امریکی حکام نے ایک ایسے حیرت انگیز واقعے کا انکشاف کیا ہے جس میں کینیڈا کی ایک ایئرلائن کے سابق فلائٹ اٹینڈنٹ نے خود کو کمرشل پائلٹ اور موجودہ عملے کا رکن ظاہر کر کے مختلف امریکی ایئر لائنز سے سینکڑوں مفت پروازیں حاصل کیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ ڈلاس پوکورنک کو گزشتہ برس اکتوبر میں ہوائی کی وفاقی عدالت میں ’وائر فراڈ‘ (آن لائن دھوکہ دہی) کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد پاناما سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزم کو حال ہی میں امریکہ کے حوالے کیا گیا جہاں منگل کو عدالت میں پیشی کے دوران اس نے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔
مزید پڑھیں
عدالتی دستاویزات کے مطابق ڈلاس پوکورنک سنہ 2017 سے 2019 تک ٹورنٹو کی ایک ایئر لائن میں فلائٹ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔
ملازمت چھوڑنے کے بعد انہوں نے اسی ایئر لائن کے جعلی ایمپلائی آئی ڈی کارڈز استعمال کیے تاکہ دیگر تین ایئر لائنز میں پائلٹوں اور فضائی عملے کے لیے مختص مفت ٹکٹ حاصل کر سکیں۔
امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈلاس پوکورنک اس حد تک نڈر تھے کہ انہوں نے متعدد بار کاک پٹ میں موجود اس اضافی نشست یعنی ’جمپ سیٹ‘ پر بیٹھنے کی بھی درخواست کی جو عام طور پر ڈیوٹی سے فارغ پائلٹوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔
تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ کبھی واقعی کسی جہاز کے کاک پٹ میں بیٹھ کر سفر کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔

ملزم پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ان ایئر لائنز کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جنہیں دھوکہ دیا گیا البتہ ان کچھ مقامات کا ذکر کیا گیا ہے جو ہونولولو، شکاگو اور فورٹ ورتھ میں واقع ہیں۔
ان شہروں سے پروازیں چلانے والی ہوائی ایئر لائنز، یونائیٹڈ ایئر لائنز اور امریکن ایئر لائنز کے ترجمانوں نے فی الحال اس معاملے پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔
اسی طرح ٹورنٹو میں قائم ایئر کینیڈا کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ہوائی میں امریکی استغاثہ کے مطابق جعل سازی کا یہ سلسلہ چار برس تک جاری رہا۔
منگل کو ایک امریکی مجسٹریٹ جج نے ڈلاس پوکورنک کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا جبکہ ان کے وکیل نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فضائی سفر کی سکیورٹی پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2023 میں ’ہوزائن ایئر‘ کی ایک پرواز کے کاک پٹ میں موجود ایک آف ڈیوٹی پائلٹ جوزف ایمرسن نے اچانک یہ کہہ کر کہ ’میں ٹھیک نہیں ہوں‘ دورانِ پرواز انجن بند کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایمرسن نے بعد میں پولیس کو بتایا تھا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈیپریشن کا شکار تھے۔
گزشتہ نومبر میں ایک وفاقی جج نے انہیں اس وقت تک کاٹی گئی قید کی سزا سنا کر رہا کر دیا تھا۔
رپورٹ میں لکھا ہے کہ ڈلاس پوکورنک کے خلاف سامنے آنے والے الزامات ہالی وُڈ کی مشہور فلم ’کیچ می اِف یو کین‘ کی یاد دلاتے ہیں جس میں لیونارڈو ڈی کیپریو نے فرینک ایبگنیل کا کردار نبھایا تھا۔
اس فلم میں بھی مرکزی کردار ایک پائلٹ کا روپ دھار کر ایئر لائنز کے ساتھ دھوکہ دہی اور مفت پروازیں حاصل کرتا دکھایا گیا تھا۔












