’ہلنا بھی مشکل ہو گیا تھا‘، اداکارہ راکُل پریت سنگھ نے ہائی ہیلز پہننا کیوں چھوڑا؟
’ہلنا بھی مشکل ہو گیا تھا‘، اداکارہ راکُل پریت سنگھ نے ہائی ہیلز پہننا کیوں چھوڑا؟
جمعہ 27 فروری 2026 8:26
راکُل پریت سنگھ نے کہا کہ پیشہ ورانہ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ (فائل فوٹو: فیمنا)
انڈین اداکارہ راکُل پریت سنگھ نے فیشن میگزین ایل انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے کیریئر کو سنوارنے والے نظم و ضبط اور اُن جسمانی مشکلات کا ذکر کیا جنہوں نے اُن کے حوصلے کو آزمایا۔
18 برس کی عمر میں بغیر کسی فلمی پس منظر کے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھنے والی راکُل نے کہا کہ ابتدا ہی سے اُن کے ذہن میں ایک بات بالکل واضح تھی کہ ’کچھ لوگ مجھ سے زیادہ خوب صورت تھے، کچھ مجھ سے زیادہ باصلاحیت تھے، لیکن کوئی بھی مجھ سے زیادہ محنت نہیں کرے گا۔ میرا کام ہی میری عبادت ہے۔‘
اُن کے مطابق پیشہ ورانہ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
’اگر میں نے کہا ہے شام چار بجے، تو مطلب چار ہی بجے۔ اگر میں نے کہا ہے کہ بال اور میک اپ میں ڈیڑھ گھنٹہ لگے گا، تو وہ ڈیڑھ گھنٹہ ہی ہو گا۔ میں کسی اور طریقے سے کام کرنا جانتی ہی نہیں۔‘
تاہم اُن کے اس پیشہ ورانہ انداز کو اُس وقت بڑا دھچکہ لگا جب کمر کی شدید چوٹ کے باعث وہ قریباً حرکت کرنے سے محروم ہو گئیں۔ قریباً ایک برس تک راکُل پریت سنگھ ہر جگہ اپنے فزیوتھراپسٹ کے ساتھ سفر کرتی رہیں اور شوٹنگ، فلائٹس اور پروموشنل سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ روزانہ بحالی کی مشقیں بھی جاری رکھیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ ’یہاں تک کہ میلبرن میں بھی 14 گھنٹے کے طویل دن کے بعد میں تیراکی کرتی یا اپنی ری ہیب مکمل کرتی تھی۔ میں اپنی ٹیم سے کہتی تھی کہ ’مجھے شام میں ایک گھنٹہ دے دیں، مجھے یہ کرنا ہے۔‘ کیونکہ یہ لمبے عرصے تک کام کرنے کے لیے ہے۔ میں یہاں وقتی طور پر نہیں آئی۔‘
راکُل پریت سنگھ کے پیشہ ورانہ انداز کو اُس وقت بڑا دھچکہ لگا جب کمر کی شدید چوٹ کے باعث وہ قریباً حرکت کرنے سے محروم ہو گئیں (فائل فوٹو: ووگ انڈیا)
راکُل نے انکشاف کیا کہ اُونچی ایڑی کے جوتوں کے جسمانی ساخت اور ریڑھ کی ہڈی پر طویل المدتی منفی اثرات جاننے کے بعد انہوں نے زیادہ تر ہیلز پہننا ترک کر دیا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ ایک برس کے دوران میں نے سیکھا ہے کہ ہیلز پہننے سے خواتین کا جسم مسلسل آگے کی جانب جُھکا رہتا ہے۔ یہ آپ کے لیے نقصان دہ ہے، لیکن ہم پھر بھی اسے فیشن کا اصول قرار دیتے ہیں۔ کیوں؟ کس نے فیصلہ کیا کہ درد کو قابلِ خواہش سمجھا جائے؟‘