Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں ’مصنوعی ذہانت‘ کی پہلی قومی پالیسی تیار کر لی گئی

پالیسی میں کہا گیا کہ پاکستان کی نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے (فوٹو: پکسابے)
پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک کی سب سے پہلی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پالیسی تیار کر لی ہے جس کی بہت جلد کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
پالیسی کے تحت مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہر شعبے میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جبکہ 10 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کو مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کی جائے گی۔  
اردو نیوز کو دستیاب 26 صفحات پر مشتمل مصنوعی ذہانت پالیسی آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ مصنوعی ذہانت کی پالیسی کی ضرورت، پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی موجودہ صورت حال، پالیسی کے مقاصد اور اہداف، پالیسی پر عمل درآمد کی کامیابی کے لیے ضروری اقدامات اور مارکیٹ چیلنجز پالیسی کا حصہ ہیں۔  
پالیسی میں کہا گیا کہ پاکستان کی نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں دستیاب ڈیٹا اور اس کی پروسیسنگ کے ذریعے اس کی اگلی سطح پر لے جایا جائے۔ اسی وجہ سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے رجحانات کا جائزہ لینے کے بعد پالیسی تیار کی ہے تاکہ ملک اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکے۔
پالیسی ڈیٹا کی جدید اور شفاف طریقے سے ہینڈلنگ، صنعتی اور اکیڈیمیا کی معاونت سے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیے برابر مواقع کے حوالے سے اصول وضع کیے گئے ہیں۔  
پاکستان میں مصنوعی ذہانت پالیسی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟  
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق اس کا جواب بھی پالیسی مسودے کے اندر ہی دیا گیا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی پالیسی کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور اس کے پلیٹ فارمز کے استعمال بالخصوص ذاتی معلومات کی پرائیویسی سے متعلق وسیع سطح پر آگاہی پیدا کی جائے۔ اس کے علاوہ اس سے متعلقہ شعبہ جات میں انسانی سرمایہ کی مہارت کو مزید بہتر بنایا جا سکے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ڈیویلپمنٹ اور سرمایہ کاری جبکہ اخلاق ذمہ داریوں، درپیش چیلنجز اور خطرات کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔  
پالیسی مسودے کے مطابق پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے جس وجہ سے ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے انہیں جدید ٹیکنالوجی کے اس شعبہ میں مہارت فراہم کی جائے۔  
پالیسی میں تجویز کیا گیا ہے کہ قومی آرٹیفشل انٹیلیجنس فنڈ قائم کیا جائے جس کے ذریعے مستقبل قریب میں سرمایہ کاری کی جائے۔  
پالیسی کے مقاصد اور اہداف کیا ہوں گے؟  
مصنوعی ذہانت پالیسی کے سٹریٹجک مقاصد طے کیے گئے ہیں جن کو مزید دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اخلاقی اور ترقیاتی مقاصد کے طور پر تجویز کیا گیا ہے، جبکہ اگلے پانچ برس کے لیے 15 اہداف طے کیے گئے ہیں جن میں بیشتر اگلے دو سال میں حاصل کیے جائیں گے۔

ایچ ای سی کے کُل وظائف کا 30 فیصد مصنوعی ذہانت کے شعبہ جات کے لیے مختص کیا جائے گا (فوٹو: پکسابے)

چند اہم اہداف میں سے ایک یہ ہے کہ 2027 تک 10 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کو مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 10 ہزار ٹرینی بھرتی کرکے انہیں بھی تربیت فراہم کی جائے گی۔  
ایچ ای سی کے کُل وظائف کا 30 فیصد مصنوعی ذہانت کے شعبہ جات کے لیے مختص کیا جائے گا۔ آئی ٹی کے شعبہ میں موجودہ 70 فیصد ملازمین جبکہ نئی بھرتی ہونے والے 100 فیصد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دی جائے گی، جبکہ گریڈ 12 سے گریڈ 22 کے سرکاری ملازمین، افسران اور ٹیکنوکریٹس کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی ورکشاپس منعقد کروائی جائیں گی۔  
مصنوعی ذہانت کو پرائمری سیکنڈری اور اعلی تعلیم کا حصہ بنایا جائے گا۔ پالیسی کے مطابق مصنوعی ذہانت میں تحقیق کرنے والے طلبہ کو فنڈنگ سپورٹ اشاعتی فیس اور سفری گرانٹس دی جائیں گی۔ ایک ہزار ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ منصوبوں کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں مصنوعی ذہانت سینٹرز بنائے جائیں گے اور تمام ڈیٹا بیس کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم، صحت، زراعت اور سرکاری اداروں میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ عوام کے لیے خدمات کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔  

شیئر: