Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا عمر کا فرق ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے؟

ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے درمیان فکری ہم آہنگی ہو۔ (فوٹو: فری پک)
خوشگوار ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کے درمیان عمر کے فرق کا تعلق ہمیشہ ماہرین کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے، اور اس پر اب تک بے شمار تحقیقی مقالے سامنے آ چکے ہیں۔
الرجل میگزین کے مطابق خوشگوار ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کے درمیان عمر کا فرق ہی بنیادی کردار ادا نہیں کرتا بلکہ بیرونی عوامل کا عمل دخل بھی ہوتا ہے۔
لیکن یہ بات طے ہے کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے مشترکہ دلچسپیاں، یکساں میلانات اور ایک طرح کا نکتہ نگاہ ضروری ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں میاں بیوی کے درمیان عمر کا معیاری فرق ضرور ہونا چاہیے تاہم دونوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ طویل المیعاد مشترکہ اہدف بھی ہوں ورنہ عمر کا فرق کبھی کبھار ازدواجی زندگی کو ناکام بھی بنا دیتا ہے۔
اب ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ عمر کا فرق کس طرح میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق کو ناکام بھی بنا سکتا ہے۔
ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین ہمیشہ اپنے سے زیادہ عمر کے شریک حیات کو پسند کرتی ہیں، لیکن یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں۔
ہم سے پہلے جو نسل گزر چکی ہے ان میں میاں بیوی کے درمیان عمر کا بڑا فرق رہا ہے لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے موجودہ نسل عمر کے فرق کو زیادہ اہمیت دینے لگی ہے۔
اس کے باوجود ہر ملک اور معاشرے کی اپنی روایات بھی ہیں جنہیں نظر میں رکھا جاتا ہے۔

میاں بیوی کے درمیان دو سال کی عمر کے فرق کا فائدہ یہ ہے کہ دونوں ایک ہی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ (فوٹو: فری پک)

ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے درمیان فکری ہم آہنگی ہو۔
میاں بیوی میں ہر ایک اپنی زندگی کے اہداف متعین کریں۔ مستقبل کے حوالے سے وہ کیا سوچ رہے ہیں، ملازمت، کاروبار اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے ان کے کیا منصوبے ہیں۔
ان بنیادی اہداف میں ہم آہنگی کا مطلب یہ ہے کہ میان بیوی کے درمیان کامیاب ازدواجی زندگی گزرنے کے امکانات زیادہ ہیں جبکہ ان کے درمیان عمر کا بڑا فرق ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ دونوں کے اقدار اور اخلاق یکساں ہیں یا نہیں۔ مذہبی اور اخلاقی معاملات میں دونوں کا نکتہ نظر کیا ہے۔
یہ بھی بڑا اہم سوال ہے کہ میاں بیوی اپنی رائے کی قربانی دے سکتے ہیں یا نہیں۔ دوسرے کی رائے کو قبول کرنے اور اسے تسلیم کرنے میں دونوں کا کیا کردار ہے۔ کیا وہ مخالف رائے کو بھی قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
میاں بیوی کے درمیان دو سال کی عمر کے فرق کا فائدہ یہ ہے کہ دونوں ایک ہی دور سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اگر دونوں میں افہام و تفہیم اور فکری ہم آہنگی نہ ہو تو تعلق ضد اور انا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
میاں بیوی کے درمیان پانچ سے سات برس کی عمر کے فرق کو مثالی قرار دیا جاتا ہے۔ اگر دیگر عوامل بھی ساتھ دے رہے ہوں تو دونوں کے درمیان گہری فکری ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔

میاں بیوی کے درمیان پانچ سے سات برس کی عمر کے فرق کو مثالی قرار دیا جاتا ہے۔ (فوٹو: فری پک)

اگرچہ میاں بیوی کے درمیان 10 برس کی عمر کا فرق کافی زیادہ ہے مگر دنیا میں ایسے بہت سے جوڑے ہیں جن کے درمیان عمر کا فرق 10 برس تک محیط ہے، مگر اس کے باوجود وہ افہام و تفہیم اور فکری ہم آہنگی کی وجہ سے کامیابی ازدواجی تعلق گزار رہے ہیں۔ 
بعض حالات میں دونوں کے درمیان عمر کا فرق طویل المیعاد اہداف کے تعین میں حائل ہوسکتا ہے۔
میاں بیوی کے درمیان 20 برس کی عمر کا فرق کامیابی ازدواجی زندگی کے لیے چیلنج ہے مگر دنیا میں ایسے بہت سے جوڑے ہیں جو عمر کا بڑا فرق ہونے کے باوجود کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔
دونوں کے درمیان طویل المیعاد اہداف کے تعین میں اختلاف اور بچوں کی تربیت کے علاوہ معاش کے حوالے سے سنگین اختلافات ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عمر کا فرق کامیابی ازدواجی زندگی میں حائل نہیں ہو سکتا، اگر دونوں کے درمیان پیار محبت اور الفت و ہم آہنگی ہو، اور دونوں کی فکری سطح ایک جیسی ہو تو وہ بہت کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔

شیئر: