Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اپوزیشن اتحاد میں  ابھی تک مولانا فضل الرحمان کیوں شامل نہیں ہوئے؟

اپوزیشن جماعتوں نے ’تحریکِ تحفظِ آئین‘ کے نام سے تحریک کا آغاز کیا ہے (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)
آٹھ فروری کے انتخابات سے جہاں پاکستان میں ایک اتحادی حکومت قائم ہوچکی ہے وہیں کئی جماعتیں ابھی تک نتائج تسلیم کو تیار نہیں ہیں۔
الیکشن کے فوری بعد تو خیبرپختونخوا میں مولانا فضل الرحمان، سندھ میں جی ڈی اے اور بلوچستان میں بی این پی مینگل سمیت متعدد جماعتوں نے کئی دن تک ان نتائج کے خلاف آواز بلند کی تاہم حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان جماعتوں کی سرگرمیاں بھی مانند پڑ گئیں۔
انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی دوسری بڑی کوشش ’تحریکِ تحفظِ آئین‘ کے نام سے تحریک کا آغاز ہے جس کی قیادت تحریک انصاف کر رہی ہے۔
اس اپوزیشن اتحاد میں باضابطہ شامل ہونے والی جماعتوں میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی، بی این پی مینگل، مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحاد کونسل، جے یو آئی شیرانی گروپ اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔
اس اتحاد کی قیادت محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں یہ اتحاد پشین اور چمن میں دو بڑے جلسے کر چکا ہے۔ البتہ سندھ اور پنجاب میں ابھی انہیں انتظامیہ کی طرف سے جلسوں کی اجازت نہیں ملی اور یہ معاملہ عدالتوں میں ہے۔
اہم بات ہے کہ ’تحریک تحفظ آئین‘ میں ابھی تک نہ تو مولانا فضل الرحمان باقاعدہ طور پر شامل ہوئے اور نہ ہی جی ڈی اے سمیت سندھی قوم پرست جماعتیں ابھی کھل کر اس اتحاد میں شامل ہوئی ہیں۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اپوزیشن اتحاد کا مستقبل کیا ہے اور اب اگلی حکمت عملی کیا ہے؟ اور مولانا فضل الرحمان اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بن رہے۔

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین نے اسلام آباد میں ایک سیمنار کا انعقاد بھی کرایا (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ان سوالوں کا جواب جاننے کے لیے اس اتحاد کے ترجمان اور کنوینیئر اخون زادہ حسین سے جب اردو نیوز نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اتحاد ہی مستقبل میں حقیقی جمہوریت کا ضامن ہے۔ ہم بہت تیزی کے ساتھ اپنے اہداف کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ کراچی کے جلسے میں سندھی جماعتوں اور بالخصوص جی ڈی اے نے کھل کر حمایت کا اعلان کرنا تھا لیکن اس جلسے کی اجازت نہیں دی گئی اور اب ہم سندھ ہائی کورٹ میں اپنا کیس لڑ رہے ہیں۔‘
انہوں نےاپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اسی طرح فیصل آباد میں جلسے کی اجازت انتظامیہ نہیں دے رہی ہم ہائی کورٹ میں یہاں بھی کیس دائر کر رہے ہیں۔‘
’جہاں تک مولانا فضل الرحمان صاحب کا تعلق ہے تو میں خود ان سے رابطے میں ہوں۔ گزشتہ ہفتے بھی ان سے رابطہ ہوا ہے اور اتحاد کے سربراہی اجلاس میں بھی سب مثبت تھے کہ مولانا ہمارے ساتھ ہی ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ مولانا کی ہچکچاہٹ کی وجہ کیا ہے؟ اخونزادہ حسین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ مولانا کی جماعت اور پی ٹی آئی ماضی میں ایک دوسرے کے شدید خلاف رہی ہیں۔ مولانا کا خیال ہے کہ فوری قربت بڑھانے کو شاید دونوں طرف کے کارکن ویسی قبولیت نہ دیں۔ اس لیے آہستہ سے معاملات آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔‘
 ’آپ دیکھیں مولانا کی حالیہ تقریروں کو ہمارے کارکن سوشل میڈیا پر سراہ رے رہے ہیں۔ میرا خیال ہے جلد یہ خوشخبری بھی ملے گی کہ مولانا اتحاد کا باقاعدہ حصہ بنیں گے۔‘
اس اپوزیشن اتحاد کی قیادت نے حال ہی میں لاہور کا دورہ کیا ہے اور مختلف تقاریب میں شرکت کی ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں بھی ایک سیمینار منعقد کیا ہے۔

تجزیہ کار وجاہت مسعود کے مطابق ’میرا خیال ہے وہ آسانی سے اس اپوزیشن اتحاد کا حصہ بھی نہیں بنیں گے۔‘ (فائل فوٹو: اسد قیصر، فیس بک)

یہ اتحاد کب حکومت کے خلاف موثر ثابت ہو گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’اس بات کا اصل دارومدار مولانا فضل الرحمان کی اس اتحاد میں باقاعدہ شمولیت طے کرے گی۔ یہ اتحاد کسی حد تک ایک مؤثر اپوزیشن کی آواز بن سکتا ہے۔ ابھی جو جماعتیں سامنے ہیں ان کی شاید وہ طاقت نہیں ہے سوائے تحریک انصاف کے لیکن وہ اور بہت سارے معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’دوسرا ان کے مؤثر ہونے کا دارومدار اس بات پر بھی ہو گا  کہ حکومت کیسے گورننس کرتی ہے۔ یا اگر معاشی بہتر نہ ہوئی تو اس کا فائدہ یقینی طور پر اپوزیشن اتحاد کو ہو گا۔ اور اس بات کے طے ہونے میں بھی ابھی کچھ وقت ہے کہ یہ حکومت ڈیلیور کر رہی ہے یا نہیں۔‘
کچھ ایسے ہی خیالات سیاسی تجزیہ کار وجاہت مسعود کے بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا ادراک سب کو ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنا وزن جس پلڑے میں بھی ڈالیں گے اس کو فائدہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے خود مولانا سے ایک طویل ملاقات کی ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان ایک زیرک سیاست دان ہیں وہ کوئی وقتی فائدہ تلاش نہیں کر رہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے وہ آسانی سے اس اپوزیشن اتحاد کا حصہ بھی نہیں بنیں گے اور وہ صرف انتظار کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔‘

شیئر: