیں اور پنجاب، خیبر پختونخوا میں الیکشن مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘
سپریم کورٹ نے اسمبلیوں کی تحلیل کے دن سے 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے مطابق پنجاب میں الیکشن کی تاریخ صدر اور خیبر پختونخوا کے لیے گورنر دیں گے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر ڈاکٹر افتخار درانی نے پارٹی رہنما فیاض چوہان کی رہائی کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’تحریک انصاف کے تمام لیڈران کا نام تاریخ کے روشن باب میں لکھا جائے گا۔‘
پارٹی رہنماؤں کی رہائی کے موقع پر کارکنان مختلف جیلوں کے باہر استقبال کے لیے موجود تھے۔
چیئرمین عمران خان نے ویڈیو خطاب میں 22 فروری سے لاہور سے جیل بھرو تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں یہ تحریک چلائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب گرفتاریاں شروع ہوں گی تو میں بھی گرفتاری دے دوں گا۔ جب ملک میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو عدالتوں کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔‘

شیئر: