Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بحیرۂ احمر میں حوثی حملہ، صدر ٹرمپ کا ایران کو ’سبق سکھانے‘ اور سزا دینے کا عزم

صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگجوؤں کی جانب سے اگر مزید حملے ہوئے تو وہ ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایران اور اس کے حامی حوثی جنگجوؤں کو ’سخت فوجی سزا‘ دینے کے حوالے سے خبردار کیا، کیونکہ یمن کے ان جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر میں کم از کم ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ایک اور اہم سمندری گزرگاہ تک پھیل گئی ہے۔
دوسرے سمندر تک اس کشیدگی کے پھیلنے کے خدشے نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا، جو اس جنگ کے دوران ہونے والے بڑے اضافوں میں سے ایک ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گیا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عبوری جنگ بندی کے ٹوٹنے کے دو ہفتوں بعد امریکی فوج نے ایک بار پھر رات کے وقت ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے ان پڑوسی عرب ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق، ’اینسیلیا‘ نامی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم تمام عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
حوثیوں نے ایک دوسرے ٹینکر کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر جنگجوؤں کی جانب سے مزید حملے ہوئے تو وہ ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔
شمالی اور مغربی یمن پر قابض حوثیوں نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کر رہے ہیں۔ سعودی عرب روزانہ لاکھوں بیرل تیل پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر منتقل کر رہا ہے تاکہ خلیج سے آبنائے ہرمز کے راستے ایران کی ناکہ بندی سے بچا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’انہوں نے اگر دوبارہ ایسا کیا تو امریکہ ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے گا، کیونکہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ اور اس کے نمائندہ ہیں، اور ایران کے خلاف اور خود حوثیوں کے خلاف بھی سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنوب مشرقی ایشیا میں ایک سفارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی جانب سے ادا کی جانے والی قیمت ’ہر رات بڑھتی جائے گی‘ جب تک وہ ایک ایسے امن معاہدے کے لیے تیار نہیں ہو جاتا جس پر وہ قائم رہ سکے۔

شمالی اور مغربی یمن پر قابض حوثیوں نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کر رہے ہیں (فوٹو: ای پی اے)

انہوں نے کہا کہ ’ایران ہر روز (معاہدے کے لیے) درخواست کر رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایران جب بھی کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اسے یا توڑ دیتا ہے یا اسے بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اپنا مؤقف بدل لے کیونکہ اسے بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔‘
حوثیوں کے حملوں سے آبنائے باب المندب بند ہو سکتی ہے، جسے ’آنسوؤں کا دروازہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گزرگاہ بحیرۂ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کے بعد دوسری اہم ترین راہداری سمجھی جاتی ہے۔

شیئر: