Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ پر 37 ارب 50 کروڑ ڈالر خرچ ہو چکے ہیں: امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ

پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کے لیے قریباً 67 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی درخواست کا دفاع بھی کیا (ففائل وٹو: اے پی)
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے منگل کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکہ کے اب تک 37 ارب 50 کروڑ ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جو مئی کے وسط میں مرتب کیے گئے قریباً 29 ارب ڈالر کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے منگل کو سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ ’ہمارے پاس اب جو تخمینہ ہے وہ 37 ارب 50 کروڑ ڈالر کا ہے۔‘
انہوں نے پینٹاگون کے لیے قریباً 67 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی درخواست کا دفاع بھی کیا۔
پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کانگریس کو بتایا کہ یہ اضافی فنڈنگ ’انتہائی ضروری‘ اور ’لازمی‘ ہے تاکہ ستمبر کے اختتام تک ایران جنگ کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
تاہم ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین نے اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پیت ہیگسیتھ کے پاس اب بھی 75 ارب ڈالر کی غیر استعمال شدہ رقم موجود ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’آپ امریکی عوام سے ایک ایسی جنگ کا خرچ برداشت کرنے کو کیوں کہہ رہے ہیں جس کی وہ حمایت نہیں کرتے، آپ اس کی بجائے غیر استعمال شدہ فنڈز کو منتقل کرنے کی اجازت طلب کیوں نہیں کر رہے؟‘
پیٹ ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ یہ غیر استعمال شدہ رقم پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دیگر ترجیحات کے لیے مختص کی جا چکی ہے، جن میں ’گولڈن ڈوم فار امریکہ‘، ہائپرسونک ہتھیاروں اور دیگر دفاعی منصوبوں میں سرمایہ کاری شامل ہے۔
درخواست کردہ فنڈز میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی دوبارہ تعمیر کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
اس دوران قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جیتنے کی حکمتِ عملی کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جیتنے کی حکمتِ عملی پر بھی اپنی ناراضی کا اظہار کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

شفافیت کے مطالبات دونوں جماعتوں کی جانب سے سامنے آئے۔ ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز سے نکل جائے تو کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں واضح جوابات اور براہِ راست بات چیت کی ضرورت ہے۔‘
پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین نے اس حوالے سے کوئی واضح تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آیا ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی فیس عائد کرے گا یا نہیں۔

شیئر: