Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روزانہ صرف 45 منٹ کی واک سے آپ کیا ’حیرت انگیز‘ فائدے حاصل کر سکتے ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ’بالغ افراد ہفتے میں کم سے کم 150 سے 300 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی ضرور کریں‘ (فائل فوٹو: ڈیپازٹ)
پیدل چلنا یا واک انسان کے لیے نہایت بہترین اور قدرتی ورزش ہے جو مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بالغ افراد ہفتے میں کم سے کم 150 سے 300 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی ضرور کریں۔ 
ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ 45 منٹ کی چہل قدمی یا واک انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ 
اسی طرح اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ محض 5 ہزار قدم چلنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
پٹھوں کی مضبوطی
پیدل چلنے کی وجہ سے جسم کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ پٹھوں کے مضبوط ہونے سے چلنے پھرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور جسمانی اعضا بیماری سے بچے رہتے ہیں۔
نیند میں بہتری
جسمانی سرگرمیوں سے نیند بہتر ہوتی ہے اور تناؤ میں بھی کمی آتی ہے۔ بہترین نیند سے مجموعی طور پر انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
واک سے ذہنی تناؤ میں کمی
واک کے اثرات محض انسان کے جسم پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ اس کے نفسیاتی اور سماجی فوائد بھی ہیں۔ 
وہ افراد جو ذہنی تناؤ اور درمیانے درجے کے ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالیں اور روزانہ واک کرنے کی عادت اپنائیں۔
قوت مدافعت میں بہتری
باقاعدگی سے چہل قدم یا واک کرنے سے انسان کی قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے۔ پیدل چلنے سے بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔

پیدل چلنے سے بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے (فائل فوٹو: پِکسابے)

وزن قابو میں رہتا ہے
واک کرنے سے کیلوریز جلتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کا وزن بڑھنے سے رُکا رہتا ہے۔ واک کرنے سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے اور انسان کی کیلوریز جلانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، چہل قدمی سے جسم بھاری نہیں ہوتا اور فالتو چربی بھی کم ہوتی ہے۔
عمر طویل ہوتی ہے
باقاعدگی سے چہل قدمی یا واک کی عادت انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور جوانی میں طبعی موت کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اس سے پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے اور ذہنی صحت بہتر رہتی ہے۔
دل کے دورے کا خطرہ کم
ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ورزش انسان میں خون کی شریانیں کو فعال رکھتی ہے جس سے دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ 

شیئر: