Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انتخابات کے لیے فنڈز نہیں ملے، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی

سپریم کورٹ نے پیر تک 21 ارب روپے جاری کرنے کا کہا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز نہیں ملے۔
منگل کو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی جس میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک کی طرف سے رقم ٹرانسفر نہیں کی گئی۔
سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتے سٹیٹ بینک کو حکم جاری کیا تھا کہ پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے لیے پیر کے روز تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کیے جائیں۔
وزارت خزانہ کے حکام اور سٹیٹ بینک نے بھی رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر میں رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ سٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں رقم منتقل نہ کرنے کی وجوہات بیان کی ہیں۔
پارلیمنٹ نے اس کی منظوری نہیں دی جبکہ سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ مطلوبہ رقم مختص تو کر سکتے ہیں لیکن حکومت یا پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر ریلیز نہیں کر سکتے۔ 
پیر کے روز وفاقی کابینہ نے اس سلسلے میں وزارت خزانہ کی ایک سمری کا جائزہ لینے کے بعد اس کو قومی اسمبلی کو بھجوا دیا تھا جس نے سمری مسترد کرتے ہوئے فنڈز کے الیکشن کمیشن کو اجرا کی منظوری نہیں دی۔
قبل ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب میں الیکشن کرانے کے لیے 21 ارب روپے کے فنڈز کے اجرا کا معاملہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیج دیا تھا۔ 
پیر کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا تھا۔ 
رُکن برجیس طاہر نے اجلاس کو بتایا تھا کہ کمیٹی نے 13 اپریل کو دو گھنٹے غور کے بعد متفقہ طور پر منی بِل کو مسترد کر دیا تھا۔
’ہمارا موقف تھا کہ پنجاب میں پہلے انتخابات سے باقی صوبوں کے انتخابات پر اثر پڑے گا، یہ موقف تبدیل نہیں ہوا۔‘  
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ ’اراکین اسمبلی کی منظوری کے بغیر فیڈرل کنسولیڈیڈ فنڈ سے رقم جاری نہیں کی جا سکتی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے منی بل مسترد کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اب ہدایت کی ہے سٹیٹ بینک یہ رقم فیڈرل کنسولیڈیڈ فنڈ سے رقم پیدا کرے۔‘ 

الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے فنڈز موصول نہیں ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی

وزیر قانون نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر اب 21 ارب روپے کی رقم دیگر اخراجات میں پاس کروائی جائے گی۔ یہ رقم فیڈرل کنسولیڈیڈ فنڈ سے نکل کر الیکشن کمیشن کو دے دی جائے۔ 
کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سٹیٹ بینک سے بھی پوچھ لیں کہ انہوں نے کیا جواب دیا ہے۔ 
قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک سیما کامران نے بتایا کہ ’ہمیں سپریم کورٹ کا حکم آیا ہم پیش ہوئے، ہم نے بتایا  کہ ہم پیسے مختص کر سکتے ہیں مگر ٹرانسفر کرنے کی اجازت وزارت خزانہ دے گی۔‘ 
وزیر قانون نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ایکس پوسٹ فیکٹو اجازت لے لی جائے۔ 
اٹارنی جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ ’آئین کے تحت فیڈرل کنسولیڈیڈ فنڈ سے رقم کے استعمال کی منظوری وزیراعظم کی جانب سے دی جا سکتی ہے، دوسری صورت میں رقم کے استعمال کو اخراجات بنا کر منظوری لی جا سکتی ہے۔‘  
منگل کو سٹیٹ بنک کی سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع ہونے کے بعد عدالت عظمٰی اس سلسلے میں اگلی کاروائی کا حکم دے گی۔ 

شیئر: