Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کانگریس: صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی سے روکنے کی قرارداد ناکام

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ وینزویلا کو برسوں تک چلاتا رہے گا (فوٹو: روئٹرز)
امریکی ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کے ارکان نے اُس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی سے روکنا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جمعرات کو امریکی ایوان نمائندگان میں ووٹنگ 215 کے مقابلے 215 سے برابر رہی جس کی وجہ سے قرارداد ناکام ہو گئی۔
اس قرارداد میں صدر کو ہدایت دی گئی تھی کہ ’جب تک جنگ کے باضابطہ اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی کوئی واضح قانونی اجازت نہ دی جائے، وینزویلا سے امریکی افواج واپس بلائیں۔‘
صدر کو وینزویلا سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس سے چند دن قبل ایسی ہی ایک تجویز سینیٹ میں بھی ناکام ہو چکی تھی۔
یہ ووٹنگ کانگریس میں پائے جانے والے خدشات کی عکاسی کرتی ہے جن میں کچھ ری پبلکن ارکان بھی شامل ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اس موقف کی حمایت زور پکڑ رہی ہے کہ آئین کے مطابق امریکی فوج کو جنگ میں بھیجنے کا اختیار صدر کے بجائے کانگریس کے پاس ہونا چاہیے۔
قرارداد کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ’اس کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وقت وینزویلا میں امریکی فوج موجود ہی نہیں۔‘
فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن رکن برائن ماسٹ نے ووٹنگ سے قبل مباحثے کے دوران کہا کہ وینزویلا میں کوئی امریکی فوجی نہیں لڑ رہا۔
امریکی صدر کے ری پبلکن اتحادیوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ڈیموکریٹس نے یہ قرارداد صرف صدر ٹرمپ پر ’حملے‘ کے لیے پیش کی ہے۔
برائن ماسٹ جو ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ہیں، نے کہا ہے کہ یہ سب ضد کی بنیاد پر ہے۔ وہ چاہے کچھ بھی کریں آپ مذمت ہی کریں گے۔‘

ری پبلکن رکن برائن ماسٹ نے کہا صدر ٹرمپ ’چاہے کچھ بھی کریں آپ مذمت ہی کریں گے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)

قرارداد کے حامیوں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ امریکہ کو ایک اور ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ میں نہ دھکیلے، جیسا کہ افغانستان اور عراق میں دہائیوں تک جنگیں جاری رہیں۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس، جو خارجہ امور کمیٹی میں اعلیٰ ڈیموکریٹ ہیں، نے کہا کہ امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ہم ان کی زندگی گزارنے کی لاگت کم کریں، نہ کہ جنگ کو بڑھاوا دیں۔
فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن ڈیبی واسرمن شلٹس نے کہا کہ ’جبر کا نظام ویسا ہی چھوڑ دیا گیا ہے اور وینزویلا کے عوام کی جمہوری امیدیں پیچھے رہ گئی ہیں۔‘
میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والے رکن جم میک گورون، جو ایوان کی اس قرارداد کے اہم پیش کنندہ ہیں، نے کہا، کہ ’اگر صدر مزید فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تو ان پر اخلاقی اور آئینی طور پر لازم ہے کہ وہ یہاں آ کر ہماری منظوری حاصل کریں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو برسوں تک چلاتا رہے گا، احتجاج کرنے والے ایرانی شہریوں کو بتایا کہ ’مدد آ رہی ہے‘، اور گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

 

شیئر: