Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بارش میں نہانا بالوں اور جِلد کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟

ماہرین کہتے ہیں کہ بارش میں نہانے کے بعد گھر میں نیم گرم پانی سے غسل لینا چاہیے (فوٹو: شٹرسٹاک)
جانے چارلی چیپلن سے جب یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ بارش میں نہانے کا کیا فائدہ ہے یا پھر اس شاعر سے، جس نے اس کے قول کو یہ شعری شکل دی
بارش میں بھیگتے ہوئے رونے کا فائدہ
آنسو میرے کسی کو دکھائی نہیں دیے
مگر ایک بات عیاں ہے کہ بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ لوگوں کا دل باہر نکل کر بھیگنے کو کرتا ہے جبکہ کچھ اندر کی طرف بھاگتے ہیں یعنی کہ بارش میں بھیگنے کا معاملہ بھی اپنی اپنی پسند کے مطابق ہے تاہم یہاں صرف اس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ بارش کا پانی بالوں اور جلد کے لیے واقعی مفید ہے یا نقصان دہ یا یونہی باتیں بنی ہوئی ہیں۔
اس بارے میں ویب سائٹ ہیلتھ شاٹس نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں ماہر جلد اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ سے بات کی ہے۔
جب ان سے یہی سوال پوچھا گیا تو ان کا کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارش کے پانی کے جلد اور بالوں پر اثرات کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم گرما کی بارش میں نہانے سے جسم کو سکون ملتا ہے اور جلد اور بالوں پر اس کا خوشگوار اثر پڑتا ہے لیکن اگر آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بہت زیادہ آلودگی ہے تو پھر بارش کے پانی کی تاثیر مختلف ہو سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر آپ کی جلد حساس ہے اور ایسے ہی علاقے میں رہتے ہیں تو آپ کو بارش کے پانی میں نہانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد کو نقصان ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں بارش کا پانی جلد اور بالوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے (فوٹو: آئی سٹاک)

ان کے مطابق بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مون سون کی بارش کا پانی انہیں ٹھنڈک کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ خشکی اور ہلکی پھلکی خارش سے بھی نجات دے گا تاہم یہ تبھی ہوتا ہے جب بارش کسی پرفضا مقام پر برس رہی ہو، اگر معاملہ اس سے الٹ یعنی آلودگی والے مقام کا ہو تو یہ صورت حال اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور جلد و بالوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے بالوں اور جلد کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اس لیے بارش کے پانی بھی مختلف ہو سکتا ہے، ویسے زیادہ تر بارش کا پانی بالوں کو سخت اور کھردرا بناتا ہے، اس لیے بارش کے پانی میں نہانے کے بعد بالوں کو صابن سے دھونا یا شیمپو کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مون سون کے موسم میں انسان کو بالوں سے متعلق زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں جن میں جوؤں کا مسئلہ بھی شامل ہے اور اس کی وجہ سے نمی ہوتی ہے۔
ان نکات کے بعد جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ مون سون میں ہونے والی بارش سے بچا جائے اور اس بھیگے موسم کا مزہ نہ لیا جائے؟
اس کے جواب میں ڈاکٹر بی ایل جینگی نے کہا کہ اگر کسی خصوصاً خواتین کا بارش میں بھیگنے کا دل کر رہا ہے اور ان کو اپنے بالوں اور جلد کی بھی فکر ہو تو انہیں ایسا کر لینا چاہیے تاہم دو تین نکات ذہن میں رکھنے چاہییں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بارش میں بھیگنے کے بعد گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد نیم گرم پانی سے دوبارہ غسل ضرور کریں، اسی طرح چہرے کو بھی کسی اچھے صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
اسی طرح شیمپو کرنے کے بعد کنڈیشنر لگانا نہ بھولیں، اس سے بالوں میں نمی برقرار رہتی ہے اور بالوں کی شائن بھی بڑھتی ہے۔
اسی طرح نہانے کے بعد انفیکشن سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم کے اچھی طرح خشک ہونے کے بعد کپڑے پہنیں، ایسا تولیے سے کسی حد تک کیا جا سکتا ہے تاہم کوشش کریں کہ جسم ہوا سے خشک ہو۔

شیئر: