Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی آبنائے ہرمز میں ہر حملے پر ایران کے پُل اور بجلی گھر نشانہ بنانے کی دھمکی

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران جنگ سے ابھی فارغ نہیں ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دھمکی دی کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ہر حملے کے بدلے میں ایران کا ایک پل یا بجلی گھر تباہ کیا جائے گا، اور یہ خبردار کیا کہ وہ اس جنگ سے ’ابھی فارغ نہیں ہوئے‘، جس پر امریکا کے اب تک 37 ارب 50 کروڑ ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں جاری جھڑپوں کے باعث ایک ابتدائی معاہدہ ناکام ہو چکا ہے، جبکہ ایران نے تیل اور گیس کی ترسیل کے اس اہم راستے پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کر دی ہے اور گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر فائرنگ کی ہے۔
اس ناکہ بندی نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس تنازع سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کریں، کیونکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل اس کے اثرات امریکی عوام کی جیبوں پر بھی پڑ رہے ہیں، اور ان وسط انتخابات میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ایران کی اسلامی جمہوریہ جب بھی آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی ہتھیار سے حملہ کرے گی، تو امریکہ ایک پل یا بجلی گھر کو بمباری سے تباہ کر دے گا‘، انہوں نے یوں ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اپنی دیرینہ دھمکی کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔
تاہم امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مشرقی ایشیا کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ فی الحال اس حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔‘
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
امریکہ کے ایک میزائل نے بدھ کی دوپہر آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ لارک کو نشانہ بنایا، ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق نقصان کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے لیے شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جسے شروع ہوئے تقریباً پانچ ماہ ہو چکے ہیں اور یہ جنگ ان کے اپنے حامیوں کے ایک حصے میں بھی غیر مقبول ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں (فوٹو: روئٹرز)

ناقدین نے اس کے بھاری اخراجات کی نشاندہی بھی کی ہے، جن کے بارے میں پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے منگل کو کہا کہ یہ بڑھ کر 37 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، اور انہوں نے فوج کے لیے مزید اربوں ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست کا دفاع بھی کیا۔
صدر ٹرمپ نے اس کے باوجود اس دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ ’ہم بالکل ختم نہیں ہوئے اور ہم اِس وقت کہیں نہیں جا رہے۔‘
پک ایکس ماؤنٹین
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف لگاتار گیارہویں رات بھی حملے کیے، جن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ’آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔‘
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا اگلا ہدف ایک زیرِ زمین کمپلیکس ہو سکتا ہے جسے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ یا فارسی میں ’کوہِ کلنگ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نطنز کے قریب واقع ایک مقام ہے جہاں مغربی انٹیلی جنس اداروں کو شبہ ہے کہ ایران ایک غیر اعلانیہ جوہری افزودگی کی تنصیب قائم کر رہا ہے۔
ایران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا حملہ کیا گیا تو اسے ’جنگ میں توسیع‘ تصور کیا جائے گا۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق خاتم الانبیا فوجی کمان نے امریکہ، اس کے اتحادیوں اور حامیوں کے ’تمام مفادات‘ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ ’امریکہ کی کوہِ کلنگ پر غیر معمولی توجہ دراصل جارحیت، تباہی اور تخریب کاری کے لیے ایک گھڑا ہوا بہانہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہاں کوئی جوہری سرگرمی جاری نہیں ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں معائنہ کاروں کو ’اب تک وہاں موجود ہونا چاہیے تھا‘، اور یہ ضروری ہے کہ جوہری توانائی کا عالمی ادارہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا جائزہ لے۔
میزائل روک لیے گئے
یہ دھمکیاں اس وقت سامنے آئیں جب ایران نے امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک میں اس کے مختلف اہداف پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔
کویت کی فوج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے ڈرونز کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ اُردن نے بتایا کہ اُس نے ایران کے چار میزائل اور چار ڈرون مار گرائے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کے لیے تیار ہے (فوٹو: روئٹرز)

بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے، اور منامہ میں موجود اے ایف پی کے نمائندے نے ایک دھماکے کی آواز سنی۔
ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور انتظامی عمارتیں شامل ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اُردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ تیل کی قیمت بدھ کے روز عارضی طور پر 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو چھ ہفتوں میں پہلی بار ہوا، تاہم بعد میں اس میں کچھ کمی آ گئی۔

شیئر: