Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مملکت میں شامی فیملیز کے’ رمضان پکوان‘ کی خوشبو جو ہر طرف پھیل رہی ہے

شامی خاندان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، یہ ملاقاتیں افطار یا سحری کی ٹیبلز پر ہوتی ہیں(فوٹو ایس پی اے)
سعودی عرب میں مقیم غیرملکی سال میں رمضان المبارک میں اپنے ملک اور وہاں کے پکوان کو یاد کرتے ہیں اور اپنے پکوان تیار کرکے احباب تک پہنچاتے ہیں۔
اس کا مقصد اپنے پکوانوں، روایات اور ورثے کو دوسروں کو متعارف کرانا ہے۔
سرکاری خبررساں ادارے ’ایس پی اے‘ نے تبوک میں مقیم شامی خاندانوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا کہ شامی فیملیز رمضان المبارک میں اپنے ملک کے پکوانوں کی خوشبو یہاں محسوس کرتے ہیں ،انہیں تیار کرکے اور احباب تک پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

عربی کافی مخصوص کپ میں پیش کی جاتی ہے۔ (فوٹو ایس پی اے)

ایس پی اے  کے نمائندے نے اس حوالے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ رمضان میں افطار کے حوالے سے شامی رسم و رواج اور روایات کیا ہیں؟  شامی کھانے، مٹھائیاں، مشروبات اور روایات جو افطار دسترخوان پر دوسروں سے منفرد ہیں۔
تبوک میں مقیم شامی انجینیئر خالد یاسین نے کہا کہ تبوک میں رہنے والے شامی خاندان مملکت میں خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے بلکہ ماہ رمضان دوسرے لوگوں کی طرح خاص پکوانوں کے ذریعے مناتے ہیں۔
 تبوک میں رہنے والی شامی خاندان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ان کی یہ ملاقاتیں افطار یا سحری کی ٹیبلز پر ہوتی ہیں۔ یہ ملاقاتیں فیملیز کے ہمراہ بھی رہتی ہیں جس میں کوشش کی جاتی ہے کہ ملاقات کے موقع پر گپ شپ کے ساتھ کھانے، مٹھائیوں، جوسز، چائے اورعربی کافی سے بھی لطف لیا جاتا رہے۔

افطار دسترخوان پر انواع و اقسام کی چیزیں ہوتی ہیں۔ (فوٹو ایس پی اے)

رمضان میں مشہور شامی کھانوں کے بارے میں خالد یاسین نے بتایا کہ شامی افطار دسترخوان پر مختلف انواع و اقسام کی چیزیں ہوتی ہیں۔ خاص طور پر مختلف اقسام کے الشوربہ،الکبہ المشویہ، المقلیہ، الفتوش، التبوبلہ، المحاشی، المقلوبہ، الحمص والمتبل، وورق العنب، الفتہاس کے علاوہ کنافہ، المشبک، القطایف، بلح الشام اس کے علاوہ جوسز میں عصائر التمر الھندی، عرق السوس اور قمرالدین شامل ہیں۔
خالد یاسین نے بتایا کہ عربی کافی افطار کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں اور اسے پیش کرنے کے لیے تانبے کے بنے دمشق کے برتن استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ شامی گھرانوں کی رمضان میں خاص روایت ہے۔ اس دوران مغرب اور بعدازاں تراویح بھی ادا کی جاتی ہے۔
انجینیئر خالد نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا  کہ جن کی بدولت مملکت میں مقیم شامی باشندے بہتر طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ مملکت کے شہری ہمارے ساتھ برادرانہ اور بہترین سلوک روا رکھتے ہیں۔
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: