Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیشی بینکوں کا انڈین روپے میں تجارتی لین دین کا آغاز

چین کے بعد انڈیا، بنگلہ دیش کی درآمدات کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
بنگلہ دیش کے دو بینک انڈین کرنسی میں تجارتی لین دین کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ان میں ملک کا سب سے بڑا سرکاری بینک بھی شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بنگلہ دیش اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس وقت تک بنگلہ دیش صرف ڈالر میں ہی تجارتی لین دین کر رہا ہے۔
حکومت کے سونالی بینک اور ایسٹرن بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بینکوں نے بینک آف انڈیا اور آئی سی آئی سی آئی بینک کے ساتھ روپے میں ’نوسٹرو‘ اکاؤنٹس کھولے ہیں۔
نوسٹرو اکاؤنٹ سے مراد ایسا اکاؤنٹ ہے جو ایک بینک بیرون ملک کسی دوسرے بینک کے ساتھ اس کے دائرہ اختیار کی کرنسی میں رکھتا ہے۔ ایسے کھاتوں کا استعمال بین الاقوامی تجارت اور غیر ملکی زرمبادلہ کے دیگر لین دین کے لیے کیا جاتا ہے۔
سونالی بینک کے مینجنگ ڈائریکٹر افضل کریم نے روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ صرف آغاز ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمارے ساتھ مزید بینک شامل ہوں گے۔ اس سے زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا۔‘
ایسٹرن بینک کے مینجنگ ڈائریکٹر علی رضا افتخار کا کہنا ہے کہ ’ایکسچینج ریٹ کے طریقہ کار کا فیصلہ انفرادی بینک کراس کرنسی کی بنیاد پر کریں گے اور اس کا باقاعدہ اعلان 11 جولائی کو کیا جائے گا۔‘

گذشتہ 12 ماہ کے دوران بنگلہ دیش کی کرنسی ٹکا کی قدر میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی (فائل فوٹو: روئٹرز)

چین کے بعد انڈیا، بنگلہ دیش کی درآمدات کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جون 2022 تک بنگلہ دیش کی انڈیا کو برآمدات 2 ارب ڈالر تھیں جبکہ اس نے انڈیا سے 13 ارب 69 کروڑ ڈالر کی درآمدات کیں۔
بنگلہ دیش ڈالر کی کمی کی وجہ سے درآمدی ایندھن کی ادائیگی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے بنگلہ دیش کے ڈالر کے ذخائر ایک تہائی سے کم ہو کر 31 ارب 60 کروڑ ڈالر تک آگئے ہیں جو گذشتہ سات برسوں کے دوران کم ترین سطح ہے۔
گذشتہ 12 ماہ کے دوران بنگلہ دیش کی کرنسی ٹکا کی قدر میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔

شیئر: