Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سول ایوارڈ کسے ملنا چاہیے؟ لاہور ہائی کورٹ نے معیار طے کرنے کا حکم دے دیا

رواں سال صدر پاکستان نے 135 شخصیات کو سول ایوارڈ سے نوازا تھا۔ فوٹو: اے پی پی
لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو سول ایوارڈز سے نوازنے کے حوالے سے معیار طے کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعرات کو جسٹس جواد حسن کی سربراہی میں سنگل بینچ نے تحریری فیصلے میں حکم دیا کہ وفاق ڈیکوریشن ایکٹ 1975 کے تحت ہونے والی نامزدگیوں کا معیار طے کرے۔
جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سول ایوارڈ نوازنے سے متعلق امتیازی سلوک کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے تاہم عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ ایوارڈ کے لیے نامزد نہ ہونا بنیادی حقوق کے زمرے میں نہیں آتا۔
گریڈ 20 کے سکو ل پرنسپل خوشدل خان خٹک نے ستارہ امتیاز نہ ملنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
خوشدل خٹک فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز( ایف جی ای آئی) کے ملازم ہیں جو وزرات دفاع سے منسلک ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سیکریٹری وزارت دفاع نے ایف جی ای آئی سے سول ایوارڈ 2022 کے لیے نام مانگے تھے، ڈی جی ایف جی ای آئی راولپنڈی کینٹ نے ان کے سمیت پانچ نام بھجوائے تھے، لیکن وزرات دفاع نے ایف جی ای آئی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کے بجائے دس ناموں پر مشتمل فہرست سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن کو بھجوا دی۔
درخواست گزار کے مطابق انہوں نے متعدد پوزیشنز پر پاکستان کے لیے خدمات سر انجام دی ہیں اور سول ایوارڈ کے لیے ناموں کو شارٹ لسٹ کرنے میں شفافیت کو برقرار نہیں رکھا گیا۔ 
درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزرات دفاع نے اپنی مرضی کے نام شارٹ لسٹ کر کے کیبنیٹ ڈویژن کو بھجوائے ہیں۔ 

لاہور ہائی کورٹ نے سول ایوارڈ کے لیے نامزدگیوں کا معیار طے کرنے کا کہا ہے۔ فوٹو: وکیپیڈیا

جسٹس جواد حسن نے سول ایوارڈ نہ دینے کے خلاف درخواست خارج کر دی تاہم ایوارڈز دینے کے حوالے سے حکومت کو معیار طے کرنے کا کہا ہے۔
عدالتی فیصلے کی کاپی وزیراعظم آفس، کیبنیٹ ڈویژن، سیکریٹری وزیراعظم اور وزارتوں کو بھجوانے کا حکم دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 259 میں سول ایوارڈ کا ذکر کیا گیا ہے، ہر سال دسمبر میں کیبنیٹ ڈویژن تمام وزارتوں سے ایوارڈز کے لیے نام مانگتی ہے اور ایوارڈ کمیٹی کو تمام سفارشات بھجوا دی جاتی ہیں۔ 
 فیصلے کے مطابق متعدد سیشنز کے بعد معاملہ مرکزی ایوارڈ کمیٹی کو بھجوایا جاتا ہے جس کی صدارت وفاقی وزرا کرتے ہیں، مرکزی ایوارڈ کمیٹی شارٹ لسٹ ہونے والے ناموں کو حتمی منظوری کے لیے بذریعہ وزیراعظم صدر کو بھجواتی ہے۔ ایوارڈز کی نامزدگیوں سے ایوارڈز دینے تک مکمل طریقہ کار موجود ہے۔
جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ ایوارڈ سے نوازنے کا مکمل طریقہ کار موجود ہے اور تمام قوائد و ضوابط پر عمل درآمد کے بعد کمیٹی صدر پاکستان کو نام بھیجتی ہے، تاہم عدالت نے حکم دیا کہ نامزدگیوں کے لیے معیار طے کریں۔
خیال رہے کہ ہر سال 23 مارچ کو مختلف شعبہ جات میں ملکی خدمات کے اعتراف میں متعدد شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔

شیئر: