جرمنی سے امریکی فوجیوں کی واپسی، ’یورپ کو اپنی سکیورٹی کا خیال خود رکھنا ہوگا‘
جرمنی سے امریکی فوجیوں کی واپسی، ’یورپ کو اپنی سکیورٹی کا خیال خود رکھنا ہوگا‘
پیر 4 مئی 2026 11:38
جرمنی سے فوجی نکالنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب جرمن چانسلر اور امریکی صدر میں اختلاف بڑھ رہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
یورپی رہنماؤں نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا جرمنی سے ہزاروں امریکی فوجیوں کو اچانک واپس بلانے کا فیصلہ غیرمتوقع تھا اور اس بات کی علامت بھی اب یورپ کو اپنی سلامتی کا خود خیال رکھنا ہوگا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پینٹاگون نے پچھلے ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پانچ ہزار فوجی جرمنی سے نکالے گا مگر صدر ٹرمپ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ’ہم نمایاں کمی کرنے جا رہے ہیں اور پانچ ہزار سے کہیں زیادہ فوجی نکالے جائیں گے۔‘
امریکی صدر کی جانب سے اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی جس پر نیٹو ممالک حیران رہ گئے تھے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ پر اختلاف بڑھ رہا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر بھی برہم تھے کہ یورپی اتحادی مشرق وسطیٰ کے اس تنازع میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں۔
جرمنی سے فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کے بارے میں ناروے کے وزیراعظم جونس گاہر سٹورے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں مبالغے سے کام نہیں لوں گا کیونکہ میرا خیال ہے کہ یورپ اپنی زیادہ تر سکیورٹی خود سنبھالنے جا رہا ہے۔‘
انہوں نے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ان اعداد و شمار کو ڈرامائی نہیں سمجھتا لیکن میرا خیال ہے کہ اس معاملے کو نیٹو کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہم آہنگ طور پر نمٹایا جائے۔‘
یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف کایا کالاس امریکی اقدام کو حیران کن قرار دیا (فوٹو: اے ایف پی)
یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف کایا کالاس کا کہنا ہے کہ ’کافی عرصے سے یورپ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی بات ہو رہی تھی تاہم اس کا اعلان یقیناً حیران کن ہے۔ میرے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں نیٹو میں یورپی ستون کو واقعی مضبوط بنانا ہو گا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ ٹرمپ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کو سزا دینے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت میں ایران نے امریکہ کو رسوا کیا ہے۔
اس کے جواب میں کالاس نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے ذہن کے اندر نہیں جھانک سکتی، اس لیے وہ خود ہی اس کی وضاحت کر سکتے ہیں۔‘
پورپی اتحادیوں اور کینیڈا کو صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالتے ہی اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ وہ یورپ سے اپنی فوجیں واپس بلائیں گے، اکتوبر کے دوران بھی کچھ فوجی رومانیہ سے واپس بلائے گئے تھے تاہم امریکی حکام نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے کسی بھی اقدام سے قبل اسے نیٹو اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے تاکہ کسی قسم کا سکیورٹی خلا پیدا نہ ہو۔