Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں ہیلتھ کارڈ منصوبے کا اعلان، 10 لاکھ روپے تک مفت علاج

نگراں وزیراعلیٰ کے مطابق ہیلتھ کارڈ پر بلوچستان کے ہر فرد کا بلا امتیاز صرف اس کے شناختی کارڈ پر مفت علاج ہو گا (فوٹو: بلوچستان حکومت)
بلوچستان کی نگراں حکومت نے التوا کا شکار ہونے والے ہیلتھ کارڈ منصوبے کو جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد مریضوں کا شناختی کارڈ ہی ہیلتھ کارڈ تصور کیا جائے گا جس سے صوبے کا ہر غریب اور امیر شہری مستفید ہو سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت صوبے کے 22 لاکھ خاندان ملک کے 1200 ہسپتالوں میں سالانہ دس لاکھ روپے تک کا علاج سرکاری خرچ پر کروا سکیں گے۔
جمعے کو وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ایک تقریب کے دوران نگراں وزیراعلیٰ میر علی مردان ڈومکی نے منصوبے کا افتتاح کیا۔
نگراں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آج تاریخ ساز دن ہے کیوں کہ بلوچستان کی عوام کو صحت عامہ کی معیاری سہولیات کی فراہمی کا خواب پورا ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ پر بلوچستان کے ہر فرد کا بلا امتیاز صرف اس کے شناختی کارڈ پر مفت علاج ہو گا۔
بلوچستان حکومت کے مطابق اس منصوبے کا اعلان 2019 میں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کیا تھا، تاہم اسے عملی جامہ پہنانے میں چار سال لگ گئے۔
سیکریٹری صحت بلوچستان عبداللہ خان کے مطابق اس منصوبے پر گذشتہ کئی برسوں سے کام جاری تھا اب اس کو قابل عمل بنادیا گیا ہے۔ اس منفرد منصوبے کے ذریعے صوبے کے غریب اور امیر سب بلا امتیاز اچھے ہسپتالوں سے اپنا مفت علاج کروا سکیں گے اور انہیں کسی قسم کی سفارش کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے پسماندہ اور غریب طبقے کو علاج کی بہتر سہولیات تک رسائی حاصل ہو گی۔  
محکمۂ صحت کے مطابق صحت کارڈ میں او پی ڈی کی سہولت شامل نہیں جو مریض ہسپتال میں داخل ہوگا وہی اس سے مستفید ہوسکے گا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد پانچ روز کی ادویات بھی دی جائیں گی۔ 
حکام کے مطابق ہیلتھ کارڈ کے حامل افراد کینسر، گردوں بشمول ڈائیلاسسز، مثانے، شوگر، دل کے امراض، پیوند کاری، چھاتی کے سرطان کی سکریننگ، نیورو سرجری، اتفاقی حادثات سمیت ہر قسم کی ایمرجنسی میں اپنا علاج کروا سکیں گے۔
ہیلتھ کارڈ منصوبے کے سربراہ اسداللہ کاکڑ نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ منصوبے کے لیے 5 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ساتھ معاہدہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں شمولیت کے لیے صرف اور صرف شناختی کارڈ کی ضرورت ہو گی مگر یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ شہری کے شناختی کارڈ پر مستقل پتہ بلوچستان کا درج ہو تو اسی صورت میں ہی کوئی بھی مریض ہیلتھ کارڈ کا اہل ہو سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کے تحت مریض پینل ہسپتال میں کسی بھی بیماری کی صورت میں ہیلتھ ڈیسک پر شناختی کارڈ دکھا کر اپنے علاج کا عمل شروع کرسکتے ہیں۔
سی ای او ہیلتھ کارڈ کے مطابق بلوچستان کے شہری 8500 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر پروگرام میں اپنے اور اہلخانہ کی شمولیت کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ اگر کسی خاندان کے کسی فرد کا اندراج نہیں ہوا تو وہ سیکریٹری یونین کونسل سے بچے کا برتھ سرٹیفکیٹ بنا کر نادرا سے ب فارم بنوائے اس طرح ریکارڈ اپڈیٹ ہوجائے گا اور وہ بھی پروگرام کا اہل ہوجائےگا۔
اسد اللہ کاکڑ نے بتایا کہ خاندان کے وہ افراد جو نادرا کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں، وہ اس پروگرام سے مستفید ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔
’بلوچستان کے عوام سے گزارش ہے کہ وہ نادرا میں اپنے اور تمام خاندان کے افراد کے کوائف یعنی شادی، پیدائش، وفات کا جلد از جلد اندراج کروائیں‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے نام سے ایک موبائل ایپلی کیشن بھی بنائی ہے جس کی مدد سے مریض اپنے علاقے کے قریب پینل ہسپتال کے بارے میں معلوم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح  معلومات کے حصول کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔ 
اسد اللہ کاکڑ نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے مریضوں اور بیماریوں سے متعلق صحیح اعداد و شمار بھی جمع ہوسکیں گے جو مستقبل کی منصوبہ بندی میں کام آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں نگرانی کا مؤثر نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔ علاج کے بعد مریض سے اس کے موبائل پر سہولیات سے متعلق رائے پوچھی جائے گی تاکہ خامیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔

شیئر: