Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رمضان میں نیند کیسے پوری ہو؟

رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی ہماری روزمرہ کی عادات بدل جاتی ہیں، رات میں دیر تک جاگنے اور سحری وافطاری کی تیاری کے پیش نظر نیند کا دورانیہ کافی کم ہوجاتا ہے۔
العریبیہ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق اس سلسلے میں ایک ماہر نے مشورہ دیا ہے کہ روزہ رکھنے والے افراد کو رمضان المبارک میں نیند مکمل لینی چاہیے، اس لیے کہ یہ روزے میں آسانی کا ذریعہ ہوگی اور اس سے قوت مدافعت بھی بہتر ہوتی ہے۔
ڈی پی اے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں کلیولینڈ کلینک اوہائیو کے سلیپ ڈس آرڈر سنٹر کے ڈاکٹر فیشال شاہ کا کہنا تھا کہ یہ مشہور ہے کہ جب کوئی شخص مکمل نیند  لیتا ہے تو اس کے کام کرنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔
 اس تحقیق نے یہ بھی بتایا ہے کہ نیند  بھوک کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ نیز جزوی نیند کی کمی ان دو تبدیلیوں سے منسلک ہے جو بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز میں پائے جاتے ہیں، جس سے روزہ رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
مدافعتی نظام
انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مدافعتی نظام کے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کے لیے مناسب نیند بھی ضروری ہے، جو وبائی امراض کے دوران ایک اولین ترجیح  ہونی چاہیے۔
’تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند میں کمی سے قوت مدافعت اور ردعمل میں کمی آجاتی ہے، جس سے افراد انفیکشن کا شکار ہوجاتے ہیں، اور انہیں صحت یاب ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ مدافعتی نظام نیند کے دوران سائٹوکائنز اور اسی طرح کے مالیکیول نامی پروٹین جاری کرتا ہے، ان میں سے کچھ انفیکشن اور سوزش سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ نیند کی کمی سائٹوکائنز اور دیگر اینٹی باڈیز کی پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

سات سے نوگھنٹے نیند

امریکی ماہر نے وضاحت کی کہ بالغ افراد کو دن میں سات سے نو گھنٹے تک سونا چاہیے۔
 انہوں نے کہا کہ صحت مند نیند کا تعین کرنے کے لیے صرف گھنٹوں کی تعداد ہی کافی نہیں ہے بلکہ  نیند کے معیار کو بھی مدنظررکھنا چاہیے۔ ’اس کے لیے پوری نیند لینے کی ضرورت ہے۔ ایسی معیاری نیند صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے جس کے بعد جسم چاک وچوبند، تازہ دم اور کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔‘

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مدافعتی نظام کے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کے لیے مناسب نیند بھی ضروری ہے: فوٹو پکسابے

ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ وہ ان عوامل پر دھیان دیں جنہیں وہ  ’نیند کی پاکیزگی‘  سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری نیند کے لیے کمرے کی تاریکی کو یقینی بنائیں، بستر آرام دہ ہو،  مناسب درجہ حرارت اور شور  وغل سے پاک ماحول ہو۔
’سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے ٹیلی ویژن اور الیکٹرانک آلات بند کردیں، ان امور کا خیال رکھیں، کیونکہ نیند کا مستقل شیڈول اچھی نیند میں مددگار ہوتا ہے۔ خاص طور پر رمضان کے مہینے میں  جب لوگ اپنی نیند کی عادات کو تبدیل کرتے ہیں۔‘
نیند کا شیڈول بنائیں
 انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ اپنے معمول کے مطابق نیند کی پابندی کرتے ہیں، یا پھر اسے سحری وافطاری کے اوقات کے مطابق تبدیل کرتے ہیں، یا رات کے بجائے دن کے وقت سونے کا فیصلہ کرتے البتہ روزانہ اس معمول کوبرقرار رکھنا اور روزانہ اوقات  کی پابندی کرنا اور مکمل نیند لینا ضروری ہے۔ اس کے لیے آپ مختلف مددگار ٹولز استعمال کرسکتے ہیں جو آپ کو نیند میں معاون ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ رمضان میں نیند کی مکمل عادت تبدیل کرنے والے افراد رمضان کے بعد اپنے سابقہ معمول پر آجاتے ہیں۔

شیئر: