Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چینی صدر کی روانگی، یوکرین پر روسی فوج کے ڈرون حملے

روس نے رات گئے یوکرین کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے کیے (فوٹو: روئٹرز)
جب روسی صدر اپنے ’عزیز دوست‘ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کو الوداع کہہ رہے تھے تو دوسری جانب یوکرین روسی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن رہا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق بدھ کی رات روس نے یوکرین کے ایک اپارٹمنٹ بلاک کو میزائلوں سے اڑا دیا اور ملک کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے کیے۔
یوکرین کے جنوبی شہر زاپوریژیا میں دو ملحقہ رہائشی عمارتوں میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جہاں حکام نے بتایا ہے کہ ’دو میزائل حملے سے شخص ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے۔‘
ریجنل پولیس چیف اینڈری نیبیٹوف نے بتایا کہ کیئف کے جنوب میں دریا کے کنارے واقع ایک قصبے میں دو ہاسٹل اور ایک کالج پر ڈرون کے حملے کے بعد  آٹھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’دنیا کو روسی دہشت گردی کو تیزی سے شکست دینے اور جانوں کے تحفظ کے لیے زیادہ اتحاد اور عزم کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں ایک عمارت کو پھٹتے ہوئے دِکھایا گیا ہے۔
زاپوریژیا میں ایک کھیل کا میدان اور گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ شیشے، ملبے اور تباہ شدہ گاڑیوں سے بھری ہوئی تھی۔
ایک ؎عمر رسیدہ خاتون جن کے چہرے پر خراشیں تھیں اکیلی بینچ پر بیٹھی آنسو پونچھ رہی تھیں اور دعا مانگ رہی تھیں۔
24 سالہ ایوان نالی وائیکو نے بتایا کہ ’جب میں باہر نکلا تو تباہی تھی۔ دھواں تھا، لوگ چیخ رہے تھے، ملبہ تھا۔ پھر فائر فائٹرز اور ریکسیو اہلکار آ گئے۔‘
رات کے وقت دارالحکومت اور شمالی یوکرین کے کچھ حصوں میں سائرن بج رہے تھے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 21 میں سے 16 ایرانی ساختہ خودکش ڈرون مار گِرائے۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے رات گئے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ ’ڈونباس کے شہروں کو دیکھنا تکلیف دہ ہے  جہاں روس بربادی لایا ہے۔‘
بین الاقوامی گروپوں نے تخمینہ لگایا ہے کہ یوکرین کی تعمیرِ نو پر چار کھرب 11 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے زاپوریژیا پاور پلانٹ کی صورتحال رواں ماہ روسی میزائل حملے کے بعد ’خطرناک ہے۔‘
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق نو مارچ کو روسی حملے کے بعد سے پلانٹ کا ایک ہی بیک اپ پاور لائن پر انحصار ہے۔
رافیل گروسی نے ایک بیان میں کہا کہ جوہری سکیورٹی غیر یقینی حالت میں ہے۔

شیئر: