Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز میں ہمارا کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا: امریکی فوج

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 14 نکاتی تجویز پیش کی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکی افواج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک امریکی بحری جہاز کو ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں سینٹ کام نے واضح کیا کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔
یہ بیان ایران کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فورسز نے ایک امریکی جنگی جہاز کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری کردہ بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج اس وقت ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت کارروائیاں کر رہی ہیں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام اور میڈیا کی جانب سے متضاد اطلاعات سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی فریگیٹ پر دو میزائل داغے گئے کیونکہ اس نے ایرانی بحریہ کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا تھا۔
تہران کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’انتباہی کارروائی‘ تھی تاکہ تزویراتی اہمیت کی حامل اس آبی گزرگاہ میں غیر قانونی مداخلت کو روکا جا سکے۔
یہ تازہ ترین کشیدگی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ نامی ایک نئے بحری مشن کا اعلان کیا ہے۔

سینٹ کام نے واضح کیا کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا (فائل فوٹو: روئٹرز)

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس مشن کا مقصد ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے خلیج میں پھنسے ہوئے ان تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو بحفاظت نکالنا ہے جو گزشتہ دو ماہ سے خوراک اور دیگر ضروری سامان کی قلت کا شکار ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اس مشن کو ’انسانی ہمدردی‘ کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج ان جہازوں کو نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی، تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی جہاز کی گزرگاہ کے لیے ایرانی افواج کے ساتھ ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ کو خطے میں اپنی ’حد سے بڑھے ہوئے مطالبات‘ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
انہوں نے سرکاری ٹیلی وژن پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کی اولین ترجیح جنگ کا خاتمہ ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل نے اس اہم آبی گزرگاہ کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اب امریکی صدر کو ’ناممکن فوجی آپریشن‘ یا ’ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا (فائل فوٹو: روئٹرز)

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 14 نکاتی تجویز پیش کی ہے جس کا جواب واشنگٹن نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے دیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کے لیے تیل، گیس اور کھاد کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں جبکہ امریکہ کی جوابی ناکہ بندی نے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یوکے ایم ٹی او) نے بھی اس علاقے میں خطرے کی سطح کو ’انتہائی سنگین‘ قرار دیتے ہوئے جہاز رانوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
اس پیچیدہ صورتحال میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بال ڈونلڈ ٹرمپ کے کورٹ میں پھینکتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکی صدر کو ’ناممکن فوجی آپریشن‘ یا ’ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔

شیئر: