Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا پاکستان بھر میں امن و امان فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے؟

وازت داخلہ کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ فوج کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی (فوٹو: اے ایف پی)
گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کی وجہ سے ملک بھر میں پھوٹ پڑنے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد سے اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ مختلف علاقوں میں فوج لگا دی گئی ہے اور اب امن و امان کا نظام وہی سنبھالے گی۔ 
اس سلسلے میں وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پنجاب کی درخواست پر آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج بلانے کے لیے اجازت دے دی ہے اور صوبائی حکومت تعینات کیے گئے فوجیوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات جی ایچ کیو کے ساتھ باہمی رضا مندی سے طے کرے گی۔ 
اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف سے بھی فوج کی تعیناتی کے متعلق ایک خط سامنے آیا ہے، جبکہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے فوج بلانے کے لیے وفاقی حکومت کو لکھا ہے۔
تاہم جب فوج کی تعیناتیوں کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لیے اردو نیوز نے وازت داخلہ سے رابطہ کیا تو ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ فوج کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی اور یہ تعیناتیاں کہاں ہونی ہیں اور کس تعداد میں ہونی ہیں اس کا تعین بھی صوبائی انتظامیہ نے کرنا ہے۔ 
حکومت پنجاب کے ایک اعلٰی افسر نے اس کی تفصیلات کے بارے میں بتایا کہ فوج کی تعیناتی کی منظوری ہو گئی ہے، لیکن یہ ضرورت پڑنے کی بنیاد پر ہے اور ابھی تک کسی جگہ انہیں بھیجا نہیں گیا۔ 
پنجاب حکومت کے حکام مطابق ان دستوں کی تعیناتی کی ضرورت لاہور، ملتان، فیصل آباد اور میانوالی میں پڑ سکتی ہے اور اس کے لیے انہیں سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔ 
افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے حکام کا بھی کہنا ہے کہ اس بارے میں ابھی تفصیلات نہیں آئیں۔
صوبوں میں تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی تعداد اور مقامات کے بارے میں پوچھے گیے اردو نیوز کے ایک سوال کے جواب میں آئی ایس پی آر کے اعلٰی حکام کا کہنا تھا کہ ’تفصیلات آنے پر بتائیں گے۔‘ 
آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کب ہوتی ہے؟ 
پاکستان کے ریٹائرڈ سینیئر پولیس اور فوجی افسران کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت امن و امان کا نظام فوج کے حوالے کرنے کا ایک باقاعدہ میکنزم ہے اور اس عمل کے مختلف مرحلے ہیں جن کے طے کرنے کے بعد ہی فوج میدان میں صورتحال کنٹرول کرتی ہے۔ 

افضل شگری کے مطابق فوجی دستے اس وقت تک مکمل کنٹرول نہیں سنبھال سکتے جب تک کہ صورتحال انتہائی زیادہ خراب نہ ہو جائے (فوٹو: اے ایف پی)

سابق انسپکٹر جنرل افضل شگری نے اردو نیوز کو بتایا کہ فوج جب بھی عوامی مقامات پر امن عامہ سنبھالنے کے لیے جاتی ہے یہ پولیس کے ہمراہ جاتی ہے اور فوجی دستے اس وقت تک مکمل کنٹرول نہیں سنبھال سکتے جب تک کہ صورتحال انتہائی زیادہ خراب نہ ہو جائے۔
’کوشش کی جاتی ہے کہ فوج زمینی سطح پر نہ ہی جائے اور صرف اسی صورت میں جاتی ہے جب حالات انتہائی خراب ہو جائیں۔ اور جب ایک دفعہ امن و امان کی ذمہ داری فوج کو سونپ دی جائے تو پھر وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے گولی بھی چلا سکتی ہے۔‘ 
فوج سویلین مجسٹریٹ کے ساتھ کام کرتی ہے 
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک نے اردو نیوز کو بتایا کہ فوج کی آرٹیکل 245 کے تحت سویلین فورسز کی امداد کے لیے تعیناتی سویلین فورس پولیس اور نیم فوجی دستے فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز وغیرہ کی ناکامی کے بعد ہی ہوتی ہے۔ 
’یہ تبھی ہوتا ہے جب پولیس اور نیم فوجی دستے اپنے تمام ذرائع استعمال کر چکنے کے باوجود صورتحال سنبھالنے میں ناکام ہو جائیں تو پھر فوج آرٹیکل 245 کے تحت آتی ہے اور وہ ایک سویلین مجسٹریٹ کے ساتھ کام کرتی ہے۔‘ 

آصف یاسین کا کہنا تھا کہ فوج کنٹرول سنبھال لے تو اس کے پاس صورتحال کو قابو کرنے کے لیے واحد ہتھیار گولی چلانا ہوتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

صورتحال سنبھالنے کے لیے فوج کا واحد ہتھیار گولی چلانا
آصف یاسین کا کہنا تھا کہ فوج کنٹرول سنبھال لے تو اس کے پاس صورتحال کو قابو کرنے کے لیے واحد ہتھیار گولی چلانا ہوتا ہے جس کو استعمال کرنے کے لیسے سویلین مجسٹریٹ تحریری اجازت دیتا ہے۔ 
’صوبائی حکومت پورے شہر کو فوج کے حوالے نہیں کرتی بلکہ مخصوص علاقے جہاں مسائل ہوں اور ہر علاقے میں فوج کے دستوں کے ساتھ اس علاقے کا ایک سویلین مجسٹریٹ ہوتا ہے جس کی سفارش پر ہی فوج ایکشن لیتی ہے۔‘ 

شیئر: