Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ تنازع انڈیا کی اولمپک گیمز کی میزبانی کی خواہشات کے لیے دھچکا

انڈیا کرکٹ کی عالمی آمدنی کا لگ بھگ تین چوتھائی پیدا کرتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا  کو امید ہے کہ اگلے ماہ ہونے والا ٹی20 ورلڈ کپ اسے عالمی سپورٹس میزبان کے طور پر مضبوط مقام دلائے گا اور اس کی اولمپکس کی میزبانی کی خواہشات کو بھی تقویت دے گا، لیکن بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی تنازع اور سیاسی مداخلت کے الزامات نے ان تیاریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ٹورنامنٹ میں صرف دو ہفتے باقی ہیں، اور بنگلہ دیش کو عملاً مقابلے سے باہر ہونا پڑا ہے، جب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل  نے ان کی درخواست مسترد کر دی کہ ان کے میچ انڈیا کے بجائے شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ’ہماری واحد مانگ یہ ہے کہ ہم ورلڈ کپ کھیلیں، لیکن انڈیا میں نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مقام تبدیل نہ کیا گیا تو ٹیم ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے گی۔

انڈیا 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، جو احمد آباد میں متوقع ہیں، اور انہیں 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
لیکن ٹی20 ورلڈ کپ کی افراتفری پر مبنی تیاریوں نے ان عزائم پر اثر ڈال دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ کی واپسی ہونے جا رہی ہے۔
ٹی20 ورلڈ کپ کا شیڈول تاخیر کا شکار رہا اور دسمبر تک جاری نہ ہو سکا، اور اب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو 7 فروری کو ہونے والے افتتاحی میچ سے چند دن پہلے شامل کرنا پڑ سکتا ہے۔

چیلنج کرنے والا کوئی نہیں

امین الاسلام بلبل نے کہا کہ ’بنگلہ دیش کرکٹ سے محبت کرنے والا ملک ہے۔ اگر تقریباً 20 کروڑ آبادی والا ملک ورلڈ کپ سے محروم رہتا ہے تو آئی سی سی ناظرین کا بہت بڑا حلقہ کھو دے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ 2028 میں کرکٹ اولمپکس میں داخل ہو رہی ہے، 2032 میں برسبین گیمز ہوں گے، اور انڈیا 2036 کی بولی دے رہا ہے۔ بنگلہ دیش جیسے کرکٹ سے پیار کرنے والے ملک کو باہر رکھنا ناکامی ہوگی۔‘
آئی سی سی نے کہا کہ اس نے بنگلہ دیش کے میچز منتقل کرنے کے لیے ’کوئی قابلِ اعتبار یا قابلِ تصدیق خطرہ‘ نہیں پایا اور وہ’عالمی کھیل کے اجتماعی مفادات کے تحفظ‘ کے لیے پرعزم ہے۔
لیکن یہ  کھیل انڈیا کے غلبے میں ہے، جہاں کرکٹ ثقافت، معیشت اور سیاست آپس میں گڈ مڈ ہوگئے ہیں۔

جنوبی ایشیا دنیا کے ایک ارب سے زائد کرکٹ شائقین میں سے تقریباً 90 فیصد پر مشتمل ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

جنوبی ایشیا دنیا کے ایک ارب سے زائد کرکٹ شائقین میں سے تقریباً 90 فیصد پر مشتمل ہے، جبکہ انڈیا اس کھیل کی عالمی آمدنی کا لگ بھگ تین چوتھائی پیدا کرتا ہے۔
انڈیا کی بالادستی کی جڑ اس کے کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کی غیر معمولی آمدن میں ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں سب سے مقبول کھیل کی سرپرستی کے باعث بے پناہ مالی وسائل رکھتا ہے۔
انڈین روزنامہ ٹریبیون میں سپورٹس صحافی پردیپ میگزین نے لکھا کہ بی سی سی آئی کی ’حیران کن آمدن… اسے عالمی کرکٹ کے فیصلوں پر ناقابلِ تصور حد تک کنٹرول دیتی ہے‘۔
انہوں نے لکھا کہ انڈیا کی بالادستی کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ، انڈیا کے طاقتور وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے صاحبزادے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی ہیں۔

’یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے‘

انڈین سپورٹس صحافی شردا اُگرا نے اے ایف پی کو بتایا ’کرکٹ کو سیاست نے اس طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’بنگلہ دیش کا معاملہ اس حد تک اس لیے پہنچا کیونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔‘
انڈیا اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات 2024 میں ڈھاکہ میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد خراب ہوئے، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ اقتدار سے ہٹا دی گئیں۔ وہ اب سزا یافتہ مفرور ہیں اور پرانے اتحادی نئی دہلی میں مقیم ہیں۔
صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بی سی سی آئی کے حکم پر بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو ٹیم سے نکالنا پڑا، جس پر ڈھاکہ میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
مستفیض کی برطرفی کے پیچھے دائیں بازو کے ہندوؤں کی آن لائن مہم تھی، جو مسلم اکثریتی بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر ہندوؤں پر حملوں پر سیخ پا ہیں۔
ڈھاکہ کا مؤقف ہے کہ انڈین میڈیا نے تشدد کی شدت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سپورٹس مشیر عاصف نذرل نے کہا کہ ’کسی کی بھی کرکٹ پر اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر آئی سی سی واقعی ایک عالمی ادارہ بننا چاہتا ہے، اور اگر وہ انڈیا کے حکم پر اٹھنے بیٹھنے کے بجائے خودمختار رویہ اختیار کرے، تو ہمیں سری لنکا میں ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔‘
بنگلہ دیش پاکستان کی مثال پر عمل کرنا چاہتا تھا، جو 2025 کے چیمپئنز ٹرافی کے لیے انڈیا کے اسلام آباد جانے سے انکار کے بعد طے پانے والے معاہدے کے تحت اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جبکہ اس وقت انڈیا کے میچز دبئی منتقل کیے گئے تھے۔
ایٹمی طاقتوں انڈیا اور پاکستان نے 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد تقسیم کے بعد سے کئی جنگیں لڑی ہیں اور کرکٹ میدان میں بھی سخت حریف ہیں، حتیٰ کہ حالیہ میچز میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی انکار کر چکے ہیں۔
شردا اُگرا نے کہا کہ ’آئی سی سی میں کوئی ایسا نہیں جو بی سی سی آئی کی باتوں یا اقدامات کے خلاف کھڑا ہو سکے۔‘ انہوں نے مزید کہا اس وقت بی سی سی آئی اور آئی سی سی ایک ہی چیز بن چکے ہیں۔

شیئر: