Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نو مئی کے واقعات، پنجاب کی جیلوں میں 11 خواتین قید ہیں: نگراں وزیراعلٰی

ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
صوبہ پنجاب کے نگراں وزیراعلٰی محسن نقوی نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد ہونے والی گرفتاریوں میں سے 11 خواتین پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں۔ 
بدھ کو لاہور میں نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ خواتین پر تشدد سے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد انہوں نے پنجاب کی جیلوں کا معائنہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں خواتین کے ساتھ نامناسب سلوک نہیں ہوا۔
’کل 11 خواتین ہمارے پاس ہیں۔ ہم بھی ماؤں بہنوں والے ہیں۔ ہم نے چار مرتبہ چیک کیا۔ ہم ان خواتین سے ملوا نہیں سکتے ورنہ میرا دل ہے کہ آپ کو ملوا لیں اور آپ خود پوچھ لیں۔‘
ان سے سوال کیا گیا کہ 25 افراد ہلاک ہوئے تو اس پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں سے متعلق عمران خان لسٹ فراہم کریں۔
’اگر 25 لوگ ہلاک ہوئے تو ان کی فہرست بھی ہو گی، نام بھی ہوں گے ان کے جنازے بھی ہوئے ہوں گے، وہ کہیں نہ کہیں کے رہائشی بھی ہوں گے۔ صرف ان کے نام دے دیں کہ ہمارے بھی علم میں آئے۔‘
اس سے قبل منگل کو لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا تھا کہ ’9 مئی کے بعد جیلوں میں جانے والی خواتین کے ساتھ تشدد کے الزامات غلط ہیں، جیل میں کسی خاتون پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔‘
انہوں نے بتایا تھا کہ ’جیلوں میں 150 سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں اور لیڈی ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔‘
ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ ’اگر جیل میں ایک بھی خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اس کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔‘

شیئر: