بالی وڈ کی فلموں کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ جب آپ اسے دیکھنے جائیں تو اپنے دماغ کو گھر پر ہی چھوڑ دیں اور خوب لطف اندوز ہوں۔ بالی وڈ کی فلموں کی یہ شبیہ اگر کسی ایک شخص کا کارنامہ کہیں تو وہ شخص فلم ساز منموہن دیسائی نظر آتے ہیں۔
بمبئی کی فلمی دنیا محض کہانی سنانے کا ذریعہ نہیں رہی ہے بلکہ خواب بیچنے کا کاروبار زیادہ رہا ہے۔ وہاں اگر گرودت جیسے کہانی سنانے والے تھے تو وہیں ’سپنوں کے سوداگر‘ اور سب سے بڑے ’شو مین‘ کہے جانے والے راج کپور بھی تھے۔ لیکن اُس وقت ایک ہدایت کار نے اس جہان کے خواب کو رنگ، شور، موسیقی، آنسو اور قہقہوں کے ساتھ ایسا جوڑا کہ پورا ہندوستان اُس کے جادو میں مبتلا ہو گیا اور اس ہدایت کار کا نام منموہن دیسائی تھا۔
آج ہم انہیں اس لیے یاد کر رہے ہیں کہ وہ آج ہی کے دن یعنی 26 فروری 1937 کو بمبئی کے ایک فلمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد کیکو بھائی دیسائی فلم پروڈیوسر تھے اور فلموں میں اسسٹینٹ کے طور پر مشہور تھے۔
مزید پڑھیں
بچپن ہی سے سیٹ، کیمرہ اور لائٹس منموہن کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ مگر انہوں نے اپنے والد کے راستے پر چلنے کے بجائے ایک نیا راستہ اپنایا، ایک ایسا راستہ جس نے آگے چل کر ’مسالہ فلم‘ کی ایک باقاعدہ صنف کو متعارف کرایا۔
1960 اور 70 کی دہائی میں ہندی سنیما دو انتہاؤں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک طرف سنجیدہ سماجی ڈرامے تھے تو دوسری طرف ہلکی پھلکی رومانوی فلمیں تھیں۔ منموہن دسائی نے ان دونوں کے درمیان ایک پل تعمیر کیا۔ ان کے نزدیک فلم حقیقت کی نقل نہیں بلکہ تماشائی کے دل کی تسکین ہونی چاہیے۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ عام آدمی جب سنیما ہال میں آتا ہے تو وہ اپنی مشکلات دروازے پر چھوڑ کر آتا ہے، اس لیے پردے پر اُسے معجزہ دکھایا جانا چاہیے۔
ان کی پہلی فلم ’چھلیا‘ میں اس کی ایک جھلک نظر آتی ہے لیکن پھر انہوں نے شمی کپور کے ساتھ ’بلف ماسٹر‘ اور راجیش کھنہ کے ساتھ ’سچا جھوٹا‘ اور ’روٹی‘ میں اس صنف کو تقویت بخشی۔

اُن کی فلم ’امر اکبر انتھونی‘ میں یہ اعجاز اپنے عروج پر نظر آتا ہے جہاں تین بھائی، جو بچپن میں بچھڑ جاتے ہیں، بڑے ہو کر تین مختلف مذاہب میں پلتے ہیں اور آخرکار واپس آ ملتے ہیں۔
فلم ’وقت‘ میں بھی اس طرح کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اگرچہ حقیقت کی کسوٹی پر اس طرح کی کہانی شاید کمزور ہو، مگر جذبات کی سطح پر یہ بے حد طاقتور تھی۔
معروف اخبار دی انڈین ایکسپریس میں شائع ایک مضمون کے مطابق خود منموہن دسائی کو ابتدا میں خدشہ تھا کہ یہ فلم شاید زیادہ کامیاب نہ ہو، لیکن یہ سال کی سب سے بڑی ہٹ ثابت ہوئی اور آج بھی اسے مقبول سنیما کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسی فلم کا ’بلڈ ڈونیشن‘ والا منظر آج تک گفتگو کا موضوع بنتا ہے، جس میں تینوں بھائی ایک ہی وقت میں اپنی ماں کو خون دیتے ہیں۔ طبی اعتبار سے یہ منظر ناممکن تھا، مگر جذباتی اعتبار سے بے مثال پیشکش رہی۔
ایک انٹرویو میں امیتابھ بچن نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ منموہن دسائی منطق سے زیادہ ناظرین کے آنسوؤں اور تالیوں پر یقین رکھتے تھے۔

آپ دیکھیں تو منموہن دسائی کی کامیابی کسی ایک فلم تک محدود نہ تھی۔ فلم ’نصیب‘ میں قسمت اور اتفاقات کا بڑا کھیل نظر آتا ہے۔ فلم ’سچا جھوٹا‘ میں ڈبل رول کا تڑکا ہے تو دھرمیندر اور جیتندر کی اداکاری والی ہٹ فلم ’دھرم ویر‘ میں شاہی داستان اور ایکشن ہے۔
فلم ’پرورش‘ میں خاندان اور اقدار کا تصادم دکھایا گیا ہے جبکہ فلم ’روٹی‘ میں جرم اور اصلاح کی کہانی کو پیش کیا گيا۔ ہر جگہ ان کے اسی مسالے کی جلوہ گری ہے یعنی جذبات کی شدت، گیتوں کی بھرپور موجودگی، ماں کا مقدس رشتہ، اور بچھڑے خاندان کا ملاپ۔
رچل ڈوائر اور نصرت فاطمہ جیسے فلمی مورخین اور ناقدین نے لکھا ہے کہ منموہن دسائی نے انڈین سنیما میں ’لوسٹ اینڈ فاؤنڈ‘ کے بیانیے کو مقبول ترین فارمولا بنا دیا۔ یہ بیانیہ دراصل تقسیم، ہجرت اور معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کے اجتماعی تجربے سے جڑا ہوا تھا، جسے انہوں نے عوامی تفریح میں ڈھال دیا۔
منموہن دیسائی کے پیش کردہ ان پہلوؤں پر کئی تحقیقی مضامین برطانوی فلم جرنلز اور انڈین اکیڈمک مطبوعات میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔













