Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عوامی رابطہ مہم، پنجاب میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی کی حکمت عملی کتنی کارگر؟

لاہور پولیس نے پی ٹی آئی کے 50 کارکنوں پر سڑک بند کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ فوٹو: سکرین گریب
پنجاب میں جمود کے شکار پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور نے صوبے میں تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت سرگرم ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق اُن کے لاہور کے تین روزہ طوفانی دورے نے پی ٹی آئی کو سیاسی توانائی بخشی ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی 9 مئی کے واقعات کے بعد تقریبا جمود کا شکار تھی۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا لاہور کا دورہ ایک تبدیل شدہ حکمت عملی کا پتا بھی دے رہا تھا۔ اور وہ حکمت عملی کچھ یوں تھی کہ کسی بھی طرح کے احتجاج اور جلسے کا اعلان نہیں کیا گیا نہ ہی آخری وقت سے پہلے ان کی تین دن کی سرگرمیوں کا درست شیڈیول جاری کیا گیا۔ 
ماضی قریب میں علی امین گنڈاپور جب وزیراعلی تھے تو لاہور میں ایک جلسے کا اعلان کیا گیا تاہم انتظامیہ نے ’مینجمنٹ‘ سے اس کا اثر تقریبا زائل کر دیا تھا اور جب علی امین جلسہ گاہ پہنچے تو جلسہ ہی ختم ہو چکا تھا۔
اس بار صورت حال انتہائی دلچسپ اور حکمت عملی ’کارگر‘ تھی۔ سہیل آفریدی جمعے کی شام پنجاب اسمبلی پہنچے اور سرکاری عمارت کے اندر تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔
اسمبلی میں داخلے کے وقت سکیورٹی کے معاملات پر کچھ دھکم پیل تو ہوئی لیکن پنجاب اسمبلی کی سیاسی تاریخ کی اس پہلی سرگرمی (کسی دوسرے صوبے کے وزیراعلی کا اجلاس کی صدارت کرنا) کو روکا نہیں جا سکا۔
اس کے اگلے دو دن اسے بھی زیادہ ہنگامہ خیز رہے۔ پنجاب حکومت نے سرکاری طور پر اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیراعلی کو سکیورٹی فراہم تو کی لیکن ان کی سرگرمیوں کو روک نہیں سکے۔ لبرٹی اور فوڈ سٹریٹ جیسے عوامی مقامات ان کے پہنچنے سے پہلے ہی بند کروا دیے گئے۔ تاہم وہ سڑکوں پر اور چوک چوراہوں میں گاڑی سے باہر آ کر کارکنوں سے ملتے رہے۔

سہیل آفریدی کا لاہور کا دورہ ایک تبدیل شدہ حکمت عملی کا پتا دے رہا تھا۔ فوٹو: سکرین گریب

بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ اس دورے کو انتہائی ’ہوشیاری‘ سے ترتیب دیا گیا کہ پنجاب انتظامیہ قانون کی عملداری کے نام پر اس کو سبوتاژ نہ کر سکے۔ تحریک انصاف کے کے اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں میں جانے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں صحافیوں سے ملاقاتیں بھی رکھی گئی تھیں۔ ایک عام رپورٹر سے لے کر بڑے تجزیہ کاروں کو بھی ان ملاقاتوں میں مدعو کیا گیا تھا۔
صحافیوں کے ساتھ یہ ملاقاتیں زیادہ تر آخری یعنی اتوار کے روز رکھی گئی تھیں۔ جہاں ایسے صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا کہ جو بظاہر تحریک انصاف کی طرز سیاست کے خلاف بات کرتے ہیں۔ اور ایسے کئی صحافیوں نے اپنے سوال کرنے سے پہلے وزیراعلٰی کو داد دی کہ کم از کم وہ نچلی سطح پر دستیاب تو ہیں۔ ٹی وی اینکر سید مزمل نے کہا ’پنجاب کی وزیراعلٰی مریم نواز کے ساتھ اس طرح کی ملاقاتیں تو خواب ہیں۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ آپ نے اس طرح اپنے آپ کو صحافیوں کے لیے دستیاب کیا ہوا ہے۔ جو کہ ہمارے ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔‘
دن بھر جاری رہنے والی ان ملاقاتوں میں اس طرح کے جملے تواتر کے ساتھ سننے کو ملے۔ اپنی اس نئی حکمت عملی پر وزیراعلی سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ جو نیا طریقہ کار شروع کیا ہے جس میں ہم ہر جگہ جا کر لوگوں کو مل رہے ہیں۔ اوراب یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ ہم اب اپنا دباؤ بڑھاتے رہیں گے۔ اب ہم جلسے اور جلوس نہیں کر رہے کیونکہ اس کے نتائج ٹھیک نہیں تھے، اب عوامی رابطہ مہم چلے گی جس کو روکنا ممکن نہیں ہے۔‘
انہوں نے کھل کر بتایا کہ اب صرف لاہور نہیں دیگر شہروں میں بھی اسی طریقے سے رابطہ مہم جاری رہے گی۔ انہی ملاقاتوں میں شریک سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’میں نے یہ سوال وزیراعلی سہیل آفریدی سے بھی کیا تھا کہ ان کا حتمی مقصد کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا تھا کہ ابھی مجھے جو ہدایات ملی ہیں انہی پر چل رہا ہوں آگے جو ہدایات آئیں گی تو دیکھا جائے گا۔ ابھی جو وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی ہے وہ ہماری مستقبل کی عوامی رابطہ مہم کو دیکھ کر دی ہے۔‘

وزیراعلٰی سہیل آفریدی لاہور کی مختلف سڑکوں اور چوراہوں پر شہریوں سے ملتے رہے۔ فائل فوٹو: سکرین گریب

سلمان غنی کے مطابق ’لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ایک نہیں کئی مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کر چکےہیں۔ اور ہر دفعہ تحریک انصاف نے ان کو رد کیا کیونکہ وہ سیدھے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے خواہاں ہیں۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے دوسری طرف سے ابھی تک لائن کٹی ہوئی ہے۔ راستہ مذاکرات سے ہی نکلے گا۔ ابھی پی ٹی آئی نے اپنی حکمت عملی بدلی ہے تو اس بات کے آثار ہیں کہ مزید بھی بدلیں گے جو کہ خوش آئند ہے۔‘
سینیئر ٹی وی اینکر اجمل جامی کہتے ہیں کہ ’ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف نے سیاسی طور پر جو اپنے سخت رویے سے نقصان اٹھایا ہے، اس میں اب صرف اس حد تک تبدیلی دیکھی جا رہی ہے کہ وہ جلسے جلوسوں سے ہٹ کر گلی محلوں میں جا رہے ہیں۔ اگر تو وزیراعلی خود یہ ساری سٹریٹ موومنٹ لیڈ کریں گے تو اس کو روکنا پنجاب حکومت کے لیے مشکل ہو گا کیونکہ وہ وزیراعلی کی حیثیت سے ان کو کسی عوامی جگہ پر جانے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے تین دن یہی دیکھا کہ انتظامیہ کی دوڑیں لگی ہوئی تھیں لیکن وہ کچھ کر نہیں پا رہے تھے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا اب ساری تحریک کی ذمہ داری سہیل آفریدی کے کندھوں پر ہے؟ یعنی وہ تنہا یہ ساری مہم چلائیں گے؟ کیونکہ جو پروٹوکول اور آئینی تحفظ ان کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ اس لیے یہ ایک غی معمولی حکمت عملی تو ہے ایک دو مہینے میں اس کا اثر کیا ہوتا ہے یہ دیکھنا ضروری ہو گا۔‘
لاہور پولیس نے البتہ ایک ایف آئی آر بھی درج کی ہے جس میں 50 سے زائد تحریک انصاف کے کارکنوں پر سڑک بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کل اگر پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ آگے بڑھتی ہے تو حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔

 

شیئر: