Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

استنبول میں ہزاروں افراد کا اسرائیل مخالف مظاہرہ

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ایڈولف ہٹلر سے ’مختلف نہیں‘۔ فوٹو عرب نیوز
غزہ میں اسرائیل کی جنگ اور عراق میں کالعدم کرد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ترک فوجیوں کی ہلاکت کے خلاف ہزاروں افراد نے پیر کو استنبول میں مارچ کیا۔
اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ ریلی استنبول کی مشہور مساجد بلیو مسجد، آیا صوفیہ اور دیگر میں صبح کی نماز کے بعد شروع ہوئی۔
اس مارچ کا اہتمام ایک فاؤنڈیشن کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے اراکین میں صدر رجب طیب اردوغان کے بیٹے بلال اردوغان بھی شامل ہیں۔
ترکیہ اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے باسفورس پر واقع گالتا پل پر ہونے والے اس مظاہرے میں شریک افراد ’قاتل اسرائیل، فلسطین سے نکل جاؤ‘ اور ’اللہ اکبر’  کے نعرے لگا رہے تھے۔
ترکیہ کی سرکاری نیوز ایجنسی انادولو نے رپورٹ کیا ہے کہ ریلی میں شامل ہزاروں مظاہرین ’ہمارے شہیدوں کے لیے رحمت اور اسرائیل پر لعنت‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔
واضح رہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان، حماس کی 7 اکتوبر کو سرحد پار سے ہونے والی کارروائی کے ردعمل میں ہونے والی غزہ میں تباہی  اور ہزاروں ہلاکتوں پر اسرائیل پر کئی بار تنقید کر چکے ہیں۔

اسرائیلی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 21822 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ فوٹو عرب نیوز

اردوغان نے اسرائیل پر ’ریاستی دہشت گردی‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ایڈولف ہٹلر سے ’مختلف نہیں‘۔
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں وزارت صحت کے مطابق کم از کم 21 ہزار 800 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فورسز کا کہنا ہے کہ اس کے 172 فوجی غزہ کے اندر مارے گئے ہیں تاہم ابھی تک جنگ تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

ریلی میں مظاہرین ’اسرائیل پر لعنت‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ فوٹو اے ایف پی

ترکیہ کی فوج کے ترجمان کے مطابق شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کی طرف سے کیے گئے دو الگ حملوں میں دسمبر کے آخر میں 12 فوجی مارے گئے۔
درین اثناء شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر ترکیہ  باقاعدگی سے زمینی اور فضائی کارروائیاں کرتا ہے، جسے انقرہ اور اس کے مغربی اتحادی دہشت گرد گروپ سمجھتے ہیں۔

شیئر: